• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کے مجوزہ عظیم الشان محراب منصوبے کی منظوری، واشنگٹن میں تنازع شدت اختیار کر گیا

---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے واشنگٹن ڈی سی میں ایک دیوہیکل محراب (آرچ) تعمیر کرنے کے منصوبے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، یو ایس کمیشن آف فائن آرٹس نے اس کے مجوزہ ڈیزائن کی منظوری دے دی۔

رپورٹس کے مطابق کمیشن جس کے ارکان کا تقرر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا، اس نے 76 میٹر (250 فٹ) بلند محراب کے ڈیزائن کو منظور کر لیا ہے۔

حتمی منظوری کی صورت میں یہ محراب ارلنگٹن نیشنل سیمنٹری اور لنکولن میموریل کے درمیان میموریل سرکل میں تعمیر کیا جائے گا، جو دارالحکومت کی دیگر عمارتوں سے بلند ہو گا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے اس پیش رفت کو صدر کے انتخابی وعدے امریکا کو محفوظ اور خوبصورت بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔

تاہم اس منصوبے کو شدید تنقید کا سامنا بھی ہے، خاص طور پر اس خدشے پر کہ یہ محراب قومی قبرستان کے مناظر کو متاثر کر سکتی ہے، جہاں سابق فوجیوں کو دفن کیا گیا ہے۔

 اس حوالے سے پبلک سٹیزن لیٹیگیشن گروپ ویتنام جنگ کے کچھ سابق فوجیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے عدالت میں مقدمہ بھی دائر کر چکا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس منصوبے کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔

کمیشن آف فائن آرٹس کے نائب چیئرمین جیمز نے بھی ڈیزائن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے محراب کے اوپر نصب پروں والے مجسمے اور عقاب ہٹانے کی تجویز دی ہے، جبکہ بنیاد پر بنائے جانے والے شیروں پر بھی اعتراض اٹھایا ہے کہ یہ شمالی امریکا کے قدرتی جانور نہیں ہیں۔

یہ منصوبہ ٹرمپ کی جانب سے واشنگٹن کے منظر نامے پر اپنی چھاپ چھوڑنے کی ایک اور کوشش قرار دیا جا رہا ہے، اس سے قبل بھی ان کے متعدد منصوبے جیسے وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ کی مسماری اور نئے بال روم کی تعمیر، قانونی تنازعات کا شکار رہ چکے ہیں۔

عدالتی کارروائی کے دوران جج نے بال روم منصوبے کے کچھ حصوں پر عارضی پابندی برقرار رکھی ہے، جبکہ زیرِ زمین تعمیرات جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ مجوزہ محراب کا سائز آرک دی ٹرائی اومفی سے تقریباً دگنا ہو گا، جبکہ اس پر ون نیشن انڈر گاڈ اور لبرٹی اینڈ جسٹس فار آل جیسے نعرے سنہری حروف میں درج کیے جائیں گے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید