تاریخ کا مزاج عجب ہے۔ یہ بسا اوقات ہنگاموں میں جنم لیتی ہے مگر اپنی تکمیل سکوت میں پاتی ہے۔ اسی طرح کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہرسادہ اورخاموش محسوس ہوتے ہیں لیکن پھر ان فیصلوں کی بازگشت زمانے کی پیشانی پر لکھی ہوئی تقدیر بن جاتی ہے۔
ایران،اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی بھی ایک ایسا ہی باب ہے جس میں بارود کی بواور تپش کےساتھ حکمت کی خوشبو اور ٹھنڈک بھی ہمرکاب بن کرچلتے رہے۔یہ تصادم دراصل جغرافیہ کا جھگڑا نہیں تھا۔ یہ فکر ،وقاراور عالمی توازن کا سوال تھا۔
خلیج فارس کے پانی ان دنوں کچھ اور ہی کہانی سنا رہے تھے۔ لہروں میں ایک بے چینی تھی۔جیسے سمندر بھی کسی ان دیکھے طوفان کا اندیشہ محسوس کر رہا ہو۔ آبنائے ہرمز، جو بظاہر ایک جغرافیائی راستہ ہے۔ اچانک دنیا کی توانائی، معیشت اور بقا کی علامت بن جاتاہے۔ جب اس راستے پر خطرے کے سائے منڈلانے لگے تو دنیا نے پہلی بار اتنی شدت سے محسوس کیا کہ اس کی رگوں میں دوڑتا ہوا ایندھن کس قدر نازک راستوں سے گزرتا ہے۔
ان چند دنوں میں جب افواہیں حقیقت کا روپ دھارنے لگیں اور خدشات یقین میں بدلنے لگےتو عالمی منڈیوں نے اضطراب کی زبان اختیار کر لی۔ تیل کی قیمتیں جو معیشت کی نبض ہوتی ہیں یکایک تیز دھڑکنے لگیں۔ ایک عام اندازےکےمطابق خام تیل کی قیمت میں 10سے 15فیصد تک اضافہ ہوا۔یہ اضافہ اعداد کا کھیل نہ تھا بلکہ کروڑوں انسانوں کے بجٹ، خوابوں اور روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہونے والی حقیقت تھی۔
یورپ کی صنعتیں، ایشیا کی فیکٹریاں اور افریقہ کے بازارسب اس غیر یقینی کی صورتحال کے دائرے میں مقید ہونےلگے۔ کہیں ایندھن کی قلت کا اندیشہ، کہیں ترسیل کے نظام میں تعطل اور کہیں مہنگائی کی ایک نئی لہر۔ ایسےلگتا تھا جیسے ایک محدود جغرافیائی کشیدگی نے پوری دنیا کو ایک نادیدہ زنجیر میں جکڑ لیا ہے۔
جہاں تک عسکری اور مالی نقصانات کا تعلق ہے اگرچہ یہ جنگ پوری شدت سے برپا نہ ہو سکی۔پھربھی اس کے سائے نے ہی دونوں اطراف کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر دیا۔ ایران کی بعض حساس تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ دفاعی ڈھانچے پر دباؤ بڑھااور معیشت کو ایک نئے امتحان سے گزرنا پڑا۔ دوسری جانب دو اتحادیوں امریکہ واسرائیل کو اپنی عسکری موجودگی میں اضافہ، حفاظتی اقدامات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے اربوں ڈالر کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ یہ وہ اخراجات تھے جو بسا اوقات جنگ سے پہلے ہی جنگ کی قیمت وصول کر لیتے ہیں۔ اس داستان کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جو عموماً نظروں سے اوجھل رہتا ہے یعنی تدبر کی وہ خاموش لہر جو طوفان کا رخ موڑ دیتی ہے۔
اسی مقام پر پاکستان کا کردار ایک سنجیدہ اور متوازن قوت کے طور پر ابھرتا ہے۔ پاکستان جو تاریخ کے کئی نشیب و فراز دیکھ چکا ہے۔ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ جنگ کا انجام ہمیشہ فتح نہیں بلکہ بسا اوقات پشیمانی بھی ہوتا ہے۔ یہی ادراک اسے اس قابل بناتا ہے کہ وہ بحران کے لمحات میں فقط تماشائی نہ رہے بلکہ ایک ذمہ دار فریق کے طور پر آگے بڑھے۔
اسلام آباد کی فضا میں ان دنوں ایک غیر مرئی سرگرمی جاری تھی۔ سفارت کار، پیغامات، رابطےیہ سب ایک ایسے جال کی مانند تھے جو بکھرتے ہوئے حالات کو سمیٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پاکستان نے نہایت خاموشی اور غیر معمولی سنجیدگی کے ساتھ، تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا۔یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک دردمند ثالث دو متحارب فریقین کے درمیان بیٹھ کر نہ صرف ان کے الفاظ کو سن رہا ہو بلکہ ان کے پیچھے چھپے ہوئے خوف اور خدشات کو بھی سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
اسی دوران چین، روس، ترکی،مصر اور کئی دوسرے پرامن خلیجی ممالک نے بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن بلاشبہ پاکستان نے اس موقع پر جو کردار ادا کیاوہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی مؤقف کی عکاسی ہے۔اس جنگ کےچھڑنے سے کچھ گھنٹےقبل انڈین وزیراعظم مودی نےاسرائیل کادورہ کیاتھااورصہیونی وزیراعظم سے مل کر پاکستان کےخلاف حسب روایت کئی سازشیں سوچی ہونگی لیکن آج پاکستان کی بھرپور سفارتی حکمت عملی کےسبب مودی کےان ناکام خوابوں کابھی شیرازہ بکھر چکا ہے۔