امریکا میں ایچ بی 1 ویزا لاٹری میں اس سال نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جہاں بعض کیسز میں سلیکشن ریٹ 75 فیصد تک جا پہنچا۔
امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ لاء کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل یہ شرح تقریباً 33 فیصد کے قریب تھی، تاہم درخواستوں میں نمایاں کمی کے باعث منظوری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ ٹرمپ انتظامیہ کی ویزا پروگرام میں کی گئی تبدیلیاں قرار دی جا رہی ہیں۔
2026ء میں امریکی کاروباری اداروں نے ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے اس ویزا پروگرام میں سلیکشن ریٹس میں واضح بہتری کا تجربہ کیا، کئی برسوں سے کم ہوتے امکانات کے برعکس اس سال متعدد کیسز میں منظوری کی شرح 50 فیصد سے تجاوز کر گئی، جبکہ کچھ مواقع پر یہ 75 فیصد تک بھی پہنچ گئی۔
بڑی امیگریشن فرمز اور اداروں نے اس سال اسپیشلٹی آکوپیشن ویزا پروگرام میں نمایاں کامیابی کی شرح دیکھی۔
اس سے قبل سلیکشن کے امکانات تقریباً ایک تہائی یعنی 33 فیصد کے قریب ہوتے تھے، تاہم اس سال کئی اداروں نے 50 فیصد سے زائد شرح کی اطلاع دی۔
زیادہ تنخواہوں اور ماسٹرز ڈگری رکھنے والے امیدواروں کے لیے بعض کیسز میں یہ شرح 75 فیصد سے بھی اوپر رہی۔
ماہرین کے مطابق منظوری کی شرح میں یہ اضافہ اتفاقی نہیں بلکہ پالیسی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نیا ویٹڈ لاٹری سسٹم متعارف کرایا، جو زیادہ تنخواہ اور تجربہ رکھنے والے امیدواروں کو ترجیح دیتا ہے، تاہم سب سے بڑا عنصر درخواست دہندگان کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی ہے۔
اس کی بنیادی وجہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکا سے باہر سے بھرتی کیے جانے والے نئے ایچ بی 1 کارکنوں پر 1 لاکھ ڈالرز کی فیس کا نفاذ ہے۔
اس بھاری فیس نے بین الاقوامی بھرتی کو بہت سے اداروں کے لیے مہنگا اور مشکل بنا دیا، جس کے باعث یونیورسٹیز اور اسپتالوں جیسے شعبوں نے بیرونِ ملک سے نئی بھرتیاں تقریباً روک دیں۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں اور دیگر کاروباری اداروں نے بھی، جو سالانہ ویزا حد کے تحت آتے ہیں، بیرونِ ملک کارکنوں کی اسپانسر شپ سے بڑی حد تک گریز کیا۔
اس کے نتیجے میں لاٹری کے لیے رجسٹریشنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی، ایک لاء فرم کے تخمینوں کے مطابق اس سال درخواستوں کی تعداد 1 لاکھ 95 ہزار سے 3 لاکھ 35 ہزار کے درمیان رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 43 فیصد تک کم ہے اور 2020ء کے بعد کم ترین سطح ہے۔
اس کے مقابلے میں 3 سال قبل درخواستیں 7 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کر گئی تھیں۔