• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا کی آبنائے ہرمز کے بعد بھارت کیلئے اہمیت کی حامل آبنائے ملاکا پر نظر

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

مشرقِ وسطیٰ میں آبنائے ہرمز پر بڑھتی کشیدگی کے دوران اب آبنائے ملاکا بھی عالمی توجہ کا مرکز بنتی جا رہی ہے، امریکا اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی معاہدہ طے پایا ہے جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن اپنی حکمتِ عملی کا دائرہ وسیع کر رہا ہے۔

بھارتی میڈیا ’این ڈی ٹی وی‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا اور انڈونیشیا کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے تحت امریکی فوجی طیاروں کو انڈونیشیا کی فضائی حدود میں زیادہ رسائی ملے گی جس سے آبنائے ملاکا پر نگرانی اور عسکری موجودگی بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ اہم بحری راستہ آبنائے ملاکا انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کے درمیان واقع ہے اور عالمی تجارت کا بڑا حصہ یہاں سے گزرتا ہے۔

آبنائے ملاکا عالمی تجارت کیلئے اہم راستہ

بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ملاکا دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے تیل، الیکٹرانکس اور صنعتی سامان کی بڑی مقدار گزرتی ہے، خاص طور پر چین اس راستے پر توانائی کی درآمد کے لیے انحصار کرتا ہے جسے بیجنگ میں ’ملاکا مخمصہ‘ (Malacca Dilemma) کہا جاتا ہے۔

امریکا اگرچہ اس راستے پر براہِ راست معاشی انحصار کم رکھتا ہے مگر اسے فوجی اور اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے انتہائی اہم سمجھتا ہے، اس کی تنگ گزرگاہ کسی بھی تنازع میں اہم کنٹرول پوائنٹ بن سکتی ہے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ آبی گزرگاہ اس کی معیشت کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے، بھارت کا دعویٰ ہے کہ انڈمان و نکوبار جزائر کی جغرافیائی پوزیشن بھارت کو اس بحری راستے پر نظر رکھنے کا قدرتی موقع فراہم کرتی ہے۔

بھارتی فوجی تنصیبات، خاص طور پر کیمپبل بے میں ایئر اسٹیشن سمندری نقل و حرکت کی نگرانی میں مدد دیتے ہیں۔

بھارتی ماہرین کے مطابق مستقبل میں چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا اور بھارت کے درمیان تعاون بڑھ سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ملاکا میں کسی بھی امریکی کردار کو مقامی حساسیت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انڈونیشیا اور ملائیشیا اپنی خودمختاری کے معاملے پر محتاط ہیں جبکہ سنگاپور اپنی بندرگاہی معیشت کے باعث استحکام کو ترجیح دیتا ہے۔

رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے مطابق امریکا اب صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ ایشیاء میں بھی اہم بحری راستوں کو محفوظ بنانے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے جس کے عالمی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید