اسلام آباد میں حالیہ ایران امریکہ مذاکرات کا بغیر کسی معاہدے کے اختتام بظاہر ایک سفارتی ناکامی محسوس ہوتا ہے، لیکن اگر اس پورے عمل کو گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ محض ایک ادھورا باب نہیں بلکہ عالمی سیاست کے ایک اہم موڑ کی علامت ہے۔ پاکستان کیلئے یہ لمحہ نہ صرف اپنی سفارتی صلاحیتوں کو منوانے کا تھا بلکہ یہ ثابت کرنے کا بھی کہ وہ ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر عالمی منظرنامے میں اپنا کردار ادا کرنے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی تاریخ پیچیدہ، طویل اور بداعتمادی سے بھرپور رہی ہے۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی رہی، جس میں ایٹمی پروگرام، اقتصادی پابندیاں، مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ اور پراکسی جنگیں جیسے عوامل شامل ہیں۔ ایسے میں اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنے پر آمادہ ہوئے تو یہ بذات خود ایک اہم پیش رفت تھی۔ اسلام آباد کا انتخاب اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان کو ایک غیر جانبدار، قابلِ اعتماد اور سنجیدہ ثالث کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔پاکستان نے ان مذاکرات کے انعقاد میں جو کردار ادا کیا، وہ محض میزبانی تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں پس پردہ سفارت کاری، اعتماد سازی، اور دونوں فریقین کو ایک میز پر لانے کی مسلسل کوششیں شامل تھیں۔ یہ وہ کردار ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہی وہ بنیاد ہوتی ہے جس پر بڑے معاہدے استوار ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس بار کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا، مگر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان نے ایک ایسے عمل کی بنیاد رکھ دی ہے جو مستقبل میں کسی بڑی پیش رفت کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ مذاکرات کا بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونا مکمل ناکامی نہیں ہوتا۔ سفارت کاری میں اکثر ایسے مراحل آتے ہیں جہاں فریقین اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہیں، مگر بات چیت کا دروازہ کھلا رکھتے ہیں۔ یہی اس عمل کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت نے کم از کم یہ تو ثابت کیا کہ دونوں ممالک اب مکمل تصادم کے بجائے مکالمے کو ایک قابلِ عمل راستہ سمجھتے ہیں۔
پاکستانی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس پورے عمل کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر خود کو عالمی امن کیلئے ایک مثبت قوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایک ایسا ملک جس نے خود دہشت گردی، انتہاپسندی اور بیرونی دباؤ کا سامنا کیا ہو، وہ اگر عالمی سطح پر امن کی کوششوں میں پیش پیش ہو تو یہ اس کی پالیسی کی پختگی کا ثبوت ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ خطے میں امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اور یہی سوچ اسے ایسے اقدامات کی طرف لے جاتی ہے۔اس کے برعکس بھارت کے سوشل میڈیا پر اس مذاکراتی عمل کی ناکامی پر جشن منایا جانا ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ کسی بھی ذمہ دار ریاست کیلئے یہ مناسب نہیں کہ وہ عالمی کشیدگی کے برقرار رہنے پر خوشی کا اظہار کرے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر سنجیدہ ہے بلکہ یہ اس بات کی عکاسی بھی کرتا ہے کہ خطے میں کچھ عناصر امن کے بجائے عدم استحکام کو ترجیح دیتے ہیں۔بھارتی سوشل میڈیا پر پائے جانے والے اس رجحان کو محض عوامی ردعمل کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ ایک وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جو پاکستان کے مثبت کردار کو کم کرنے اور ہر مثبت پیش رفت کو ناکامی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری ایسے رویوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ دنیا ان ممالک کو اہمیت دیتی ہے جو مسائل کے حل میں کردار ادا کرتے ہیں، نہ کہ ان کو جو مسائل کے برقرار رہنے پر خوش ہوتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا براہِ راست اثر جنوبی ایشیا پر پڑتا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی راستوں میں رکاوٹیں، اور سیکورٹی خدشات جیسے عوامل پورے خطے کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی ملک کا اس کشیدگی کے برقرار رہنے پر خوش ہونا دراصل اپنے ہی مفادات کے خلاف ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس حقیقت کو سمجھا ہے اور اسی لیے وہ خطے میں امن کے قیام کیلئے سرگرم رہتا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات ایک اور اہم پہلو کی بھی نشاندہی کرتے ہیں، اور وہ ہے پاکستان کی بدلتی ہوئی عالمی حیثیت۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کو صرف سیکورٹی کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، مگر اب وہ ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جو سفارت کاری، ثالثی اور عالمی تعاون میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی محنت، پالیسیوں کا تسلسل اور عالمی سطح پر اعتماد کی بحالی شامل ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات کا بغیر کسی معاہدے کے اختتام ایک وقتی تعطل ضرور ہے، مگر یہ کسی ناکامی کی حتمی علامت نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر خود کو امن کا داعی اور ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی کے طور پر پیش کیا ہے۔ دنیا کو آج ایسے ہی ممالک کی ضرورت ہے جو اختلافات کو کم کرنے اور مکالمے کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
بھارت کے سوشل میڈیا پر ہونے والا جشن وقتی ہو سکتا ہے، مگر تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو امن کیلئے کھڑی ہوتی ہیں، نہ کہ ان کو جو تنازعات کے برقرار رہنے پر خوش ہوتی ہیں۔ پاکستان نے اپنا کردار ادا کیا ہے، اور یہی اس کی اصل کامیابی ہے۔