• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں نے اس امریکی قانون میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے جسکے ذریعے کسی غیر ملکی فلاحی ادارے کی مدد یا مالی اعانت کرنے پر دہشت گردی کے قانون کے تحت جیل بھیجا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنا اسلام میں فرض ہے اور ان کی اس عبادت کے حق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے شہر ی حقوق کیلئے کام کرنیوالی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کو مدد فراہم کرنے کا امریکی قانون اتنا غیر واضح اور پیچیدہ ہے کہ اسکی وجہ سے افراد اور تنظیمیں اپنی مالی امداد کے استعمال کا ریکارڈ رکھنے کا نا ممکن کام سر انجام نہیں دے سکتیں اور ان تنظیموں کے بقول اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سے امریکی مسلمان دیگر مسلمان ملکوں میں خیرات کے طور پر بھی رقم بھیجنے میں ہچکچاہٹ کا شکارہیں کہ کہیں یہ رقم دہشت گردی کے ساتھ منسلک نہ کر دی جائے اور ایسا صرف روپے پیسے کے معاملے میں نہیں بلکہ کسی بھی طرح کی مدد اس قانون کی زد میں آ سکتی ہے خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنیوالی ایک تنظیم ’’کراماہ‘‘ سے وابستہ وکیل ابوسی کا کہنا ہے کہ کراماہ افغانستان میں لڑکیوں کے اسکول کی مدد کرنا چاہتی تھی لیکن ہمیں یہ تک معلوم نہ ہو سکا کہ اسکول کی مدد کرنا قانونی طور پر صحیح ہے یا نہیں؟ اس قانونی پیچیدگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اس منصوبے پر عمل نہ کر سکے اور اسکول کیلئے اشیاء افغانستان نہ بھیج سکے۔امریکہ کے مالیاتی قوانین بلکہ خود امریکی آئین کے مطابق حکومت امریکہ کو یا امریکہ کے کسی بھی ادارے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ امریکی شہریوں سے ان کے مذہبی تشخص کی بنیاد پر غیر مساوی سلوک کرے اور مذہب کی بنیاد پر ان پر پابندیاں عائد کرے یا ان کی آمدنی کے ذرائع و وسائل معلوم کرے ۔ کیا سبب ہے کہ امریکہ کے لگ بھگ 10لاکھ مسلمانوں کیساتھ حکومت کے مالیاتی ادارے، سکیورٹی ادارے اور دوسرے سرکاری و غیر سرکاری ادارے مذہبی بنیاد پر غیر مساوی سلوک کر رہے ہیں اسکا واضح جواب میری نظر میں یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد ہر مسلمان وہاں مشکوک ہو گیا ہے یہی سبب ہے کہ امریکہ میں آج محمد، احمد ،علی ،خان اور اسی جیسے دوسرے اسلامی ناموں والے افراد سے غیر معمولی احتیاط برتی جاتی ہے اور ہر موقع پر انکو اپنی شناخت کی تصدیق کرانے کا مسئلہ درپیش ہے۔ ایک برطانوی نشریاتی ادارےکی رپورٹ کے مطابق امریکی مسلمانوں کی قومی سطح پر نمائندگی کرنے والی تنظیم ’’کونسل آف امریکن مسلم ریلیشنز‘‘نے رقم کی ترسیل کا کاروبار کرنیوالی سب سے بڑی کمپنی ویسٹرن یونین پر الزام لگایا ہے کہ وہ بلا وجہ مسلمان گاہکوں کو ہراساں اور انکی رقوم ضبط کر رہی ہے تنظیم کا کہنا ہے کہ اسے کچھ عرصہ سے مسلمان شہریوں کی طرف سے انکی رقوم کو ناجائز آمدن کا کہہ کر ضبط کیے جانے کی شکایت موصول ہو رہی ہے اور یہ بھی کہ محمد، احمد، علی اور خان جیسے ناموں کے حامل افراد سے انکے مذہب رہائش کاروبار ذرائع آمدن اور قومی شناخت کے بارے میں پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے تنظیم نے اسے مذہبی پروفائلنگ کا نام دیا ہے۔

یاد رہے کہ ویسٹرن یونین کا اربوں ڈالر کا کاروبار دنیا کے 100سے زائد ملکوں میں پھیلا ہوا ہے رقوم کے ضبط کیے جانے کے واقعات کی نشاندہی کرتے ہوئے تنظیم کی ایک عہدیدارحدان حسن نے بتایا کہ چند روز قبل ایک سیاہ فارم امریکی محمد علی نے جب نیویارک سے شگاگو میں اپنے ایک رشتہ دار کو بھجوانے کیلئے رقم ویسٹرن یونین میں جمع کرائی تو کچھ ہی گھنٹے بعد انہیں کمپنی کی ایک اہلکار نے فون کیا کہ چونکہ آپکا نام ’محمد‘ ہے اس لیےاپنی تصویر مہیا کریں محمد علی نے جواباً احتجاج کیا اور کہا کہ وہ رقم واپس لینا چاہیں گے لیکن ویسٹرن یونین نے ان کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تصویر دیے بغیر وہ اپنی رقم واپس نہیں لے سکتے۔کمپنی کی ترجمان نے میڈیا کے نمائندے کو بتایا کہ محمد علی کی رقم ضبط کیے جانے کا عمل امریکی قوانین اور قواعد کے مطابق ہے جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا ان قوانین و قواعد کا اطلاق صرف محمد، احمد، علی اور خان نامی لوگوں پر ہوتا ہے تو اس نے کہا کہ ویسٹرن یونین رقوم کی ترسیل کا کاروبار وزارت خزانہ سے جاری کی گئی ہدایات کے مطابق کرتی ہے تا ہم اس نے اعتراف کیا کہ اسکے پاس حکومت کی طرف سے دی گئی ایک واچ لسٹ موجود ہے ترجمان نے بتایا کہ جب کمپیوٹر سسٹم کسی گاہک کے واچ لسٹ میں درج نام کی شناخت کرتا ہے تو قانون کے مطابق ان پر لازم ہے کہ وہ اس گاہک کی رقم ضبط کر لیں۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ ویسٹرن یونین پیٹریاٹ ایکٹ کے نفاذ سے پہلے بھی رقم بھیجنے والے افراد کی چھان بین کرتی تھی امریکی کانگریس نے جب پیٹریاٹ ایکٹ پاس کیا تو ہمیں حکم دیا گیا کہ رقوم بھیجنے والی کمپنیوں پر لازم ہے کہ حکومت کی واچ لسٹ کو اپنے کمپیوٹر سسٹم میں شامل کریں یہی وجہ تھی کہ محمد علی کا پہلا اور آخری نام (محمد اور علی) واچ لسٹ میں شامل تھا مسٹر محمد علی کی تصویر مہیا کرنے کے ایک دن بعد ان کی رقم واپس لوٹا دی گئی ۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں جب نجی طور پر کام کرنیوالےمالیاتی اداروںاور کمپنیوں کو امریکی حکومت نے مسلم شناخت والے افراد کی سخت جانچ پڑتال کی ہدایت کر رکھی ہے اور ان کو ایسے ناموں کی لسٹ بھی فراہم کر رکھی ہے تو خود حکومت کے سرکاری محکموں اور اداروں میں کیا ہو رہا ہوگا ؟میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے!

تازہ ترین