• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گرین پارٹی کے زیر اثر علاقوں میں حراستی مراکز قائم کرنے کی تجویز، ریفارم یوکے کا اعلان

برطانیہ کی سیاسی جماعت ریفارم یوکے نے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ آئندہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو غیر قانونی تارکین وطن کے لیے نئے حراستی مراکز اُن علاقوں میں قائم کیے جائیں گے جہاں گرین پارٹی کی نمائندگی یا لوکل کونسل کا کنٹرول موجود ہے۔

پارٹی کے داخلہ امور کے ترجمان ضیاء یوسف نے ایک بیان میں کہا کہ مجوزہ پالیسی کے تحت ایسے علاقوں کو ترجیح دی جائے گی جہاں گرین پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ یا مقامی کونسلرز منتخب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ’’جمہوری بنیادوں‘‘ پر کیا جائے گا، کیونکہ گرین پارٹی امیگریشن سے متعلق نسبتاً نرم مؤقف رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاں ریفارم یوکے کے ارکان پارلیمنٹ یا لوکل کونسلز موجود ہوں گی، وہاں حراستی مراکز قائم نہیں کیے جائیں گے۔

ریفارم یوکے نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ برطانیہ میں موجود تمام غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جن کی تعداد اس کے اندازے کے مطابق تقریباً 6 لاکھ تک ہو سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے پارٹی 24 ہزار افراد کی گنجائش رکھنے والے حراستی مراکز قائم کرنے کی تجویز دے رہی ہے، جہاں افراد کو ملک بدری تک رکھا جائے گا۔

پارٹی کے مطابق اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک نیا قانون متعارف کروایا جائے گا، جس کے ذریعے مخصوص علاقوں میں مراکز کے قیام کو قانونی حیثیت دی جائے گی اور ممکنہ عدالتی رکاوٹوں کو محدود کیا جائے گا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تجویز سے مقامی حکومتوں، خصوصاً لوکل کونسلز کے کردار اور اختیارات پر بحث تیز ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے سیاسی اثرات آئندہ انتخابات میں بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

دوسری جانب گرین پارٹی نے اس اعلان پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر سنجیدہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں امیگریشن کا مسئلہ اس وقت ایک اہم سیاسی موضوع بن چکا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب لوکل کونسل انتخابات قریب ہیں اور مختلف جماعتیں اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کر رہی ہیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید