تاریخ کے دبیز اوراق میں کچھ لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی مختصر قامت کے باوجوداپنےاندر معنی کی ایک پوری کائنات سمیٹےہوئے ہوتے ہیں۔ وہ لمحے وقت کے دھارے میں گم نہیں ہوتے بلکہ کسی گہرے نقش کی مانند انسانی شعور پر ثبت ہو جاتے ہیں۔
عصرِ حاضر کا یہ ہنگامہ خیز منظرنامہ بھی کچھ ایسا ہی ہےجہاں فضا بارود کی تلخی سے لبریز ہےلیکن اسی فضا میں وطن عزیز پاکستان کی حکمت ودانش سے بھرپور حکمت عملی کی صورت میں کہیں ایک مدھم سی روشنی کسی دور افتادہ چراغ کی طرح مسلسل ٹمٹماتی ہوئی روشن ہے۔فراق حیدری کےاس شعر کےمصداق:"ان پروانوں میں ایک تتلی بھی تھی فراق.... ننھی منی سی چلتی مچلتی رہی "۔
مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین جو صدیوں سے تہذیبوں کی آماجگاہ رہی ہے گزشتہ کچھ عرصہ سے ایک بار پھر طاقت اور اضطراب کی کشمکش کا میدان بنی ہوئی ہے۔ یہاں ریت کے ذروں میں بھی ایک بے چینی ہے جیسے ہر ذرہ کسی آنے والے طوفان کی پیشگی خبر دے رہا ہو۔ سمندر کی موجیں بھی فطرت کا نغمہ نہیں رہیں جنگی جہازوں کے بوجھ تلے دب کر ایک خاموش کراہ میں تبدیل ہو چکی ہیں-
فضائیں جو کبھی زندگی کی بشارت لاتی تھیں اب اندیشوں کی دھند میں لپٹی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ اسی ہنگامہ آرائی کے بیچ ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب اسلام آباد کے پرسکون دامن میں خاموشی نے گفتگو کا پیرہن اوڑھ لیا۔ یہاں ہونے والے مذاکرات کسی فریق کی فتح کااعلان ہرگز نہ تھے، نہ کسی معاہدے کی واضح سطورجبکہ یہ وہ چند شکستہ جملے تھے جو انسانی فہم کی آخری حدوں پر کھڑے ہو کر ادا کیے جاتےہیں ۔
اسلام آباد، جو ہمیشہ سے پہاڑوں کی آغوش میں ایک متوازن خاموشی کا شہر رہا ہےاس روز ایک غیر مرئی بوجھ سے دبا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ سفارتکاروں کے قافلے جب اس شہر میں داخل ہوئے تو تمام اقوام عالم کی نظریں پاکستان پر ٹھہر چکی تھیں اور یہاں تشریف لانے والے مہمان محض نمائندے نہیں تھےیہ اپنے اپنے ملکوں کے خوف، خدشات اور امیدوں کے امین بھی تھے۔ ان کے چہروں پر سنجیدگی تھی اور آنکھوں میں ایک انجانی سی تھکن جو طویل کشمکش اور لاحاصل تصادم کا مقدر بن جاتی ہے۔گو یہ مذاکرات کسی حتمی منزل کانشان نہ سہی، ایک ایسا وقفہ ضرور تھےجو طویل سفر میں کسی مسافر کو سانس لینے، اپنے زخموں کو سہلانے اور اپنی سمت کا ازسرِنو تعین کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اس وقفے میں ایک خاموش دعا بھی شامل تھی ایک ان کہی خواہش تھی کہ شاید یہ دنیا جو مسلسل تصادم کے دہانے پر کھڑی ہے،ایک لمحے کے لیےرک جائے اور انسانی بربادی اورایک بڑے انسانی المیےسے محفوظ ہوجائے۔
دنیا کی تاریخ ہمیں بارہا یہ سبق دیتی آئی ہے کہ جنگیں اچانک نہیں ہوتیں یہ آہستہ آہستہ انسانی انا، خوف اور بداعتمادی کی تہوں میں جنم لیتی ہیں۔ اسی طرح امن بھی کسی معجزے کا نتیجہ نہیں ہوتا یہ بھی انہی تہوں کو کھولنے، سمجھنے اور قبول کرنے کے عمل سے نمودار ہوتا ہے۔
اسلام آباد کی ان سرگوشیوں میں اسی فہم کی ایک ایسی ہی مدھم جھلک تھی جوکہ مکمل تاریکی میں بھی راستہ دکھانے کی سکت رکھتی ہے۔ یہ سوال اب بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے:کیا یہ سرگوشی ان سیاہ جنگی بادلوں کےگرجتے،برستے ہوئے شور پر غالب آ سکے گی؟یا یہ بھی تاریخ کے ان نادیدہ گوشوں میں خدانخواستہ گم ہو جائے گی جہاں امیدیں دم توڑ دیتی ہیں اور انسان اپنی ہی بنائی ہوئی آگ میں جلتا رہتا ہے؟
بارود کے اس عہد میں کہ جہاں ہر سمت اضطراب کی ایک نہ ختم ہونے والی لہر دوڑ رہی ہے، اسلام آباد کا یہ لمحہ ہمیں یہ ضرور باور کراتا ہے کہ خاموشی اگر خلوص سے برتی جائے تو کبھی کبھی سب سے بلیغ اور مؤثر گفتگو بن جاتی ہےاور شاید اسی خاموشی میں انسانیت کی بقا کا آخری راز پوشیدہ ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کےاس حالیہ بیان ’’جلد دوبارہ اسلام آباد میں مذاکرات کی میز سجے گی ‘‘ کے بعداس امید کےامکان زیادہ روشن ہوچکےہیں کہ دنیاجلد امن کی طرف لوٹ آئے گی۔ دوسری طرف امریکی صدر کی یہ بات پاکستان کی امن کوششوں کو سراہنے اور پاکستان پر امریکی اعتماد کا بھی مظہر ہے۔