امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا جنگ بندی کے ممکنہ مذاکرات سے قبل سوشل میڈیا پر متعدد دعوے کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کبھی بند نہیں کرے گا اور اپنا جوہری مواد امریکا کے حوالے کرے گا تاہم ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی اور کئی سوالات بدستور موجود ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا رکھنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ایرانی حکام نے عارضی طور پر جنگ بندی کے دوران تجارتی جہازوں کی آمدورفت کی اجازت دینے کی تصدیق کی ہے لیکن مستقل طور پر کھلا رکھنے کی بات کی تردید کی گئی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ میں شائع کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق ایران اس اہم گزرگاہ کو اپنی اسٹریٹجک طاقت سمجھتا ہے اس لیے ایران کا ایسا مستقل وعدہ کرنا غیر متوقع ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران اپنا ’جوہری ڈسٹ‘ امریکا کو دے گا اور اس کا جوہری پروگرام ختم ہو جائے گا جبکہ ایرانی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افزودہ یورینیم ملک کی خودمختاری کا حصہ ہے اور اسے کسی صورت منتقل نہیں کیا جائے گا۔
الجزیرہ نے اپنے ذرائع کے توسط سے دعویٰ کیا ہے کہ جوہری معاملہ ابھی مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اسرائیل کو لبنان پر حملوں سے روک دیا گیا ہے لیکن امریکا عموماً اسرائیل پر اس نوعیت کی سخت پابندیاں عائد نہیں کرتا اس لیے اس بیان پر بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھی تو وہ دوبارہ آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے جس سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے بیانات میں مبالغہ آرائی ہو سکتی ہے اور وہ ممکنہ معاہدے کے لیے ماحول سازگار بنانے یا عالمی منڈیوں کو مستحکم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم اصل پیش رفت کا انحصار آئندہ مذاکرات پر ہوگا جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ جَلد شروع ہو سکتے ہیں۔