ایرانی پاسداران انقلاب کی انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ناممکن جنگ یا خراب ڈیل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے مستقل خاتمے کیلئے جامع تجویز پیش کی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں پاسداران انقلاب کے انٹیلیجنس ونگ نے کہا کہ امریکا اس معاملے سے نکلنے کیلئے فیس سیونگ چاہتا ہے، ایران نے اس تجویز کے ذریعے معاملہ دوبارہ ٹرمپ کے سامنے رکھ دیا ہے، پینٹاگون کو ناکہ بندی سے متعلق ڈیڈ لائن دی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ چین، روس اور یورپ کا واشنگٹن کے خلاف لہجہ بدل رہا ہے، امریکا کے فیصلے کرنے کی گنجائش محدود ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا آغاز 28 فروری کو ہوا، جن میں اعلیٰ ایرانی حکام اور فوجی کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی مسلح افواج نے اس کے جواب میں خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف پر متعدد جوابی حملے کیے۔ ایران نے اس دوران آبنائے ہرمز میں تیل و گیس بردار جہازوں کی نقل و حرکت بھی محدود کر دی۔
بعدازاں 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں عارضی جنگ بندی عمل میں آئی، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔
امریکی صدر نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں توسیع کی، لیکن ساتھ ہی ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بھی عائد کر دی۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اس وقت تک تیار نہیں جب تک امریکا اپنی غیر ضروری شرائط اور ایرانی جہازوں کے خلاف اقدامات ختم نہیں کرتا۔