• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان گیارہ اپریل کو اکیس گھنٹے طویل اور اعصاب شکن مذاکرات میں میزبان محمد شہباز شریف وزیراعظم پاکستان، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آرمی چیف، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ تھے جبکہ امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس امریکی نائب صدر نے کی جن کی معاونت اسٹیو وٹکوف خصوصی ایلچی وائٹ ہاؤس، جیرڈ کشنر سابق صدارتی مشیر، بریڈ کوپر سینٹ کام کے کمانڈر نے کی اسی طرح ایرانی وفد کے قائد محمد باقر قالیباف اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ تھے اور عباس عراقچی وزیر خارجہ، محمد باقر ذوالقدر سیکرٹری سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل، مجید تخت روانچی نائب وزیر خارجہ مذاکراتی وفد کا حصہ تھے۔ مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے جس کی وجوہات امریکی نائب صدر نے جاتے ہوئے بتا دیں۔ امریکی نائب صدرجے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ’’ابھی تک حتمی معاہدے پر نہیں پہنچے، کسی ڈیل کے بغیر واپس امریکا جارہے ہیں۔ ایران نے ہماری شرائط قبول کرنے سے انکار کردیا۔‘‘ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکی وفد اسلام آباد سے واپس روانہ ہوگیا۔ عالمی تجزیہ کاروں اور عرب میڈیا کے بقول مذاکرات کا ایک دور ختم ضرور ہوا ہے مگر سفارتی دروازے بند نہیں ہوئے کیونکہ امریکہ ابھی تک کی زبان استعمال کر رہا ہے جبکہ ایران وقفے کی بات کر رہا ہے اور انہی الفاظ کے درمیان شاید مستقبل کی ممکنہ پیش رفت چھپی ہوئی ہے۔

امریکی نائب صدر نے پاکستان کے کردار کو سراہا اور کہا کہ ’’مذاکرات کی ناکامی کا تعلق میزبان ملک سے نہیں۔‘‘ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئےکہا کہ دونوں ممالک کو قریب لانے میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مذاکرات میں فوری طور پر کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا لیکن اس اکیس گھنٹوں پر محیط طویل نشست نے دونوں جانب کی ترجیحات اور حدود کو واضح کر دیا ہے جو آئندہ بات چیت کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔ اس وقت سب سے اہم پہلو بائیس اپریل تک جاری جنگ بندی ہے، جس دوران پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ موجود ہے جس کی ابتدا ہوچکی ہے اور امریکہ و اسرائیل پیش قدمی کررہے ہیں۔دوسری جانب ایرانی میڈیا نے بھی معاہدے کے بغیر مذاکرات ختم ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اس ناکامی کا ذمہ دار امریکی ہٹ دھرمی کو قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات ختم نہیں ہوئے بلکہ ایک عارضی وقفہ لیا گیا ہے اور بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہوسکتا ہے، یوں دونوں فریق ایک ہی صورت حال کو مختلف زاویوں سے پیش کر رہے ہیں۔اہم پیش رفت یہ رہی کہ امریکی نائب صدر نے پاکستان کے کردار کو کھلے الفاظ میں سراہا اور کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کا تعلق میزبان ملک سے نہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا اور دونوں ممالک کو قریب لانے میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا۔ مذاکرات میں چند بنیادی نکات پر شدید اختلافات برقرار رہے، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور خطے میں ایران کا کردار شامل ہیں جبکہ امریکی توجہ خاص طور پر جوہری معاملے پر مرکوز رہی جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کا مرکزی حصہ ہے۔کہا جاسکتا ہے کہ یہ مذاکرات اس لحاظ سے بھی غیر معمولی تھے کہ نصف صدی بعد امریکہ اور ایران کے نمائندے براہ راست ایک ہی میز پر بیٹھے، جس سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان خلیج کسی حد تک کم ہوئی بلکہ مستقبل کے لیے سفارتی امکانات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جب بھی کوئی سرمایہ دارانہ نظام اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے، وہ اپنی عوام کی توجہ بٹانے کے لیے ایک بڑی جنگ چھیڑ دیتا ہے۔ ٹرمپ کے لیے ایران کے ساتھ جنگ یا ایک بڑی عالمی کشیدگی وہ واحد راستہ ہے جس کے پیچھے وہ اپنے تمام گناہ، قانونی کیسز اور معاشی ناکامیاں چھپا سکتے ہیں۔ جے ڈی وینس کا خالی ہاتھ لوٹنا اس بات کا اعلان ہے کہ اب سفارت کاری کے دن ختم ہوچکے ہیں اور بارود کی بو تیز ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کو امن کی ضرورت نہیں، انہیں اس افراتفری کی ضرورت ہے جس میں وہ خود کو ایک جنگجو صدر ثابت کر سکیں لیکن کیا وہ یہ بھول گئے ہیں کہ یہ سن بیس چھبیس کا ایران اور اس کے پیچھے کھڑا چین و روس اب وہ نہیں رہے جو ماضی میں ہوا کرتے تھے۔ آج سپر پاور چین ہے اور اس کے حلیف ممالک میں ایک خوش گوار اضافہ ایران بھی ہے۔

دنیا اب ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ٹرمپ کی انا اور سرمایہ دارانہ ہوس پوری انسانیت کو تیسری عالمی جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے۔ اب یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ امریکی وفد کی واپسی کے بعد صدر ٹرمپ کیا فیصلہ کرتے ہیں اور اس کا جواب ایران کس انداز میں دیتا ہے اور ساتھ ہی ایران کے اس وقت کے سب سے بڑے حامی و معاون چین اور روس اپنی کیا پالیسی مرتب کرتے ہیں اور امریکا کو کس انداز میں جواب دیا جائے۔ اس وقت دنیا ایک اہم اور نازک موڑ پر کھڑی نظر آرہی ہے جس میں امریکی صدر کا موقف ہی آگے کا لائحہ عمل طے کرے گا۔

دعا ہے اس پاک ذات سے جس کے اختیار میں کل کائنات ہے اور اس کے حکم سے ہی ہر ہر عمل سر انجام پاتا ہے کہ وہ دنیا میںامن و امان قائم رکھے اور شر پسندوں کے شر سے دنیا کو ہمیشہ محفوظ رکھے اور وطن عزیز کو بھی عزت و احترام کی سر بلندی عطا فرمائے آمین۔

تازہ ترین