• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی، ایران کیسے متاثر ہوسکتا ہے؟

امریکا کی جانب سے بحرہ عرب میں آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کی جارہی ہے، ایران اس ناکہ بندی سے کیسے متاثر ہو سکتا ہے اور اس علاقے میں کتنی ایرانی  بندرگاہیں اور آئل ٹرمینلز ہیں؟

ایران طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کا شکار ہے اور جنگ کے دوران بھی اپنی تیل کی برآمدات جاری رکھنے میں کامیاب ہوا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

جس کی وجہ ہے کہ ایران اپنی تیل اور گیس کی برآمدات کا تقریباً 80 فیصد آبنائے ہرمز سے کرتا ہے، جہاں اس کی بڑی بندرگاہیں اور آئل ٹرمینلز موجود ہیں، جس میں آبادان بندرگاہ ہے، جس پر مشہور آبادان ریفائنری ہے، جو دنیا کی قدیم ترین اور تیل صاف کرنے والی بڑی ریفائنریوں میں سے ایک ہے۔

خارگ سے پہلے ایرانی تیل کی ایکسپورٹ آباد ان کی بندرگاہ سے ہوتی تھی، اس کے بعد امام خمینی بندرگاہ، بندرگاہ ماہشہر، آئل ٹرمینل راس بھرگان، سائرس ٹرمینل اور پھر آتا ہے جزیرہ خارگ، جہاں سے ایرانی خام تیل کی 90 فیصد برآمدات ہوتی ہیں، اس کے علاوہ عسلویہ ہے، جہاں ایران کی پارس گیس فیلڈ واقع ہے، اس کے بعد بندر عباس ایران کی معیشت کی شہ رگ ہے۔

امریکا اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو تو بند کردیا، لیکن پوری مدت کے دوران، ایران خود اپنی تیل اور گیس کی برآمدات اسی آبنائے کے ذریعے کرتا رہا اور چند ماہ میں ایران کی نہ صرف برآمدات بڑھیں بلکہ آمدنی میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔

ٹریڈ انٹیلیجنس فرم کلپر کے مطابق 2025 میں ایران کی خام تیل کی برآمد 16 لاکھ بیرل یومیہ تھی، مارچ 2026 میں لیکن ایران نے یومیہ 18لاکھ، جبکہ اپریل میں 17لاکھ بیرل خام تیل برآمد کیا، یعنی دو ماہ میں ایرانی برآمدات بڑھیں۔

اسی طرح عرب میڈیا کے مطابق جنگ سے پہلے فروری کے اوائل میں ایران، خام تیل کی برآمدات سے روزانہ تقریباً 11 کروڑ ڈالر، یا ایک مہینے میں 3.45 ارب ڈالر کما رہا تھا، لیکن 15 مارچ سے 14 اپریل تک ایران نے ساڑھے 5 کروڑ بیرل تیل برآمد کیا اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ایک محتاط اندازے کے مطابق 5 ارب ڈالر کمائے، یعنی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اس کی کمائی میں 40 فیصد اضافہ ہوا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید