• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ برس لاہور میں اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک پروقار عشائیہ منعقد ہوا جس میں پاکستان کے معروف صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ بطور مہمانِ مقرر شریک تھے۔ اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے ایک جملہ کہا جو بظاہر سادہ مگر اپنے اندر گہری معنویت رکھتا تھا کہ ’’اس ملک کے بگاڑنے اور سنوارنے میں اولڈ راوینز کا بہت بڑا ہاتھ ہے‘‘۔ یاد رہے کہ گورنمنٹ کالج لاہور کے طلبہ کو راوین کہا جاتا ہے۔ انکے اس جملے نے محفل میں موجود شخصیات جن میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور قائد حزب اختلاف علی ظفر بھی شامل تھے کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک فکری چیلنج تھا۔ بطور ایک سابق راوین، میں نے بھی خود سے سوال کیا کہ کیا واقعی اس ادارے کا کردار اتنا ہی گہرا ہے جتنا بیان کیا گیا؟ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی قومی قیادت میں راوینز کی نمایاں موجودگی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک فکری تسلسل کا نتیجہ ہے۔ موجودہ حکومتی ڈھانچے میں وزیراعظم، ڈپٹی وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ سمیت متعدد اہم عہدوں پر فائز شخصیات اسی ادارے سے وابستہ رہی ہیں، جو اسکی علمی روایت اور کردار سازی کی روشن مثال ہے۔ اگر اس نکتے کو مزید وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کالج لاہور محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک ایسی فکری درسگاہ ہے جہاں سے نکلنے والے افراد نے ریاستی ڈھانچے، پالیسی سازی اور قومی بیانیے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ادارے کی روایت محض ڈگری تک محدود نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک طرزِ فکر اور ایک قومی ذمہ داری کے احساس سے جڑی ہوئی ہے۔ عالمی حالات کے تناظر میں اس سوال کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ عالمی طاقتیں کسی بھی مسلم ملک کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کیلئے ہر ممکن حد تک جا سکتی ہیں۔ ایسے میں جب ہم پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ اسکا ایٹمی پروگرام کسی جارحانہ عزائم کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر دفاعی ضرورت تھا۔سقوطِ ڈھاکہ کے بعد پاکستانی قیادت پر یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ روایتی جنگی طاقت کے ذریعے ایک بڑے حریف کا مقابلہ ممکن نہیں رہا۔ 1965ء کی جنگ کے بعد ڈاکٹر منیر احمد خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو مشورہ دیا کہ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنی چاہیے۔ اگرچہ ایوب خان نے اس وقت اس تجویز کو تسلیم نہ کیا، مگر 1972ء میں ڈاکٹر منیر احمد خان کی قیادت میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے ایک منظم پروگرام کا آغاز کیا جس نے آگے چلکر پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دیا۔ یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیساتھ ساتھ ایک پوری سائنسی ٹیم نے خاموشی سے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں کردار ادا کیا۔ اس سائنسی نرسری میں گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل افراد کا کردار نہایت نمایاں تھا۔ ان میں ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر اشفاق احمد، ڈاکٹر ثمر مبارک مند، ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری اور ڈاکٹر محمد حفیظ قریشی جیسے نام شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مضبوط سائنسی بنیاد فراہم کی۔ یہ فہرست محض چند افراد تک محدود نہیں بلکہ سینکڑوں ایسے گمنام راوینز پر مشتمل ہے جنہوں نے لیبارٹریوں اور پہاڑوں کے اندر دن رات کام کر کے اس قومی خواب کو حقیقت بنایا۔ 1998 ء میں جب پاکستان نے عالمی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے ایٹمی دھماکے کئے تو اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف بھی اسی ادارے کے فارغ التحصیل تھے۔ یہ دھماکے محض سائنسی کامیابی نہیں بلکہ قومی خودمختاری اور جرات کا اعلان تھے۔ مئی2025ء میںپاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ ایٹمی ڈیٹرنس ہی خطے میں امن کی اصل ضمانت ہے۔ جب حالات انتہائی کشیدہ تھے تب بھی جنگ کا نہ ہونا اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ نہ تو اس نے کبھی جارحیت کا راستہ اپنایا اور نہ ہی عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ یہی توازن اسے ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر دنیا میں منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کیساتھ پاکستان کے تعلقات میں ایک غیر علانیہ دفاعی پہلو بھی شامل ہے جسکے تحت پاکستان کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشمکش کے باوجود پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر اپنا مقام مستحکم کیا ہے۔ یہ تمام حقائق ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتے ہیں کہ اگر پاکستان ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو نہ اسکی خودمختاری محفوظ ہوتی اور نہ ہی عالمی سطح پر اس کا وقار قائم رہتا۔ اس تناظر میں گورنمنٹ کالج لاہور کا کردار محض ایک تعلیمی ادارے تک محدود نہیں بلکہ ایک فکری تحریک کی حیثیت رکھتا ہے جس نے قوم کو دفاعی اور فکری دونوں محاذوں پر مضبوط کیا۔

یہ ادارہ 1864 ء سے علمی روایت کو پروان چڑھا رہا ہے اور اسکی تربیت یافتہ نسلوں نے خاموشی سے قومی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایٹمی پروگرام کی کامیابی دراصل اسی علمی روایت کی کامیابی ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔بطور ایک راوین، یہ باعث فخر ہے کہ اس ادارے کے سپوتوں نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنایا۔ آج جب ہم ایٹمی پاکستان کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ان اساتذہ اور علمی ماحول کو بھی یاد رکھنا چاہئے جس نے حب الوطنی اور سائنسی تحقیق کا ایسا امتزاج پیدا کیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس ادارے کے کردار کو نہ صرف تسلیم کیا جائے بلکہ قومی بیانیے اور نصاب میں بھی اس کو مناسب مقام دیا جائے تاکہ آنیوالی نسلیں اپنی تاریخ اور اسکے معماروں سے آگاہ ہو سکیں۔

تازہ ترین