• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوری کی 13تاریخ کو جب ایران کے سو سے زائد شہروں میں مظاہرے ہورہے تھے،ایرانی فلم ڈائریکٹرجعفر پناہی نیویارک میں دنیا بھرسے آئے ہوئے فنکاروں سے گفتگو کررہے تھے۔این بی آر نے انکی نئی فلم کو ایوارڈ کیلئے منتخب کیا تھا۔وہ کہہ رہے تھے،آج میرے لیے سینما پر بات کرنا آسان نہیں ہوگا۔اصل سینما اسوقت ایران کی سڑکوں پر ہورہا ہے۔جو ہو رہا ہے وہ اب کوئی کہانی یا فلم نہیں رہی، اب وہ گولیوں سے چھلنی ایک حقیقت ہے جسکا سامنا لوگ روزانہ کی بنیاد پر کررہے ہیں۔پناہی کا اشارہ مظاہرین پر ہونے والے تشدد کی طرف تھا۔

جعفر پناہی گھٹتی ہوئی سانسوں کو فلمانے والے آرٹسٹ ہیں۔فلم آف سائیڈ مررایسی عورتوں کی کہانی ہے جولڑکوں کا روپ دھار کر ایسے اسٹیڈیم میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں جہاں عورتوں کے داخلے پر پابندی ہے۔پناہی کی فلم دی سرکل بھی عورتوں کی ہی کہانی ہے جو جیل سے بھاگ چکی ہیں۔جبر کی طرف اشارہ کرنے والی ان فلموں کی وجہ سے پناہی ریاست کیلئے ناپسندیدہ شہری بن گئے۔2009 میں قتل ہونے والے گرین موومنٹ کے مظاہرین کی کہانی کو فلما رہے تھے کہ گرفتار کر لیے گئے۔بیس سال کی پابندی لگاکر انہیں نظر بند کردیا گیا۔نظر بند ہی تھےکہ فرانس کے کانز فلم فیسٹیول میں انکی نئی فلم This IS NOT a FILMنے ایوارڈ جیت لیا۔فلم میں پابندی کا شکار ہونیوالے ایک آرٹسٹ کی بے بسی دکھائی گئی تھی۔فلم میں پناہی خود کردار کے طور پرموجود تھے۔پتہ چلا پناہی نظر بندی کے دوران بھی اپارٹمنٹ میں فلم بنارہے تھے۔موبائل کیمرے سے بنائی گئی اس فلم کی فلیش ڈرائیو فرانس کیسے پہنچائی گئی،یہ الگ سے پوری ایک کہانی ہے۔

پناہی پرایک وقت ایسا بھی آیاجب وہ سڑک پرآگئے۔دفتر بند،سامان ضبط،اکاونٹس منجمد۔پناہی گزر بسر کیلئے ٹیکسی چلانے لگے۔کچھ ہی عرصے میں ٹیکسی چلانا چھوڑ دی۔اچانک برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ایک ایرانی فلم ٹیکسی نے گولڈن بئیر ایوارڈ اپنے نام کرلیا۔فلم میں ہرسواری ایک کہانی ہے۔مرکزی کردار کے طور پر یہاں بھی موجود تھے۔پتہ چلا پناہی ٹیکسی نہیں چلا رہے تھے۔ٹیکسی ان کا سیٹ تھا، جسمیں وہ فلم بنا رہے تھے۔پناہی نے جیل میں ہونے والے مشاہدات پر IT WAS JUST an ACCIDENTبنائی تو بھی ایران میں کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی۔نیو یارک کے نیشنل بورڈ آف ریویو میں ایوارڈ کیلئے اسی فلم کا انتخاب کیا گیا ہے۔

پناہی کو ایران کی پیشوائیت نے سوائے دھتکار کے کچھ نہیں دیا۔پناہی نے ہر دکھ ہنس کر سہا مگر انسان آخر کو انسان ہے، تھک جاتا ہے۔دوسرے فنکاروں کی طرح پناہی بھی ایران سے ہجرت کر گئے۔یہ تہذیب کی ہجرت تھی۔پناہی سے تہران و اصفہان چھن گئے۔وہ گلیاں چھن گئیں جہاں وہ کہانی کی طرح آوارہ پھرتے تھے۔وہ سیموئل بیکٹ کے علاقے پیرس میں جا بسے۔انکا دل جلتا تھا جب وہ پلٹ کرایسے ایران کی طرف دیکھتے تھے جہاں مہسا امینی دوپٹہ نہ لینے کی وجہ سے ماردی جاتی ہے۔مہسا کے حق میں تو امام خمینی کے پوتے آیت اللہ حسن بھی کھڑے ہوگئے تھے، پناہی کیسے کھڑے نہ ہوتے۔وہ کھڑے ہوئے اور پورے قد کاٹھ کیساتھ کھڑے ہوئے۔پھر جنوری کامہینہ آگیا۔پورا ایران سڑکوں پرنکل آیا۔پناہی کی امیدجاگی۔نظام کی گرتی ہوئی دیوار کویہ آخری دھکاہے۔ 13 جنوری کی شام این بی آر کی تقریب سےخطاب میں انہوں نے شستہ فارسی میں یہ بھی کہا، یہ نظام اب ختم ہوکر ہی رہے گا۔میں ایران جائوں گا۔

ایران کی کہانی اچانک ویسے ہی بدل جاتی ہے جیسے پناہی کی فلم دی مرر میں ماں کا انتظار کرنے والی بچی کی کہانی بدلتی ہے۔مظاہرین گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔وہ اسرائیل کی پراکسی بننا نہیں چاہتے تھے۔بین الاقوامی میڈیا نے پروپیگنڈا کیا کہ چالیس ہزار مظاہرین کو قتل کردیاگیاہے۔اس پروپیگنڈے کا سب شکارہوئے۔کچھ دیر کیلئے جعفر پناہی بھی ہوئے۔مگرسچا آرٹسٹ اپنی کہانی میں نہیں پھنستا۔دوسری کہانی اس پر کھل جائے تو وہ سلیکٹ آل مارکے اپنی کہانی ڈیلیٹ کردیتاہے۔پناہی نے اپنی کہانی ایک طرف رکھ دی جب طاقت نے حملہ کرکے آیت اللہ خامنہ ای کے پورے گھرانے اورمیناب کی بچیوں کو ماردیا۔پھر وہ لوگ بھی مار دیے گئے جو بات کرنے والے اور راستہ نکالنے والے تھے۔

ٹرمپ جب پوری ایرانی قوم کو بے وقوف اورچال باز کہہ رہے تھے تب جعفر پناہی کی فلم IT WAS JUST an ACCIDENT کا نام آسکر کیلئے گردش کر رہا تھا۔دنیا بھرکے فنکار وہاں جمع تھے۔پناہی غائب ہوگئے۔کہاں گئے۔کہیں گھومنے نکل گئے ہوں گے؟ اگلی کسی فلم کی شوٹ میں مصروف ہوں گے؟ کیا پتہ ایران نکل گئے ہوں۔ نہیں بھئی ایران کیسے جاسکتے ہیں۔وہاں جائیں گے تو انہیں ہمیشہ کیلئے زندان میں ڈال دیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے آئل ریفائنریز اور پلوں کو اڑانے کی بات کی تولوگ سڑکوں پرنکل آئے۔ان میں وہ لوگ بھی تھے جوجنوری میں پیشوائیت کیخلاف نکلے تھے۔کچھ لوگ عین حملے کے وقت آئل ریفائنریز اور پلوں پر پہنچ گئے تھے۔لوگ ہنسے۔ریشنیلیٹی پر یقین رکھنے کی بجائے ایمان رکھنے والے اور کر بھی کیا سکتے تھے۔عین اس وقت کہ جب ٹرمپ نے پوری تہذیب کو مٹانے کی بات کی،جعفر پناہی تہران میں نمودار ہوگئے۔وہ ساری خلقت جو سڑکوں پر نکل آئی تھی وہ وارفتگی میں پناہی پر ٹوٹ پڑی۔بیا بیا ای یار من بیا۔پناہی نے کہا، میرے پاس ایران کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔میں ایران میں انہی لوگوں کے ساتھ مرنا چاہوں گا جنکی کہانیوں کو میں نے فلمایا ہے۔پناہی مہسا امینی کے ساتھ کھڑے تھے،اب میناب کی 160 بچیوں کے ساتھ بھی کھڑے ہونا چاہتے تھے۔

پناہی انہی راستوں سے ایران میں داخل ہوئے جن راستوں سے انہوں نے اپنی فلم فرانس بھجوائی تھی۔وہ ہیرس نہیں،آسکر چھوڑ کرآ رہے تھے۔وہ ایران کی طرف نہیں، پھانسی گھاٹ کی طرف جارہے تھے۔ایسے شہر کی طرف جارہے تھے جہاں کے محتسب اور فقیہ نے انکی گردن کا ناپ پہلے سے لیکر رکھا ہوا تھا۔مگر یہ کہانی بھی پناہی کی ان کہانیوں جیسی ہوگئی جو اطالوی فلموں کی طرح اچانک تصور اورحقیقت کا فرق مٹا دیتی ہے۔ ایران نے مقدمات ختم کر دیے۔ مذاکرات کار اسلام آباد چلے گئے اور پناہی تہران کی گلیوں میں نکل گئے۔پناہی کی نہیں، یہ تہذیب کی واپسی ہے۔

تازہ ترین