امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ بہت سی باتوں پر سمجھوتہ ہوچکا تھا، یورینیم کے معاملے پر بات نہ بن سکی، جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر نے اچھے مذاکرات کیے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو امریکی صدر نے کہا ہے کہ ہم کسی ملک کو بلیک میل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، ایران نے پیغام بھیجا تھا کہ وہ بے تابی سے ڈیل چاہتے ہیں۔
میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں بہت سی باتوں پر سمجھوتا ہوچکا تھا، یورینیم معاملے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی وفد نے اچھے جبکہ ایران نے برے طریقے سے مذاکرات کیے، ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ ہم کسی ملک کو بلیک میل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز آبنائے ہرمز سے 34 جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی۔ دنیا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ہے، جس کی ناکہ بندی شروع کردی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس سعودی عرب اور روس سے زیادہ تیل کے ذخائر ہیں، دنیا کے بہت سے ملکوں کے جہاز اس وقت تیل لینے امریکا آرہے ہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ متعدد سامان اور تیل بردار بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کیا، کئی ممالک نے رابطہ کرکے ایران کی ناکا بندی میں مدد کرنے کی پیشکش کی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایران کی ناکا بندی کے لیے کسی ملک کی مدد کی ضرورت نہیں، ایران کے افزودہ یورینیم کو کسی نہ کسی طرح حاصل کر لیں گے۔