نئے ہزاریے کے آغاز کے ساتھ ہی نائن الیون ہوا اور نائن الیون کے نتیجے میں اس خطے میں وار آن ٹیرر کے شعلے بھڑک اٹھے۔ پاکستان میں دہشت گردی کا ایک وحشتناک دور شروع ہوا دو دہائیوں تک پاکستان کے نام کیساتھ دہشت گردی ،بد امنی جیسے لفظ جڑ گئے ہم اس نسل میں سے ہیں جنہوں نے اس سارے خوفناک وقت کو اپنے اوپر جھیلا اورخود کش حملوں پر مبنی ایک خوفناک ، بے چہرہ جنگ میں اسکولوں ، مسجدوں چوکوں، چوراہوں اور شاہراہوں کو مقتل میں ڈھلتے دیکھا۔ خود کش حملے اتنے تواتر سے ہوتے تھے کہ پاکستان ایک ایسے ملک کی حیثیت سے دنیا بھر میں جانا جانے لگا کہ عالمی منظر نامے میں گرین پاسپورٹ رکھنے والوں کو کئی جگہوں پر سبکی کا سامنا کرنا پڑتا۔کون سوچ سکتا تھا کہ حالات بدلیں گے اور وہی قرضوں میں ڈوبا، دہشت گردی کے زخم سہلاتا پاکستان امن کا داعی بن کر دنیا کو اس وقت امن و آشتی کا پیغام دیکر جنگ کے اندھیروں میں امید کی شمع روشن کرئیگا جب دنیا تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر کھڑی ہوگی۔جس وقت یہ کالم لکھا جارہا ہے دارالحکومت اسلام آباد میں امن کے مکالمے کیلئے ایران اور امریکہ سے انتہائی ہائی پروفائل وفد پاکستان پہنچ رہا ہے۔ اس امن مکالمےکیلئےامریکہ کے نائب صدر جی ڈی وینس کا پاکستان پہنچنا بھی غیر معمولی ہے۔جنگ کے دونوں فریقین کو امن مکالمے کی میز تک لانے کی کٹھن مگر کامیاب کوششوں کے نتیجے میںپوری دنیا کا میڈیا پاکستان کے نام سے گونج رہا ہے فیلڈ مارشل عاصم منیر ،وزیر اعظم شہباز شریف،وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی پرخلوص ماہرانہ سفارتی کوششوں کو سراہا جارہا ہے۔
ایران امریکہ اسرائیل جنگ کے بھڑکتے شعلوں کو روکنے اور امن کو ایک موقع دینے کیلئےپاکستان شروع دن سے ہی اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے تھا اور آغاز سے ہی پاکستان کی کوشش تھی کہ اس جنگ کو بڑھنے سے روکا جائے لیکن یہ جنگ جس اسکیل پر جا چکی تھی پوری دنیا کا امن داؤ پہ لگ چکا تھا امریکہ اور اسرائیلی حملوں نے ایران کے اسکولوں کالجوں جامعات صنعتوں بجلی گھروں تک کو نشانہ بنایا ۔ایران کی اعلیٰ ترین قیادت اس جنگ میں شہید ہوئی۔ ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے تکلیف دہ تھی۔ حیرت تو یہ ہے کہ ایران کا سامنا اس خطے کی سب سے بڑی عسکری طاقت کے ساتھ تھا اسکے باوجود ایران اس جنگ میں جس طرح کھڑا رہا ،جوابی حملے کیے ،جس جرات کے ساتھ سروائیو کیا اس جرات اور حوصلے نے دشمن کو بھی اندر سے دہلا دیا شاید یہی وجہ تھی کہ مارچ کے آخری ہفتوں میں یہ خبریں آنے لگیں کہ ٹرمپ جلد از جلد ایران جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں وہ اس جنگ کو طویل نہیں کرنا چاہتے ٹرمپ کے بیانات سے اس کے اندر کی الجھن اورفرسٹریشن کا اندازہ پوری دنیا کو ہونے لگا۔ اسی فرسٹریشن کے عالم میں ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کیا جس میں ایران کی صدیوں پرانی تہذیب کو ختم کر دینے کا اعلان کیا ۔ادھر دلیر ایرانی قوم اپنی جانوں کو ہتھیلی پہ رکھےانسانی زنجیر کی صورت اپنے قومی اثاثوں کے گرد ڈھال بن کرکھڑی ہوئی اس منظر نے دنیا کو چونکا دیا اور اپنی عسکری طاقت پرگھمنڈ کرنے والا دشمن ایرانیوں کی اس غیر معمولی دلیری پردہل گیا ۔
امریکہ کے ایرانی تہذیب کو تباہ و برباد کرنے کے الٹی میٹم میں صرف 90 منٹ رہ گئے تھے۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر آکر کہا کہ ہم ایران کے ساتھ جنگ بندی کی بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ایکس پر لکھاکہ میں اس بات کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان فوری طور پر جنگ بندی ہو گئی ہے اس میں لبنان بھی شامل ہے اور ہم بات چیت کیلئے جمعہ کوفریقین کو پاکستان میں بلا رہے ہیں ۔کیا یہ کمال نہیں کہ پاکستان نے بیک وقت امریکہ ایران سعودی عرب اور چین کا اعتماد حاصل کیا۔امریکہ کو ایک ایسے امن کے داعی کی تلاش تھی جس پر اعتبار کیا جاسکے جو اس نازک صورتحال میں کسی قسم کی اسٹرٹیجک موقع پرستی کا مظاہرہ نہ کرے
ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے ہمارا برادر اسلامی ملک ہے یہاں جنگ کے شعلے بھڑکتے رہے تو اس کی آنچ پاکستان تک بھی پہنچتی ۔ایران میں امن ہونا پاکستان کے اور خطے کے معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
پاکستان نے بین الاقوامی سفارت کاری میں مہارت، چابک دستی اور توازن کی انتہائی اعلیٰ مثال قائم کی ،سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور ایران کے ساتھ اپنے مذہبی اور تہذیبی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امن کی ثالثی کا کردار ادا کرنا شروع کیا۔ امریکہ کو بھی مطمئن کرنا آسان نہیں تھا یہ انتہائی مشکل راستہ تھا بالکل ایسے ہی جیسے کبھی لکی ایرانی سرکس میں دیکھا تھا کہ تنے ہوئے رسے پر ایک بازی گر لڑکھڑاتےہوئے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک چلتا ہے تو تماشائی اپنا سانس لینا بھول جاتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ بازی گر ابھی گرا کہ ابھی گرا ،ماہر بازی گرتنے ہوئے رسے پر چل کر ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچ جاتا ہے تو تماشائی بے یقینی کے عالم میں تالیاںپیٹنے لگتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی دنیا والے پاکستان کو سفارتی کاری کے ماہر بازی گر کے طور پر دیکھ رہے ہیں اورتنے ہوئے رسے پر چلنے والی غیر معمولی مہارت پر بے یقینی کے عالم میں تالیاں پیٹ رہے ہیں۔دعا ہے کہ پاکستان امن مکالمے کی میزبانی کو بہترین طریقے سے نبھائے اور اسلام آباد میں ہونے والے امن مکالمے کو کامیابی ملے۔ جنگی کشیدگی کے الجھے ہوئے ریشم ہوسکتا ہے ایک نشست میںنہ سلجھ پائیں لیکن امن کی بات چیت جاری رہے اور عارضی جنگ بندی مستقل جنگ بندی میں ڈھل جائے تو یہی کامیابی ہے۔