راجن پور کے علاقے بھنڈو والا میں کم عمر لڑکی اور لڑکے کی شادی کروانے کی کوشش کی گئی جس کو بارڈر ملٹری پولیس نے ناکام بنا دیا۔
اس حوالے سے بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی ) کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز بر وقت اطلاع پر کارروائی کر کے شادی تقریب رکوا دی گئی۔
بی ایم پی نے کہا ہے کہ دولہا، نکاح خواں اور والدین کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں قائمہ کمیٹی لوکل گورنمنٹ پنجاب اسمبلی نے کم عمری میں شادی پر پابندی کا آرڈیننس منظور کیا تھا۔
آرڈیننس کے متن کے مطابق پنجاب میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی نہیں ہو سکے گی، نکاح کے وقت دولہا اور دلہن کی عمر 18 سال ہونا لازمی قرار دی گئی ہے۔
کم عمری کی شادی قابلِ سزا جرم ہے اور اس پر کریمنل ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی، کم عمری کا نکاح رجسٹر کرنے والے اور نکاح خواں کو کم از کم 1 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔