علم دوستی، سائنسی اپروچ، میرٹ اور مضبوط جمہوریت و سیاست کی بنیاد پر ابھرنے والی طاقت کا دل سے اعتراف کرنا ایک بات ہے، مگر طاقت کو دلیل مان لینا اور بات ہے۔پھر طاقت کے سحر میں مبتلا ہوکر اپنے ہی لوگوں سے منہ پھیر لینا عجیب طرح کی بدذوقی ہے۔ ذہانت پر طاقت کا کوئی اجارہ نہیں ہوتا۔ہرقبیلے کو اسکے حصے کی ذہانت میسر ہے۔ ہر قوم کے پاس ادراک، نشاندہی، جائزہ اور تبدیلی کا طریقہ کار موجود ہوتا ہے۔دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ قوم میں تنقیدی ذہن موجود ہے یا نہیں۔تنقیدی ذہن کو پسند نہیں کیا جاتا،مگربرداری کو راستہ نکالنے میں تنقیدی ذہن ہی مدد دیتاہے۔ہم آج جہاں جیسے ہیں، آج سے صرف سو برس پہلے بھی یہاں ایسے نہیں تھے۔اس جگہ تک پہنچانے میں بدلتے ہوئے حالات اور تنقیدی ذہن کا بڑا کردار رہا ہے۔ جمہوریت، انسانی حقوق کا چارٹر، فرد کا دائرہ، سماج کی حد، سیاست وسفارت، جدید آئین و قانون اور انتخاب و احتساب، یہ سب تنقیدی ذہن کی ہی مہربانیاں ہیں جس کا ثمر آج ہم سب سمیٹ رہے ہیں۔
کارآمد تنقیدی ذہن زمین سے جنم لیتا ہے۔ مسئلے کے حل کیلئے مٹی سے مشورہ کرتا ہے۔تبدیلی کے عمل کو فطرت کی گزرگاہوں سے گزرنے دیتا ہے۔ یہ گزر گاہیں بہت اہم ہوتی ہیں۔ طاقت جب وسائل پر قبضے کیلئے حملہ آور ہوتی ہے تو پہلا حملہ انہی گزر گاہوں پر کرتی ہے۔ وہ بتاتی ہے تمہاری یہ گزرگاہ فرسودہ ہے۔تم فرسودہ ہوتمہارا دماغ فرسودہ ہے۔تمہاری تہذیب اور ثقافت سب ایک مذاق ہے۔تم اپنے مسائل آپ حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔تمہیں تبدیل ہونے کی ضرورت ہے مگرتمہیں یہ نہیں پتہ کہ تبدیل کیسے ہوتے ہیں۔ فطری راستے اور مکالمے کی مقامی ثقافتوں کو چھوڑو، ہماری نقالی کرو۔ جو سفر خود ہم نے سات سو سالوں میں طے کیا ہے وہ تم سات ہفتوں میں طے کرو۔ اسکے نتیجے میں نفسیاتی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں تو پروا مت کرو۔ بڑے لوگ سارے ہی نفسیاتی تھے۔ ہوگئے تبدیل؟ویری گڈ۔ اب ہمارے ساتھ ملکر اپنی قوم کو ایک بات سمجھاؤ۔ تم اپنے وسائل کو لیکر جو سوچ رہے ہو وہ غلط ہے۔ جن لوگوں کیساتھ معاہدے کر رہے ہو وہ لوگ اور یہ معاہدے سب غلط ہیں۔تمہارے وسائل کا مقدر پڑھا لکھا طاقتور ہی طے کریگا۔اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرو کہ کند ذہن لوگوں کا وسائل سے مالا مال ہونا دنیا کیلئے کتنا خطرناک ہوسکتا ہے۔خود ہی سمجھ جاؤ تو بہتر ہے، ورنہ تم سے درپیش خطرات سے دنیا کو بچانا ہم پر لازم ہوجائے گا۔
پاکستان میں ایسے سطحی بیانیوں کی فروخت میں نائن الیون کے بعد ہوشربا اضافہ ہوا۔ان بیانیوں نے تین چیزوں کاجنازہ نکال دیا۔جمہوریت، مقامی سیاست اور آرگینک سول سوسائٹی۔کہا گیا کہ سیاست چھوڑو ایکٹوازم کی طرف آؤ۔تمہارے پریس کلبوں کے باہر جو لوگ مادری زبانوں میں بات کر رہے ہیں یہ سول سوسائٹی نہیں ہے۔یہ جاہل گنوار لوگوں کا کنبہ ہیں۔ سول سوسائٹی صرف وہ ہے جو بنے بنائے لال گلابی پوسٹر لیکر یوں آتی ہے اور یوں چلی جاتی ہے۔تمہاری خواتین کے مسائل بھی وہ نہیں ہیں جو درپیش ہیں۔مسائل وہ ہیں جو سالانہ رپورٹوں نے گلوریفائی کردیے ہیں۔ تمہاری فلم انڈسٹری بھی بے کارہے۔ اس انڈسٹری کو زندہ کرنے کیلئے پہلے سے موجود فنکاروں اور تھیٹروں پر سرمایہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان بھانڈ میراثیوں کو کچھ نہیں آتا۔آؤ منتخب مضامین پرشارٹ فلمیں اور کچھ ڈاکیومنٹریاں بناتے ہیں۔آپکو فلم کا نہیں پتہ؟ ارے تو کیا ہوا۔یہ پراجیکٹ ہم فلم کے کسی ڈائریکٹر کو تھوڑی نہ دے رہے ہیں۔اسے دو تو یہ سچ مچ میں ہی فلم بنانے بیٹھ جاتاہے۔یہ پراجیکٹ ایسے شخص کو دینا تھا جس نے عالمی ڈونر ایجنسیوں کی کم از کم بھی آٹھ پسندیدہ اصطلاحات زبان پر پیلی ہوئی ہوں۔ تم نے تو گیارہ پیلی ہوئی ہیں۔آجاؤ شاباش۔!
طاقت کی اس بے دریغ سرمایہ کاری کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک فرقہ ملامتیوں کا پیدا ہوگیا ہے۔ یہ ہنی ٹریپ کا شکار فرقہ ہے جو اپنے آپ سے شرمندہ رہتاہے۔ بلاوجہ افسردہ رہتا ہے۔ جیسے امریکا کیلئے ایران کا افزودہ یورینیم ایک مسئلہ بنا ہوا ہے، ہمارے لئے یہ ’افسردہ‘ یورینیم ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ یہ بیٹھے بٹھائے خود کو عالمی ماحولیاتی بحران کا ذمہ دار بھی سمجھ لیتا ہے۔ جب پتہ چلتا ہے کہ ماحولیاتی اور موسمیاتی بحران میں پاکستان کا کردار صفر اور امریکا و چین کا کردار بنیادی ہے تویہ بحران کو بھی ریشنلائز کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ہربرٹ اسپینسر چلا گیا ان کیلئے سروائیول آف دی فٹسٹ کی اصطلاح چھوڑ گیا۔ ویسے ایک بات ہے۔ پاک بھارت جنگ میں ہم پر یہ راز کھلا کہ بھارتی میڈیا کو پاکستانی میڈیا سے سیکھنے کی بہت ضرورت ہے۔ اب امریکا اور ایران جنگ میں یہ بات کھلی ہے کہ ہمارے دانشوروں کو ایران کے دانشوروں سے سیکھنے کی بہت ضرورت ہے۔ایران کے روشن فکر دانشور تین عشروں سے اپنی لکھت کا بھگتان بھر رہے ہیں۔ اسیری اور ہجرت سے گزرے ہیں۔ ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے اس نظام کیخلاف پانچ پانچ دس دس کتابیں لکھی ہیں۔انکی کتابیں رسل، ایڈورڈ سعید اور فرانز فینن کی کتابوں کا چربہ نہیں ہوتیں۔ول ڈیورانٹ، نیاز فتح پوری اور سبط حسن سے چرایا ہوا مال بھی نہیں ہوتیں۔ جگر کا خون جلاکر انہوں نے ریاستی نظام کی جابرانہ پرتوں کو کھولا ہے۔ اسی نظام پرباہر سے طاقت حملہ آور ہوئی تو چھوٹی طاقت کو چھوڑکر بڑی طاقت کے سامنے کھڑے ہوگئے۔
دراصل انہوں نے طاقت کو دلیل ماننے سے انکار کیا۔ جس بنیاد پرریاستی نظام کے خلاف کھڑے تھے اسی بنیاد پر کاروباری گروہ کیخلاف کھڑے ہوگئے۔اپنے تازہ مضامین میں امریکی رجیم کو کھل کر امپیریل گینگسٹر لکھا۔ اور اس میں غلط بھی کیاہے۔ایک طرف پانچ کاروباری ڈھنڈورچی ہیں اور دوسری طرف عباس عراقچی۔آپ انکے خیالات سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس حقیقت سے منہ نہیں پھیر سکتے کہ وزارتی سفارتی قلمدان کا انہوں نے بھرم رکھا ہے۔ دوست اور رہنما بچھڑتے چلے گئے مگر لہجہ انیس سے بیس نہیں ہوا۔ لفظ کے انتخاب میں یہاں سے وہاں نہیں ہوئے۔ ایسے میں افسردہ یورینیم ذخیرہ کرنے والے سہولت سے کہہ گئے کہ ایران کی تہذیب تو کب کی ختم ہوچکی ہے۔ ارے؟ بری بات۔دوستی دشمنی کی تمیز رکھنے والوں کو ایسا نہیں کہتے۔ بری بات ہوتی ہے۔