پاکستان نے دنیا کے دو بڑے مخالفین، سپرپاور امریکہ اور پڑوسی ملک ایران کو اپنے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک چھت تلے ایک میز پر ایک ساتھ بٹھا کر دنیا کو حیران کردیا ہے۔ شاہِ ایران کا تختہ الٹنے کے بعد یہ پہلا تاریخی موقع تھا جس میں دونوں ممالک کے مابین براہ راست آمنے سامنے بات چیت ہوئی، دنیاکا وہی عالمی میڈیا جوطویل عرصے سےپاکستان کو دہشت گردی، لاقانونیت، انارکی، جنگی صورتحال سمیت مختلف منفی ایشوز سے نتھی کرتا تھا، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کامیاب ڈپلومیسی کی بدولت پاکستان کااصلی مثبت چہرہ پیش کرنےپر مجبور ہوگیا۔ میں اپنے گزشتہ کالموں میں تفصیل سے روشنی ڈالتا آرہا ہوں کہ ہمارے اوپر آسمان پر ستاروں کی چال کس طرح سے دھرتی پر بسنے والے انسانوں کی قسمت پر اثرانداز ہوتی ہے۔موجودہ عالمی منظرنامے میں پاکستان کے تیزی سے اُبھرتے کردار کے حوالے سے میری ویدک نجومیوں سے تفصیلی گفتگو ہوئی جسکے چیدہ چیدہ نکات میں آ پ کے ساتھ شیئر کرنا چاہوں گا۔ جوتشیوں کے مطابق رواں ماہ اپریل میں برج حمل میں بہت سے ستارے بشمول سورج، مریخ، عطارد، نیپچون اور زحل جمع ہیں جن میں جنگ و جدل کا ستارہ مریخ دس اپریل سے بہت زیادہ طاقتور پوزیشن اختیار کررہا ہے، دس اپریل سے پندرہ اپریل تک کا دورانیہ ستارے مریخ اورنیپچون کے ملاپ کے باعث غلط فہمیوں، کنفیوژن ، جلدبازی اور عجلت میں فیصلوں کے منفی اثرات سے باز رہنے کی تلقین کرتا ہے، ویدک علم نجوم کی رُو سے پندرہ اپریل تک ایران امریکہ ڈپلومیسی کمزور ترین پوزیشن میں ہے اورا س دوران کچھ غلط فیصلے دنیا کو عدم استحکام سے دوچار کرسکتے ہیں، جوتشیوں کا مزید خبردار کرنا ہے کہ پندرہ اپریل تک جارحانہ بیان بازی اورایک دوسرے پر دباؤ ڈالنےمیں شدت متوقع ہے، انیس اپریل تک سخت بیانات اور دھونس دھمکی کا سلسلہ جاری رہے گا اور پھر انیس اپریل کو سورج برج ثور میں ایسے وقت داخل ہوگا جب عالمی برادری بشمول چین ، روس ، ایشیائی ممالک اور خلیجی ریاستیں تیل اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں سے شدید متاثر ہوچکی ہوں گی اور وہ معاشی بنیادوں پر اس عالمی تنازع کا حل تلاش کرنے کی سوچ کو پروان چڑھائیں گے ۔ جوتشیوں کی مذکورہ پیش گوئیوں کو عالمی حالات کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو پاکستان کی میزبانی میں امریکہ ایران مذاکرات سے دنیا کو یہ امید ہوچلی تھی کہ دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی مستقل سیزفائر کی صورت اختیار کرلے گی، ایران پر عالمی پابندیوں کے خاتمے اورآبنائے ہرمز کھلنے کے بعد تیل کی عالمی منڈیوں میں بہتری آجائے گی، تاہم اسلام آباد مذاکرات کا بغیر نتیجہ اختتام اقتصادی صورتحال میں مزید بے چینی کا باعث بنا،اس سے پہلے ایران نے اپنے مخالفین کے بحری جہازوں کی آبنائے ہرمز سے آمدورفت پر پابندی لگائی ہوئی تھی ، اب امریکہ نے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کرکے وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، اب اقتصادی صورتحال اس لحاظ سے پیچیدہ ہورہی ہے کہ پہلے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے امریکہ حامی ممالک اور خلیجی عرب ریاستیں متاثر تھے جبکہ چین سمیت کچھ ممالک کو استثنیٰ حاصل تھا، اب امریکہ ہر اس بحری جہاز کو طاقت کے زور پر روکنے کی کوشش کرے گا جو ایران کی اجازت سے آبنائے ہرمز کا راستہ استعمال کرے گا، یہ ممکنہ صورتحال میری نظر میں ایرانی تیل کے سب سے بڑے خریدار چین کو عملی طور پر میدان میں اُترنے پر مجبور کرسکتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان، ترکیہ اور مصر اب بھی امریکہ ایران امن معاہدے کیلئے کوشاں ہیں ، علم نجوم کے مطابق مذاکرات کے دوسرے دورکا فیصلہ کرنے کیلئے موزوں ترین وقت پندرہ اپریل تا بیس اپریل ہے جب تمام فریقین اور عالمی برادری پر تنازع کے حل کیلئے اقتصادی سوچ غالب آچکی ہوگی۔ تاہم ستاروں کی چال اس امر سے بھی خبردار کرتی ہے کہ اگر بیس اپریل سے پہلے امن کی جانب پیش رفت نہ کی جاسکے اور کوئی بریک تھرو نہ ہوسکا تو پھر کیا ہوگا؟ کیا امریکہ ناکہ بندی کا مقصدایرانی تیل کے سب سے بڑے خریدار چین پر دباؤ ڈالنا ہے کہ وہ ایران کو امریکی شرائط ماننے کیلئے قائل کرے ؟ اور اگرآبنائے ہرمز سے گزرنے والے چینی پرچم لگے بحری جہازوں کو امریکی بحریہ نے نشانہ بنایا تو کیا چین صبروتحمل کا مظاہرہ کرے گا یا پھر اپنے خلاف جنگ سمجھتے ہوئے بھرپور جوابی قدم اُٹھانے پر مجبور ہوجائے گا؟ یہی پیچیدہ صورتحال چین کے سب سے قریبی اتحادی پاکستان کو بھی درپیش ہوگی جب ایک طرف آبنائے ہرمز سے گزرنے کی پاداش میں امریکہ پاکستانی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو دوسری طرف پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ تقاضا کرے گا کہ پاکستان سعودی سرزمین میں رہتے ہوئے سعودی عرب کے تحفظ کی خاطر ایرانی فضائی حملوں کو ناکام بنائے، یہی وہ سنجیدہ نوعیت کے شدید خطرات ہیں جنکی بناء پر جوتشی اپریل کے مہینے کو ہائی رسک ، ہائی ایکشن اور ہائی کنفلیکٹ مہینہ قرار دے رہے ہیں۔میں ستاروں کی چال کو مدنظر رکھتے ہوئے اب بھی پُرامید ہوں کہ پاکستان کی ثالثی میں اکیس اپریل سے پہلے ایک اور مذاکراتی دور ہو سکتا ہے ، تاہم اسکے لئے ضروری ہے کہ تمام فریقین جوش کی بجائے ہوش سے کام لیں۔ بیس اپریل کے بعد مکمل امن کا قیام ہوگا یا پھر جنگ کا المناک منطقی انجام؟ کیاپاکستان کی ثالثی کیلئے مخلصانہ کوششیں رنگ لائیں گی یا پھرپاکستان جنگ کا حصہ بنے گا؟ چین ایران کو لچک دکھانے پر قائل کرلے گا یا پھر امریکہ کے خلاف طبل جنگ بجا دیگا؟ کیا دہائیوں سے عالمی پابندیوں کا شکار جنگ زدہ ایران امریکہ سے ہاتھ ملا کر ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکے گایا پھر صدیوں قدیم ایرانی تہذیب صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی؟ ان تمام سوالات کا جواب پندرہ اپریل سے بیس اپریل کے دوران رونماء ہونے والےعالمی حالات و واقعات پر منحصر ہے۔ امید کرتا ہوں کہ موسم بہار میں سات ستاروں پر مشتمل برج ثور کا خوبصورت جھرمٹ امن کا سندیسہ لیکر آسمان پر جگمگائے۔