برسلز: ٹوٹتے پھوٹتے عالمی نظام میں یورپین یونین نے واضح طور پر اقوام متحدہ کی حمایت کردی۔
اس حمایت کا اظہار یورپین خارجہ امور کی سربراہ کایا کالس نے نیویارک میں جاری سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں ای یو - یو این کوآپریشن کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کی ٹوٹ پھوٹ آج کے دو اہم عالمی بحرانوں میں واضح ہے؛ ایک یوکرین کے خلاف روس کی جارحیت کی جنگ اور دوسری مشرق وسطیٰ میں جنگ۔
کایا کالس نے کہا کہ ایک نئی دنیا اب تیار ہو رہی ہے، جس کی خصوصیت مسابقت اور زبردستی طاقت کی سیاست ہے، ایک ایسا عالمی نظام جس پر مٹھی بھر فوجی طاقتوں کا غلبہ ہے جس کا مقصد اثر و رسوخ کے دائرے قائم کرنا ہے۔
سربراہ ای یو خارجہ امور کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے لیے یورپی یونین کی حمایت اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان کو مزید بتایا کہ عالمی آبادی کا صرف 5 فیصد ہونے کے باوجود یورپی یونین اور ہمارے رکن ممالک اقوام متحدہ کو 42 فیصد سرکاری ترقیاتی امداد فراہم کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ہی ہمارے رکن ممالک اقوام متحدہ کے باقاعدہ بجٹ کا ایک چوتھائی حصہ بھی فنانس کرتے ہیں جبکہ ہم یہ ادائیگی پوری اور وقت پر کرتے ہیں۔
کایا کالس نے کسی کا نام لیے بغیر یہ کہنا بھی ضروری سمجھا کہ ’یورپی یونین کبھی بھی اقوام متحدہ کے لیے حمایت کرتے ہوئے خالصتاً اس بات پر غور نہیں کرتا کہ ہم کتنا خرچ کرتے ہیں‘۔