• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ A-23A ٹوٹ کر بکھر گیا

---تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
---تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

دنیا کا سب سے بڑا آئس برگ A-23A اپنی 40 ویں سالگرہ سے چند روز قبل ٹکڑوں میں ٹوٹ کر بکھر گیا۔

 یہ دیوہیکل آئس برگ 1986ء میں انٹارٹیکا کے فلچنر آئس شیلف سے الگ ہوا تھا اور تقریباً 34 سال تک سمندر کی تہہ میں جما رہا، جس کے بعد 2020ء میں آزاد ہو کر حرکت میں آیا۔

یہ آئس برگ تقریباً 1540 مربع میل رقبے پر پھیلا ہوا تھا جو کہ گریٹر لندن کے برابر سمجھا جاتا ہے اور اس کا وزن 1 کھرب ٹن سے زائد تھا، اپنی طویل سمندری مسافت کے دوران یہ تقریباً 2000 میل تک سفر کرتا رہا اور بالآخر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔

سائنسدانوں کے مطابق آئس برگ کے آخری مہینوں میں تیزی سے پگھلنے کے باعث اس کا حجم کم ہو کر تقریباً 66 مربع میل رہ گیا تھا، جس کے بعد یہ مکمل طور پر بکھر گیا۔

ناسا نے گزشتہ روز جاری کردہ ایک بیان میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ A-23A کا 40 سالہ سفر اب اختتام پزیر ہو چکا ہے۔

آسٹریلوی محکمۂ موسمیات کے ماہر ڈاکٹر جان لیسر اس آئس برگ کی سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی کر رہے تھے۔

ان کے مطابق آخری دنوں میں بادلوں کی چادر نے اس آئس برگ کو ڈھانپے رکھا، جیسے قدرت اسے خاموشی سے رخصت کرنا چاہتی ہو، 3 اپریل کو لی گئی آخری تصاویر میں اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے سمندر میں تیرتے ہوئے دیکھے گئے۔

خاص رپورٹ سے مزید