انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے اور انتظامیہ کی جانب سے ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر 5 مئی سے ہونے والے سیمسٹر امتحانات کا مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
پیر کو کراچی کے چینی آڈیٹوریم میں منعقدہ انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے اجلاس عمومی (جنرل باڈی) میں کہا گیا کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں جمعرات 30 اپریل کو یوم سیاہ اور بھرپور احتجاج کے ساتھ 5 مئی سے منعقد ہونے والے امتحانات کا بائیکاٹ کیا جائیگا۔
جنرل باڈی اجلاس میں جامعہ کی مجموعی مالی صورتحال خاص طور پر اساتذہ کے واجبات کے بڑھتے ہوئے حجم پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہوئے اسے انتظامیہ کی نااہلی قرار دیا گیا۔
اجلاس میں مختلف واجبات جن میں ہاؤس سیلنگ کی نئی شرح کے اطلاق و ادائیگی، ایوننگ کی گزشتہ کئی سالوں کی واجب الادا ادائیگیوں، لیو بیلنس کے حساب سے لیو انکیشمںٹ، کاپی چیکنگ، پی ایچ ڈی/ایم فل اساتذہ و ممتحن کے مشاہروں کی ادائیگیوں، ٹیکس ریبیٹ کی بحالی سمیت دیگر مطالبات کیے گئے۔
اجلاس میں جامعہ کراچی کے بجٹ کا جائزہ لے کر اس میں موجود نقائص کا جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس نے اپنے مطالبات کے فوری حل کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعرات 30 اپریل کو جامعہ کراچی میں یوم سیاہ اور ایک بھرپور مظاہرے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس نے متفقہ طور پر یہ بھی فیصلہ کیا کہ اگر ان سب ڈیڈ لائنز کے باوجود مطالبات تسلیم نہ کیے گئے اور انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکی تو جامعہ کراچی کے اساتذہ 5 مئی سے منعقد ہونے والے سیمسٹر امتحانات کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں گے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ان تمام احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے ذریعے وائٹ پیپر اور انتظامی بے قاعدگیوں سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔
اجلاس عام نے سینٹرز کے مالی و انتظامی مسائل کو بھی فی الفور حل کرنے کے مطالبہ کے ساتھ ریٹائرڈ ملازمین اور کنٹریکٹ اساتذہ کے واجبات کی بروقت ادائیگی کا بھی مطالبہ کیا۔ آخر میں تمام اساتذہ نے شدید بد انتظامی پر برہمی کا اظہار کیا اور حکومت سندھ سے توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔