• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات اگرچہ کسی ٹھوس نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تاہم اس پیش رفت کو کسی فریق کی ناکامی قرار دینا درست نہیں ہو گا۔ اس کے برعکس یہ مذاکرات دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں کیونکہ فریقین نے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا ہے اور جلد ہی مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے کی امید ہے۔ اس سلسلے میں جنگ بندی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ ان مذاکرات کا ہو جانا اور امریکہ و ایران کی اعلیٰ قیادت کا ایک میز پر بیٹھ کر اپنا اپنا موقف پیش کرنا ایک ایسا بریک تھرو ہے جسے پاکستان کی اہم سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اسکے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت اور تعمیری شناخت کو تقویت ملی ہے۔ اس حوالے سے دونوں ممالک نے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فریقین پاکستان کو ایک غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور مستقبل میں دوبارہ بھی اس کی میزبانی میں مذاکرات کے ذریعے کسی تصفیے تک پہنچ سکتے ہیں۔ دنیا کے بڑے تنازعات کی تاریخ گواہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست بالخصوص جنگ کے دوران اکثر مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر پہنچنے کی بجائے اعتماد سازی اور آئندہ کی پیش رفت کیلئے بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس تناظر میں اسلام آباد میں ہونیوالے مذاکرات کو بہتری کی جانب ایک بڑے قدم کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

یہ مذاکرات پاکستان کیلئے اس لحاظ سے اہم ہیںکہ اسے نہ صرف خطے میں قیام امن کیلئے اہم سفارتی کامیابی حاصل ہوئی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک سے معاشی و دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا موقع بھی ملا ہے۔ اب یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سفارتی کامیابی کو ملک کی معاشی بہتری کیلئے بروئے کار لاتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے برادر اسلامی ممالک سے معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرے۔ اس حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر ان ممالک کی دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی تیار کرنی چاہئے۔ علاوہ ازیں پاکستان اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے مابین فوڈ سکیورٹی اور زراعت کے شعبے میں تعاون کے بھی وسیع مواقع موجود ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے اعلیٰ تربیت یافتہ ماہرین اور افرادی قوت کیلئے بھی مشرق وسطیٰ بالخصوص سعودی عرب میں بہتر مواقع میسر آنے کی امید ہے۔ ان حالات میں اگر پاکستان اپنی سفارتی کامیابیوں کے اس تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے ذمہ دار، امن پسند اور مصالحتی کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر اپنا کردار نبھانا جاری رکھتا ہے تو اس عمل سے پاکستان کو عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ بھی اپنے تعلقات بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا تیزی سے جیوپولیٹکل تقسیم کا شکار ہو رہی ہے پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی اور تنازعات کو حل کروانے کی کوششوں نے عالمی سطح پر اس کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے حالیہ مذاکرات سے اسلام آباد ایک قابلِ اعتماد سفارتی پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ پیش رفت مستقبل میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے ایک نئے اور زیادہ نتیجہ خیز دور کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان اپنے محل وقوع کے اعتبار سے کئی خطوں کے سنگم پر واقع ہے جو عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی اہم وجہ بن سکتاہے۔ ایک پرامن اور بااعتماد پاکستان جنوب میں بحیرہ عرب کی طرف، شمال میں وسطی ایشیا اور مغرب کی طرف مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی منڈیوں تک رسائی کے خواہاں عالمی سرمایہ کاروں کیلئے ایک بہترین لاجسٹک اور اسٹرٹیجک مقام بن سکتا ہے۔ اس حوالے سے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے ملک میں ٹیکس اصلاحات، کاروبار کرنے میں آسانی کیلئے قوانین کی تشکیل ضروری ہے۔ علاوہ ازیں برآمدات بڑھانےکیلئے ایکسپورٹ انڈسٹری کی خطے کے دیگر ممالک سے مسابقت بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ عالمی سرمایہ کاری کا رخ اس شعبے کی جانب موڑا جا سکے۔ اس سلسلے میں ہر سیکٹر کا الگ الگ تجزیہ کرکے حکمت عملی بنانی ہوگی کہ انکی پیداواری لاگت کو کیسے کم کرکے عالمی سطح پر مسابقت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ اسی طرح ٹیکسٹائل، فرنیچر اور آئی ٹی سمیت تمام برآمدی شعبوں کے سب سیکٹرز کے حوالے سے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر توجہ بھی دینی چاہئے۔

علاوہ ازیں سی پیک کے تحت چین سے آنیوالے سرمایہ کاروں کو سکیورٹی، محصولات کی وصولی کے نظام، روپے کی قدر میں کمی اور پاکستان میں کاروبار سے حاصل ہونیوالے منافع کو ڈالر کی شکل میں واپس اپنے ملک منتقل کرنے کے حوالے سے درپیش مسائل کا حل بھی ضروری ہے۔ اس حوالے سے پہلے مرحلے میں بڑی چینی کمپنیوں کے بڑی پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ جوائنٹ وینچر کروائے جا سکتے ہیں۔ اس سےدونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات بہتر ہوں گے اوردوطرفہ کاروباری تعلقات میں بہتری سے عوامی رابطوں میں بھی اضافہ ہو گا جبکہ چینی کمپنیوں کو پاکستان میں کاروبار کرنے کے حوالے سے درپیش مسائل کو بھی خاطر خواہ حد تک کم کیا جا سکے گا۔ موجودہ حالات میں پاکستان اور چین کودفاعی میدان میں تعاون مزید بڑھانا ہوگا۔ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال اور اس سے پہلے مئی 2025ء میں بھارت کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد سے پاکستان عالمی سطح پر دفاع کے شعبے میں دیگر ممالک کی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے ابھر کر سامنے آیا ہے اور اس شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

تازہ ترین