امریکا میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آئندہ مذاکرات ناکام ہوں گے، اسرائیل کو فیصلہ سازی تک رسائی دینا مذاکرات کے لیے نقصان دہ ہے۔
اپنے بیان میں جو کینٹ نے کہا کہ ایران نے 2003 سے نیوکلیئر ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اظہار کر چکا ہے، امریکا کو اپنی پالیسی میں اپنے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے اور اسرائیل کو ایک ’جونیئر پارٹنر‘ کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ فیصلہ کن حیثیت دینا چاہیے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ امریکا کے اعلیٰ انسدادِ دہشتگردی عہدیدار جو کینٹ نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر اختلاف کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
اپنے استعفے میں جو کینٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ضمیر کے مطابق اس جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔
انہوں نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایران امریکا کےلیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا اور یہ جنگ اسرائیل اور اس سے منسلک بااثر لابیز کے دباؤ کے باعث شروع کی گئی۔
واضح رہے کہ جو کینٹ ایک سابق امریکی اسپیشل فورسز اہلکار ہیں، جنہوں نے متعدد جنگی مشنز میں حصہ لیا، جبکہ بعد ازاں وہ سی آئی اے سے بھی وابستہ رہے۔ انہیں چند ماہ قبل ہی سینیٹ کی منظوری کے بعد نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔