سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے 46 ہزار میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے باوجود لوڈشیڈنگ پر حیرت کا اظہار کردیا۔
سابق نگراں وزیر اور چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ گوہر اعجاز نے موجودہ بجلی لوڈشیڈنگ کو حکومت کی بدانتظامی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ 46 ہزار میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے باوجود لوڈ شیڈنگ حیران کن ہے، سوال یہ ہے کہ لوڈ مینجمنٹ کون اور کس طرح کر رہا ہے۔ صنعتوں کو 2 سے 4 گھنٹے جبکہ گھریلو اورکمرشل صارفین کو 7 سے 16 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ موسم گرما کے آغاز پر ہی شارٹ فال 4090 میگا واٹ تک پہنچ چکا ہے، جون سے اگست اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت آج بجلی کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر پا رہی تو جون تا اگست کیسے کرے گی؟
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بجلی بحران پاور سیکٹر کی بد انتظامی اور ناکامی ہے، پن بجلی کا سستا منصوبہ نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ بند پڑا ہے۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ عوام 46 ہزار میگاواٹ کے کیپسٹی چارجز ادا کر رہے ہیں، اتنی ہی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ بجلی بحران پاور سیکٹر کی بد انتظامی اور ناکامی ہے، گیس کی ناقص تقسیم کے باعث گیس پاور پلانٹس کو استعمال نہیں کیا جا رہا۔ رات کے اوقات میں ڈیمانڈ بڑھنے سے سولر بجلی کی سپلائی رک جاتی ہے۔