پاکستان کی تاریخ ا س بات کی گواہ ہے کہ جب بھی جمہوریت نے مضبوط ہونے کی کوشش کی، جب بھی وفاق نے تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کیا، تب کچھ قوتیں ایسی بھی سامنے آئیں جنہوں نے صوبوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ خصوصاً سندھ کے خلاف سازشوں کا سلسلہ کوئی نیا نہیں بلکہ یہ وہ داستان ہے جو قیام پاکستان کے بعد مختلف ادوار میں مختلف شکلوں میں سامنے آتی رہی ہے۔ سندھ، جو پاکستان کی معاشی شہ رگ سمجھا جاتا ہے، ہمیشہ سے قومی یکجہتی کا علمبردار رہا ہے، مگر افسوس کہ اسی سندھ کو بار بار نشانہ بنایا گیا۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سندھ کی سیاسی شناخت کو سب سے زیادہ تقویت دینے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی رہی ہے۔ اس جماعت نے ہمیشہ وفاق پاکستان کو مضبوط کرنے کی بات کی ہے اور سندھ سمیت تمام صوبوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے نہ صرف پاکستان کو ایک متفقہ آئین دیا بلکہ صوبوں کو آئینی حقوق فراہم کیے۔ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ مضبوط پاکستان صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام صوبے خود کو مساوی اور محفوظ سمجھیں۔سندھ کے خلاف سازشوں کا سلسلہ دراصل اس وقت شروع ہوا جب جمہوری قیادت کو کمزور کرنے کے لیے صوبائی تعصبات کو ہوا دی گئی۔ سندھ کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی باتیں کی گئیں، کراچی کو الگ کرنے کی تجاویز سامنے آئیں، اور سندھ کی سیاسی قیادت کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ تمام اقدامات دراصل پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف تھے۔
بینظیر بھٹو شہید نے اپنے دور میں واضح طور پر کہا تھا کہ سندھ کے خلاف کوئی بھی سازش دراصل پاکستان کے خلاف سازش ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے اور اسے سندھ سے الگ کرنے کی کوئی بھی کوشش قومی وحدت کے خلاف ہوگی۔بدقسمتی سے کراچی کو بار بار سیاسی اور انتظامی تجربہ گاہ بنایا گیا۔ مختلف ادوار میں ایسے اقدامات کیے گئے جن سے صوبائی خودمختاری متاثر ہوئی۔ امن و امان کے نام پر سندھ کی منتخب حکومتوں کے اختیارات محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ اقدامات سندھ کے عوام میں احساس محرومی پیدا کرنے کا باعث بنے۔2013 کے بعد کراچی میں جاری آپریشن کو بھی بعض حلقوں نے سندھ کے خلاف سازش قرار دینے کی کوشش کی، حالانکہ امن کا قیام ہر شہری کی ضرورت تھی۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ امن کے نام پر سیاسی انجینئرنگ کی شکایات سامنے آئیں۔ 25 فروری 2016 تک کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ کراچی میں امن کے ساتھ ساتھ سیاسی توازن بھی متاثر ہوا۔کراچی پاکستان کا دل ہے۔ یہاں پنجابی، سندھی، بلوچ، پشتون اور مہاجر سب بستے ہیں۔ کراچی صرف سندھ کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا شہر ہے، مگر اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ سندھ کے آئینی حقوق کو نظر انداز کیا جائے۔ جو عناصر کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی بات کرتے ہیں وہ دراصل پاکستان کے دشمنوں کا بیانیہ مضبوط کرتے ہیں۔آصف علی زرداری نے اپنے دور صدارت میں ’پاکستان کھپے‘ کا نعرہ دے کر یہ واضح پیغام دیا کہ سندھ کی سیاست وفاق پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ اس کے استحکام کے لیے ہے۔ ان کا یہ نعرہ دراصل ان قوتوں کے لیے جواب تھا جو سندھ کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے تھے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ سندھ کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ سندھ کے وسائل پورے ملک کی ترقی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ کراچی کی بندرگاہیں، سندھ کی صنعتیں اور سندھ کی زراعت پورے پاکستان کی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔سندھ کے خلاف سازشوں کا ایک پہلو میڈیا اور پروپیگنڈے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ سندھ کی حکومت کو ناکام ظاہر کرنے کے لیے منظم مہمات چلائی جاتی ہیں۔ کراچی کے مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ مثبت اقدامات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ وفاداری نبھائی ہے۔ قیام پاکستان کی تحریک میں سندھ کا کردار تاریخی ہے۔ سندھ پہلی صوبائی اسمبلی تھی جس نے پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کی۔ ایسے صوبے کی حب الوطنی پر سوال اٹھانا دراصل تاریخ سے انکار کے مترادف ہے۔
سندھ کے خلاف سازشوں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ کون عناصر صوبوں کے درمیان نفرت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ کبھی پانی کے مسئلے کو ہوا دی جاتی ہے، کبھی وسائل کی تقسیم پر تنازعہ پیدا کیا جاتا ہے، اور کبھی انتظامی اصلاحات کے نام پر صوبائی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔پاکستان کی بقا وفاقی نظام کی مضبوطی میں ہے۔ اگر سندھ کمزور ہوگا تو پاکستان مضبوط نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا یا پنجاب کمزور ہوں گے تو پاکستان کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سندھ کے خلاف سازشوں کا ادراک کیا جائے اور ان کا مقابلہ سیاسی بصیرت سے کیا جائے۔ جمہوریت کو مضبوط کیا جائے، صوبائی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کو فروغ دیا جائے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا فلسفہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ سندھ کے عوام پاکستان کے عوام ہیں اور پاکستان کے عوام سندھ کے عوام ہیں۔ یہ رشتہ ناقابل تقسیم ہے۔ آج بھی اگر ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی سیاست کا جائزہ لیں تو ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ ان کی جدوجہد کسی ایک صوبے کے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے تھی۔ سندھ کی سیاست کو پاکستان دشمنی سے جوڑنے والے دراصل خود پاکستان کے دشمنوں کی زبان بولتے ہیں۔سندھ کی سرزمین صوفیوں کی سرزمین ہے، محبت کی سرزمین ہے، اور پاکستان سے وفاداری کی علامت ہے۔پاکستان زندہ باد، سندھ پائندہ باد۔