• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرق وسطی کی صورتحال اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے باعث بحری تجارت میں تعطل کے دوران پاکستان خطے میں بحری تجارت کے نئے مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ مشرق وسطی میں بڑھتے ہوئے سیکورٹی خدشات نے جہاں ایک طرف روایتی سمندری راستوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے وہیں عالمی شپنگ کمپنیوں نے کراچی پورٹ کا رخ کر لیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی پورٹ پر ٹرانس شپمنٹ میں اضافے کے باعث گزشتہ ایک ماہ کے دوران نو ہزار سے زائد کنٹینرز ہینڈل کئے گئے ہیں جو کہ گزشتہ سال کے دوران کراچی پورٹ پر آنیوالے کنٹینرز کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہیں۔ بین الاقوامی تجارتی بیڑے جنگ کے خطرات سے بچنے کیلئے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں اور اس تناظر میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ پاکستان بحیرۂ عرب کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے وسطی ایشیا، چین اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک قدرتی گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلئے اگر گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو پاکستان خطے میں ٹرانزٹ ٹریڈ کا ایک بڑا مرکز بن سکتا ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ گوادر کی بندرگاہ پہلے ہی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) میں شامل ہے جہاں بحری تجارت کیلئے درکار انفراسٹرکچر موجود ہے۔ علاوہ ازیں سی پیک کے ذریعے خلیجی ممالک سے آنیوالے تجارتی سامان کو زمینی راستوں کے ذریعے چین یا وسطی ایشیا کے ممالک تک منتقل کرکے نہ صرف وقت کی بچت ممکن ہے بلکہ لاگت میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح کراچی اور بن قاسم بندرگاہ کی موجودہ صلاحیت کو بڑھا کر بھی بحری تجارت میں پاکستان کا شیئر بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کیساتھ ساتھ ساحلی علاقوں میں جدید آئل اسٹوریج اور ریفائنری انفراسٹرکچر قائم کرکے پاکستان خطے میں توانائی کا ایک اہم مرکز بننے کی بھی بھرپور صلاحیت ہے۔ تاہم ان دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے پاکستان کو کئی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ ان میں سب سے بڑا چیلنج سیکورٹی کا ہے کیونکہ بحیرۂ عرب اور اس کے اطراف میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی پاکستان کی بندرگاہوں اور بحری راستوں کیلئے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اگر ایران اور امریکہ کی جنگ جاری رہتی ہے تو پاکستان کی درآمدات اور برآمدات شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔ دوسرا بڑا چیلنج انشورنس اور فریٹ لاگت میں اضافہ ہے کیونکہ مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کے باعث شپنگ کمپنیوں نے انشورنس پریمیم اور مال برداری کے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے جس سے برآمد کنندگان اور درآمدکنندگان کو اضافی مالی دبائو کا سامنا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بیرون ملک سے پاکستان اور پاکستان سے بیرون ملک بھجوائے جانے والے تجارتی مال کا زیادہ تر انحصار سمندر کے راستے ہونے والی تجارت پر ہے جس کا بنیادی ذریعہ کنٹینرز کی نقل وحمل کرنے والی غیر ملکی شپنگ کمپنیاں ہیں۔ اس شعبے میں غیر ملکی شپنگ لائنز کی اجارہ داری ہے جس کی وجہ سے یہ کمپنیاں اپنی مرضی کے ریٹس چارج کرتی ہیں اور درآمد کنندگان کو اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح بندرگاہ پر کلیرنگ ٹرمینلز کی مینجمنٹ کے ٹھیکے بھی غیر ملکی کمپنیوں کے پاس ہیں جو فی کنٹینر کم از کم ایک لاکھ روپے بطور چارجز وصول کرتی ہیں لیکن کراچی پورٹ ٹرسٹ کو اس کے مقابلے میں بالکل معمولی رقم ادا کرکے باقی رقم ڈالرز کی شکل میں بیرون ملک بھجوا دیتی ہیں۔ اس حوالے سے مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ خطرناک اشیاء (Dangerous Goods) کے زمرے میں آنے والی اشیاء کو رکھنے کا ان کمپنیوں کے پاس کوئی انتظام موجود نہیں ہے لیکن یہ درآمد کنندگان سے اس مد میں اضافی چارجز ضرور وصول کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں ہر شپنگ لائن والے 40 فٹ کنٹینر کیلئے کم از کم پانچ سے چھ لاکھ روپے اور زیادہ سے زیادہ 20 لاکھ روپے سکیورٹی ڈپازٹ لے کر اپنے اکائونٹ میں جمع کروا دیتے ہیں۔ یہ رقم ایک ماہ سے زائد عرصے کے بعد واپس کی جاتی ہے اور اسے بھی بینک میں رکھ کر اضافی منافع کمایا جاتا ہے۔ اسی طرح ڈی او چارجز کی مد میں فی کنٹینر ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے الگ سے لئے جاتے ہیں۔ حکومت کو یہ چاہیے کہ سکیورٹی ڈپازٹ اور ڈی او چارجز لینے پر پابندی لگائے کیونکہ دنیا بھر میں کہیں بھی اس طرح نہیں ہوتا ۔ اس کی بجائے شپنگ کمپنیوں کو انشورنس چارجز لینے اور اس کے مطابق سروسز فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ غیر ملکی شپنگ لائنز کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ریگولیٹر کی عدم موجودگی کے باعث درآمد و برآمد کنندگان کو اپنی شکایات کے ازالے کیلئے ایک سے دوسرے محکمے کے دفاتر میں چکر لگانے پڑتے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگرچہ ان کمپنیوں کو لائسنس محکمہ کسٹم جاری کرتا ہے جبکہ آپریشنل معاملات میری ٹائم والے دیکھتے ہیں لیکن ان کے ریٹس کا تعین کرنے کا اختیار کسی محکمے کے پاس نہیں ہے۔ اسی لئے ان کمپنیوں کا مقامی عملہ اور ایجنٹ بھی یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں کہ بیرون ملک موجود ان کے پرنسپل نے جو ریٹ طے کر دیا ہے وہ اس سے کم چارجز نہیں لے سکتے ۔ اسلئے اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت شپنگ لائنز کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی بنائے، اس شعبے میں غیر ملکی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے ملک میں نئی شپنگ کمپنیوں کے قیام کی راہ ہموار کرے تاکہ پاکستان شپنگ سیکٹر کی ترقی کیلئے دستیاب مواقع سے حقیقی فائدہ اٹھا سکے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ایک جامع میری ٹائم پالیسی تشکیل دی جائے جو نہ صرف موجودہ چیلنجز کا حل پیش کرے بلکہ مستقبل کے امکانات کو بھی مدنظر رکھے۔

تازہ ترین