• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی 7.8 ارب ڈالرز کی کرپٹو معیشت کو جنگ بندی کے بعد ترقی کا نیا راستہ مل گیا: امریکی اخبار

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر عائد ٹرانزٹ ٹول کرپٹو کرنسی میں وصول کرنا چاہتا ہے جس کا مقصد پابندیوں اور مالیاتی نگرانی سے بچنا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر کرپٹو کرنسی میں ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کے مطالبے نے ملک کی 7.8 ارب ڈالرز کی کرپٹو معیشت اور مرکزی مالیاتی نظام سے باہر کام کرنے والی ریاستوں کے لیے ڈیجیٹل کرنسی کے کردار پر نئی روشنی ڈالی ہے۔

ایران کی آئل، گیس اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات برآمد کرنے والی یونین کے ترجمان حمید حسینی نے امریکی اخبار کو بتایا ہے کہ ایران اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے ٹینکروں سے فی بیرل 1 ڈالر کے حساب سے فیس وصول کر رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایران چاہتا ہے کہ یہ ادائیگیاں کرپٹو کرنسی میں کی جائیں تاکہ پابندیوں کے باعث ان کی نگرانی نہ کی جا سکے یا انہیں ضبط نہ کیا جا سکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پاسدارنِ انقلاب اور اس سے منسلک گروہ تجارتی سرگرمیوں، اسلحے اور دیگر اشیاء کی خریداری کے لیے کرپٹو کرنسی کا استعمال کرتے ہیں۔

بڑی تجزیہ کار کمپنی چینالیسس کے مطابق اس شعبے کی نصف سے زائد سرگرمیاں انہی مقاصد کے لیے کی جا رہی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے مرکزی بینک نے کم از کم 507 ملین ڈالرز مالیت کی ٹیتھر کرپٹو کرنسی بھی حاصل کر لی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید