روس اور یوکرین کی جنگ سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ وسطی ایشیاء سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مہاجرین کو دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے جنگ میں جھونکا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق تاجکستان سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ نوجوان حشرزجون سالوہدینوف نے بتایا ہے کہ میں سینٹ پیٹرزبرگ میں بطور کوریئر کام کر رہا تھا جب مجھے ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا، میں 9 ماہ تک حراست میں رہا تاہم عدالت نے کمزور شواہد کی بنیاد پر کیس آگے نہ بڑھایا۔
انہوں نے بتایا کہ رہائی کے بجائے جیل حکام نے مجھے دھمکی دی کہ اگر میں جنگ میں جانے پر رضامند نہ ہوا تو مجھے خطرناک قیدیوں کے ساتھ رکھا جائے گا، ساتھ ہی مجھے 2 ملین روبل بونس، 200000 روبل ماہانہ تنخواہ اور معافی کی پیشکش بھی کی گئی، مجبور ہو کر میں نے 2025ء میں فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔
انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق 2023ء سے مہاجرین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، خاص طور پر تاجکستان، ازبکستان اور کرغزستان کے شہریوں کو، انہیں معمولی قانونی خلاف ورزیوں پر گرفتار کیا جاتا ہے یا پھر سیدھا فوجی بھرتی مراکز بھیج دیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہزاروں وسطی ایشیائی افراد کو محاذ پر بھیجا جا چکا ہے جہاں ان کی اوسط زندگی صرف 4 ماہ بتائی جاتی ہے۔
سالوہدینوف کے مطابق محاذ پر جاتے ہوئے تربیت نہ ہونے کے برابر تھی جبکہ فوجی سامان بھی ناقص تھا، یونٹ میں موجود زیادہ تر مسلمان فوجیوں کو مذہبی آزادی بھی نہیں دی گئی تھی۔
عرب میڈیا کے مطابق سالوہدینوف نے انکشاف کیا ہے کہ جنوری 2026ء میں محاذ پر پہنچنے کے صرف 4 دن بعد مجھے ایک خطرناک مشن پر بھیجا گیا جہاں میں نے اپنے کمانڈر کے ساتھ ہتھیار ڈال دیے مگر مخالف فوج نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اب میں واپس تاجکستان جانا چاہتا ہوں اور قیدیوں کے تبادلے سے خوفزدہ ہوں کیونکہ واپسی کی صورت میں مجھے دوبارہ جنگ میں بھیجا جا سکتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق وسطی ایشیائی ممالک نے اب تک اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار نہیں کیا ہے تاہم تاجک حکام نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین جنگ میں حصہ لینے والے شہریوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔