جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبی گزرگاہ سے تیل بردار جہازوں نے بغیر اجازت گزرنے کی کوشش کی تو انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے ایک ریڈیو پیغام تمام تیل بردار جہازوں کے لیے جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نقل و حمل اجازت سے مشروط ہے۔
ایران آبی گزرگاہ سے جہازوں کو گزارنے کے لیے فیس وصول کرے گا، تیل کی قیمت 1 ڈالر فی بیرل ہو گی تاہم خالی ٹینکرز آزادانہ طور پر گزر سکتے ہیں۔
دعوی کیا جا رہا ہے کہ ایران کرپٹو کرنسی میں ادائیگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک مستقل پیچیدہ مسئلہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمندری ٹریفک کے آزادانہ بہاؤ کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
ایران کی تیل، گیس اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات برآمد کنندگان کی یونین کے ترجمان حامد حسینی نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو آبنائے کے اندر اور باہر جانے والی چیزوں کی نگرانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ جنگ بندی کے دو ہفتے ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے استعمال نہ ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہر جہاز کو پہلے اپنے کارگو کے بارے میں حکام کو ای میل کرنا ہو گی، جس کے بعد ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل انہیں ڈیجیٹل کرنسیوں میں ادا کیے جانے والے ٹول کے بارے میں آگاہ کرے گی۔