امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث جیٹ فیول کی ممکنہ قلت کے پیشِ نظر برطانیہ نے ایک نیا ہنگامی منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت ایئرلائنز کو یہ اجازت دی جا رہی ہے کہ وہ مصروف ہوائی اڈوں پر ٹیک آف اور لینڈنگ کے سلاٹس کھوئے بغیر کئی ہفتے پہلے پروازیں منسوخ کر سکیں۔
حکومتی اقدام کا مقصد آخری لمحات میں پروازوں کی منسوخی سے پیدا ہونے والی افراتفری سے مسافروں کو بچانا ہے۔ منصوبے کے تحت ایئرلائنز کو یہ سہولت بھی دی جائے گی کہ وہ ایک ہی دن ایک ہی منزل کے لیے مقرر متعدد پروازوں کو ضم کر سکیں تاکہ ایندھن کی بچت ممکن ہو۔
حکام کے مطابق برطانیہ اپنی ضرورت کا تقریباً 65 فیصد جیٹ فیول درآمد کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے۔ اگرچہ اس وقت ایندھن دستیاب ہے، تاہم جنگ طویل ہونے کی صورت میں آنے والے ہفتوں میں بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔
وزراء نے چار ریفائنریز سے بھی کہا ہے کہ وہ جیٹ ایندھن کی فراہمی بڑھائیں، اور وہ امریکا سے سپلائی بڑھانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر جون تک آبنائے ہرمز نہ کھلی اور کہیں اور سے بھی فیول نہ آیا تو پورا یورپ متاثر ہو سکتا ہے۔
حکومت چاہتی ہے کہ ایئرلائنز اپنے شیڈول میں تبدیلی لائیں اور جن روٹس پر متعدد پروازیں چل رہی ہیں، وہاں کچھ پروازیں کم کر دیں، ٹرانسپورٹ سیکرٹری، ہیڈی الیگزنڈر نے کہا ہے کہ موسمِ گرما میں لوگوں کو غیر ضروری خلل سے بچانے کے لیے حکومت ابھی سے تیاری کر رہی ہے، برطانیہ کی ایئرلائنز کی تنظیم ایئرلائنز یوکے نے اس حکومتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
موجودہ قوانین کے تحت پرواز میں شدید خلل یا منسوخی کی صورت میں مسافروں کو متبادل پرواز یا رقم کی واپسی، کھانا، مشروبات، اور ضرورت پڑنے پر رہائش بھی فراہم کرنا پڑتی ہے، مسافروں کو شدید خلل کی صورت میں مالی معاوضہ لینے کا حق بھی حاصل ہوتا ہے۔
ایئرلائنز کا مطالبہ ہے کہ فیول کی کمی کو غیر معمولی حالات قرار دیا جائے تاکہ وہ معاوضے کی ادائیگی سے بچ سکیں، برطانیہ نے اب تک یہ مطالبہ قبول نہیں کیا ہے، تاہم یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ اگر ایئرلائنز یہ ثابت کریں کہ خلل کی وجہ فیول کی کمی ہے اور انہوں نے تمام ممکنہ اقدامات کیے، تو انہیں معاوضہ دینے کی ضرورت نہیں ہو سکتی۔