ایران امریکہ جنگ کے شعلوں کو بھڑکنے سے روکنے کی کوششوں میں اسلام آباد میں ہونیوالا امن مکالمہ بیک ڈور ڈپلومیسی اور شٹل ڈپلومیسی کے مرحلوں میں ایک منظر ایسا ہے جو ہمیشہ کیلئے تاریخ کا حصہ بن گیا ہے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا جنگی یونیفارم میں جنگ زدہ ایران کی سرزمین پر پورے طمطراق سے سینہ تان کر قدم رکھنا اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو گلے سے لگانا ،یہ ایک ایسا منظر ہے جو تاریخ میں ہمیشہ جگمگائے گا اور اس جرات اور بہادری کی توضیح تجزیہ کار مختلف زاویوں سے کرتے رہیں گے اور کر رہے ہیں جنگ زدہ ماحول میں قرضوں میں ڈوبے اور مقامی طور پر مسائل کے انبار سے نبردآزما پاکستان کے فیلڈ مارشل کا ایران جا کر انکے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت امریکہ اسکے گماشتے اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا ہے دو اور دو کو صرف چار سمجھنے والی دنیا کیلئے حیران کن ہے جو نہیں جانتے کہ کبھی دو اور دو پانچ بھی ہو جاتے ہیںیہ ناممکنات جیسا منظر صرف اسلئے ممکن ہوا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہےپاکستان کو گونا گوںمسائل کیساتھ مضبوط بنانیوالی جوہری طاقت نے پاکستان جیسی کمزور معیشت والے ملک کو دفاعی Deterrence دی یہی وہ طاقت ہے جسکی بنیاد پر پاکستان آج امن کا ثالث بنا ہے سچ تو یہ ہے کہ اس روزایران کی سرزمین پر صرف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قدم نہیں رکھا ان کے ساتھ محسن پاکستان عبدالقدیر خان بھی موجود تھے،محسن پاکستان عبدالقدیر خان کے ساتھ ان کے وہ تمام سائنس دان اور تکنیکی ماہرین بھی موجود تھے جو پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے گمنام ہیرو ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پس منظر میں کھڑے ہوئے مجھے پاکستان کی تمام عسکری اور سول حکومتوں کے اہل اختیار بھی نظر آئے جنہوں نے اپنے اپنے اختیار کے دائرے میں رہ کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو دشمنوں کی بد نظروںسےمحفوظ رکھا دباؤ قبول نہیں کیا اور کمزور معاشی صورتحال میں بھی ایٹمی پروگرام پر کام جاری رکھا۔پاکستان کو جوہری طاقت بنانے کا خواب ذوالفقار علی بھٹو کا تھا اور یہ اعزاز ان سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔1971ء میں پاکستان کا آدھا حصہ کھو دینے کے بعد زخم خوردہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے1972ء میں اس خواب کی بنیاد رکھی تھی اس کے بعد خواب سے تعبیر تک کا ایک مشکل سفر ہے جو کئی دہائیوں میں طے ہوا اور بقول شاعر ’’رہ رو راہ محبت کا خدا حافظ ہو... اس میں دو چار بڑے سخت مقام آتے ہیں‘‘ اس سفر میں ایک دو نہیں کئی سخت مقام آئے اور سچ تو یہ ہے کہ یہ راستہ تھا ہی پتھریلا جس پر چلتے ہوئے پاؤں زخمی ہونا تو معمولی بات تھی۔ پاکستان کی ہر عسکری اور سول حکومت نے اس پروگرام کی حفاظت کی، ضیاء الحق کے دور میں ایٹمی پروگرام آگے بڑھا اور خاص تکنیکی کامیابیاں حاصل کی گئیں۔ 1998ء میں اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 28 مئی کو ایٹمی دھماکے کر کے دنیا میں پاکستان کے ایٹمی طاقت کے ہونیکا اعلان کیا اور یقیناً یہ وہ اعزاز ہے جو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا، یہ اعلان آسان نہیں تھا عالمی دباؤ موجود تھا۔بھارت کے دھماکوں کے بعد اپنی طاقت کا اعلان کرنا ضروری تھا اسے ہی ڈیٹرینس کہتے ہیں۔ بینظیر بھٹو کی ایٹمی پروگرام کیساتھ خاص وابستگی اور کمٹمنٹ تھی یہ پروگرام انکے والد ہی نے شروع کیا تھا اور بطور وزیراعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو نے کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا اور اسے جاری رکھا مگر پھر ہم نے مشرف کا دور بھی دیکھا جب سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر بے چہرہ جنگ میں پاکستان کو جھونکا گیا اورعالمی طاقتوں کو خوش کرنے کیلئے محسن پاکستان کو غدار قرار دیا گیا ،ان پر پابندیاں لگائیں گی اور سب سے شرمناک بات کہ انکی ڈی بریفنگ کی گئی ان سے معافی منگوائی گئی، کئی قومی اخبارات میں محسن پاکستان کا نام چھپنے پر پابندی تھی بلا شبہ یہ ایٹمی سائنسدان کے ساتھ بد سلوکی کا ایک تاریک دور تھا انہوں نے اپنی زندگی کے آخری برس نیم اسیری میں گزارے یہ سلوک ہم نےاپنے قومی ہیرو کیساتھ کیاجس نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنایا اور آج فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صورت میں پاکستان نےجنگ کے ممکنہ بھڑکتے شعلوں کے درمیان ایران کی سرزمین پر قدم رکھا اپنے برادر اسلامی ملک کو گلے سے لگایا اسلئے کہ پاکستان کے پاس ایک دفاعی ڈیٹرنس موجود ہے اسی لیے تو کہتی ہوں کہ فیلڈ مارشل کیساتھ دیکھیے کہ پورا ایک قافلہ ہے جو ایران کی سرزمین پر اترا محسن پاکستان اس میں سب سے آگے کھڑے ہیں۔ کیسا عجیب اتفاق ہے کہ پاکستان کو ایک دفاعی اور جوہری ڈیٹرنس والے ملک کی حیثیت سے یہ کامیابیاں اپریل کے مہینے میں نصیب ہوئیں اوراپریل کا مہینہ محسن پاکستان کی پیدائش کا مہینہ بھی ہے بھوپال میں پیدا ہونے والا عبدالقدیر خان بانی پاکستان کے بعد سب سے زیادہ چاہے جانے والا ہیرو اب محسن پاکستان کے درجے پر فائز ہے اور فائز رہے گا اور وہ جو عالمی غنڈوں کے دباؤ پر انہیں مجرم ٹھہراتے رہے وہ تاریخ کے کوڑے دان میں پڑے ہیں تاریخ سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کر کے رہتی ہے۔
میں بطور پاکستانی ہر اس شخصیت کی احسان مند ہوں جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں اپنا حصہ ڈالا عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے اپنی ذات سے اپنے ملک کو بالاتر رکھا سو اس روزوہ تمام نامور اور گمنام ہیرو فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ ایران کی جنگ زدہ سرزمین پر اترے تھے جب اس سرزمین کو دنیا کی ظالم ترین اور بڑی عسکری طاقتیں اپنے نشانے پر رکھے ہوئے تھیں۔ شعر کے ایک مصرعے میں تحریف کیساتھ اجازت چاہتی ہوں ’’وہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھی‘‘ اور میں پاکستان سے عشق کرنیوالوں کے اس قافلے کی ہمیشہ احسانمند رہوں گی جسکے سپہ سالار محسن پاکستان عبدالقدیر خان تھے۔