• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگلینڈ اور ویلز میں گھریلو تشدد کے متاثرین میں خودکشی کی شرح بڑھ گئی

انگلینڈ اور ویلز میں گھریلو تشدد کے متاثرین میں خودکشی کرنے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، نیشنل پولیس چیفس کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 میں ختم ہونے والے برس میں تقریباً 150 افراد کے بارے میں شبہ ہے کہ انہوں نے اپنی جان لی، جبکہ اس سے گزشتہ برس یہ تعداد 98 تھی۔

پولیس کے مطابق بہتر آگاہی اور رپورٹنگ کے طریقہ کار اعداد و شمار میں اضافے کا سبب بنے ہیں، ڈومیسٹک ہومیسائیڈ پروجیکٹ کے مطابق 8 فیصد متاثرین کی عمر 16 سے 24 برس کے درمیان تھی اور پہلی بار رپورٹ ہوئے ایک کیس میں متاثرہ اور مشتبہ فرد کی عمر 18 سال سے کم تھی۔

رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 16 سے 19 برس کے افراد میں گھریلو تشدد کا شکار ہونے والوں کا تناسب 18.2 فیصد ان افراد کے مقابلے میں زیادہ تھا جن کی عمریں 25 برس یا اس سے زیادہ تھیں۔

نیشنل پولیس چیفس کونسل میں گھریلو تشدد سے متعلق قومی پولیس سربراہ لوئیزا رولف کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود خطرناک مواد نو عمر افراد کو تشدد کی طرف راغب کرتا ہے، لوگ آسانی سے پر تشدد اور فحش مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جو تعلقات میں تشدد اور غلط رویے کو معمول بنا دیتا ہے۔

ڈومیسٹک ہومیسائیڈ پروجیکٹ کے مطابق مارچ 2025 تک گھریلو تشدد کے سبب 347 اموات ہوئیں، ہلاک ہونے والوں میں 80 شریکِ حیات کے قتل شامل تھے، جبکہ پانچ برسوں میں گھریلو تشدد سے مجموعی طور پر 1,452 اموات ہوئیں۔

گھریلو تشدد کے سبب خودکشی کرنے والوں میں 73 فیصد خواتین تھیں اور متاثرین کی اکثریت سفید فام تھی۔

برطانیہ کی سیف گارڈنگ منسٹر جیس فلپس کا کہنا ہے کہ ہر ضائع ہونے والی جان ایک سانحہ ہے اور حکومت جرائم سے نمٹنے اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پوری قوت استعمال کر رہی ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید