• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان اس وقت جس بڑے اندرونی خطرے سے دوچار ہے، وہ سرحدوں پر بیٹھا کوئی روایتی دشمن نہیں بلکہ ملک کے اندر خاموشی سے پھٹتا ہوا ’’آبادی کا بم‘‘ ہے۔ حال ہی میں جاری ہونے والی 2023 کی مردم شماری کے اعداد و شمار ایک ایسی بھیانک تصویر پیش کر رہے ہیں جس نے ملک کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ہماری آبادی کی سالانہ شرح نمو تقریباً2 .55فیصد ہے، جو عالمی اوسط (تقریباً 1.1 فیصد) سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ ہم دنیا کے پانچویں بڑے ملک بن چکے ہیں، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے وسائل، زمین اور معاشی ڈھانچہ اس بے ہنگم رفتار کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ ہم ایک ایسے شیطانی چکر میں پھنس چکے ہیں جہاں ہر معاشی ترقی کو بڑھتی ہوئی آبادی نگل جاتی ہے اور ریاست عام آدمی کا معیارِ زندگی بلند کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔

پاکستان کی تاریخ کامطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس معاملے میں ہمیشہ سے غافل نہیں تھے۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں پاکستان خطے کے ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ ایوب خان کے دور میں باقاعدہ مہمات شروع کی گئیں بدقسمتی سے، بعد میں آنیوالے عشروں میں سیاسی عدم استحکام اور مخصوص نظریاتی مصلحتوں نے اس اہم قومی مسئلے کو پسِ پشت ڈال دیا۔ خصوصاً جنرل ضیاء الحق کے دور میں مذہب کی ایسی تعبیر و تشریح کو فروغ دیا گیا جو حکومتی بیانیے سے ہم آہنگ تھی، جسکے نتیجے میں نہ صرف عالمی سطح پر اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں اور اسلاموفوبیا کو تقویت ملی بلکہ اندرونِ ملک ایک سخت گیر اور غیر متوازن مذہبی بیانیہ ابھرا۔ اس فضا نے کم علم مذہبی طبقے کو غیر معمولی اثر و رسوخ دیا، جس کے باعث خاندانی منصوبہ بندی جیسے اہم قومی معاملے کو بھی مشکوک بنا دیا گیا90 کی دہائی میں ’لیڈی ہیلتھ ورکرز‘ پروگرام ایک انقلابی قدم تھا، مگر وقت کے ساتھ فنڈز کی کمی اور بیوروکریسی کی رکاوٹوں نے اس کی افادیت کو محدود کر دیا۔ آبادی کے بے ہنگم پھیلاؤ کا سب سے خطرناک پہلو اس کا قومی سلامتی سے جڑا ہونا ہے۔ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ خوشحال اور تعلیم یافتہ طبقے میں شرح پیدائش کم ہےجبکہ غریب طبقہ، بچوں کی کثیر تعداد پیدا کر رہا ہے۔جب ایک مزدور یا دہقان کے ہاں آٹھ یا دس بچے پیدا ہوتے ہیں تو انکی تعلیم، صحت اور پرورش ناممکن ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً یہ بچے کم عمری میں مدارس کے سپرد کر دیے جاتے ہیں جہاں انہیں مفت رہائش اور خوراک تو ملتی ہے مگر جدید تعلیم سے وہ مکمل طور پر محروم رہ جاتے ہیں۔انہی میں سے بعض بچے بعد ازاں انتہا پسند عناصر کیلئے آسان ہدف بن جاتے ہیں۔

پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ وہ مذہبی بیانیہ ہے عوام کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ بچوں کی تعداد کم کرنا خلافِ فطرت یا کسی بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہے۔بدقسمتی سے ایک ایسا ملک جہاں خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں پولیو سے بچاؤ کی مہم کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور محض اس غلط فہمی کی بنیاد پر کہ پولیو کے قطرے مردوں کو بانجھ بنا دیتے ہیں، نہ صرف والدین اپنے بچوں کو ویکسین پلانے سے گریز کرتے ہیں بلکہ اس مہم سے وابستہ اہلکاروں کی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں۔ یہ رویہ اس جہالت اور سازشی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو خاندانی منصوبہ بندی جیسے اہم قومی معاملے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔حالانکہ ایران، ترکی، انڈونیشیا اور سعودی عرب جیسے اسلامی ممالک نے خاندانی منصوبہ بندی کو نہ صرف اپنایا بلکہ اسے قومی پالیسی کا حصہ بنایا۔بنگلہ دیش کی مثال ہمارے لیے ایک سبق ہے۔ 1971 میں وسائل کی کمی کے باوجود انہوں نے آبادی کو کنٹرول کرنے کو قومی ترجیح بنایا۔ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنایا، دیہی سطح پر ورکرز تعینات کیںاور مذہبی قیادت کو ساتھ ملا کر ایک مربوط حکمت عملی اپنائی۔نتیجتاً آج ان کی شرح نمو تقریباً 1.2فیصد ہے اور معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

پاکستان میں 2 کروڑ 60 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ صاف پانی کی قلت ہے، ہسپتال ناکافی ہیں، اور بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔طبی لحاظ سے بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ کثرتِ اولاد کی وجہ سے ماؤں کی صحت متاثر ہو رہی ہے جبکہ بچوں میں غذائی قلت کی شرح 40 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ ایک ایسی کمزور نسل کو جنم دے رہا ہے جو عالمی مسابقت میں پیچھے رہ جائے گی آبادی کو کنٹرول کرنا محض ایک سماجی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ سمجھا جائے۔ اس کیلئے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں۔تمام سیاسی جماعتیں اس مسئلے پر متفق ہوں اور اسے اپنی پالیسی کا حصہ بنائیں۔ خواتین کی بااختیاری: تعلیم اور صحت کی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔مدرسوں میں جدید تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔میڈیا مہم میںچھوٹے خاندان کے تصور کو فروغ دیا جائے۔

تازہ ترین