• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے معاشی نظام کا ایک بڑا مسئلہ غیر دستاویزی معیشت اور نقد لین دین پر حد سے زیادہ انحصار ہے جو کہ دستاویزی معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ غیر دستاویزی معیشت نہ صرف ملکی معیشت میں موجود بڑی خرابی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس طرح کا کاروبار کرنیوالے کسی بھی قسم کا ٹیکس ادا کرنیکی بجائے نظام سے باہر رہ کر اضافی منافع کما رہے ہیں۔ اس حوالے سے افسوسناک امر یہ ہے کہ اس وقت دستاویزی معیشت میں شامل ٹیکس دہندہ اداروں سے 22تا 24فیصد تک ٹیکس لیا جا رہا ہے جبکہ غیر دستاویزی معیشت پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہے جسکی وجہ سے ٹیکس دہندہ کاروباری اداروں کو ٹیکس ادا نہ کرنے والوں سے مسابقت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت کی جانب سے نقد لین دین کرنیوالوں کو ٹیکس کے نظام کا حصہ بنانے میں ناکامی کی وجہ سے غیر دستاویزی معیشت کو تیزی سے فروغ مل رہا ہے۔ یہ صورتحال ملک کے معاشی مستقبل کیلئے تباہ کن ہے اورنقد لین دین بڑھنے اور ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ نہ ہونے کے باعث پہلے سے ٹیکس دینے والے اداروں پر ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان حالات میں ضروری ہو گیا ہے کہ ملک میں ایسا کاروباری ماحول پیدا کیا جائے کہ زیادہ سے زیادہ کاروبار باضابطہ معیشت کا حصہ بن سکیں اور اس کے بغیر کاروبار کرنا ممکن نہ رہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے بھی متعدد مرتبہ اس بات کی نشاندہی کی جا چکی ہے کہ پاکستان میں دستاویزی معیشت کو وسعت دینے، مسابقت کو بہتر بنانے اور ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے لیکن اس کیلئے نقد لین دین کی حوصلہ شکنی اور ٹیکس کی شرح کم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو نئے مالی سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کرکے اس کی بنیاد وسیع کرنے، ویلیو چین میں ڈیجیٹل اور بینکنگ لین دین کو بڑھانے اور غیر دستاویزی معیشت کی حوصلہ شکنی کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر ٹھوس اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں تیز رفتار، شفاف اور خودکار نظام کے تحت ریفنڈز کی واپسی کے نظام کے ذریعے انڈسٹری کو درپیش سرمائے کی قلت ختم کرنا بھی بجٹ ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے کیونکہ اس مد میں رقوم کی واپسی میں تاخیر سے ٹیکس دہندہ کاروباری اداروں کو اضافی مالی دبائو کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ارباب اختیار کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ طویل المدت معاشی استحکام اور ترقی کے حصول کیلئے مستقل پالیسیوں اور اصلاحات پر مسلسل اور بھرپور عملدرآمد ضروری ہے۔ اسکے بغیر ملک کی معاشی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والی غیر دستاویزی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کا خاتمہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق قومی معیشت کا 40فیصد حصہ غیر رسمی کاروباری سرگرمیوں پر مشتمل ہے جبکہ ورلڈ بینک کے اندازوں کے مطابق پاکستان کی غیر رسمی معیشت کا سالانہ حجم تقریبا 457 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ معیشت کے اتنے بڑے غیر دستاویزی حصے کو باضابطہ بنانے کیلئے اقدامات پر عمل درآمد نہ صرف معاشی سرگرمیوں کی شفافیت میں اضافہ کرے گا بلکہ اس سے محصولات میں جی ڈی پی کے تناسب سے نمایاں اضافہ بھی یقینی ہے۔ اس سے ٹیکس نیٹ میں پہلے سے موجود کاروباری شعبوں اور تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کے اضافی مالی بوجھ سے نجات ملے گی اور شفافیت میں اضافے سے ایک زیادہ مضبوط اور مساوی اقتصادی فریم ورک کی تشکیل ممکن ہو گی۔ معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے ساتھ ساتھ حکومت کو ٹیکس قوانین کو آسان بنانے اور کاروباری اداروں کے خدشات کو دور کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے موثر اقدامات سے نہ صرف آئی ایم ایف جیسے عالمی قرض دہندگان پر انحصار کم ہو گا بلکہ بنیادی ڈھانچے اور سماجی شعبے کے ترقیاتی منصوبوں کے آغاز میں بھی سہولت ہو گی۔ علاوہ ازیں منصفانہ معاشی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی سے ایک طرف روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکیں گے تو دوسری طرف عوامی خدمات کے معیار کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔ ان اقدامات کے ذریعے ملک کے مجموعی معاشی استحکام کیلئے ایک ایسا روڈ میپ تشکیل دیا جا سکتا ہے جس سے آنے والے وقت میں مزید بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔پاکستان کے موجودہ معاشی و سیاسی حالات اور خطے میں آنے والی تبدیلیوں کے سبب حکومت کیلئے یہ چیلنج اور بھی زیادہ بڑا ہو گیا ہے۔ پاکستان اس وقت معاشی طور پر پہلے سے بہتر حالت میں ہے لیکن بیرونی ادائیگیوں کو متوازن رکھنے کیلئے ہم اب بھی آئی ایم ایف اور دوست ممالک کی مالی معاونت پر انحصار جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔ ان حالات میں معاشی اصلاحات کیساتھ ساتھ انڈسٹری کو درپیش مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہئے کیونکہ اس وقت ہماری جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً دو سے تین فیصد کے درمیان ہے۔ اس وجہ سے انڈسٹری کو عالمی منڈی میں اپنی مسابقت برقرار رکھنے کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے۔ اسلئے نئے مالی سال میں شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لانا بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ انڈسٹری کی پیداواری لاگت کم ہو سکے۔ اس سے صارفین کی قوت خرید میں بھی بہتری آئیگی اور ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس وقت پاکستان کو تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے وسائل بڑھانے کا ایک ایسا چیلنج درپیش ہے جسے حاصل کرنے کیلئے طویل عرصے سے زیر التوا طویل المدت اصلاحات میں مزید تاخیر تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اسلئے اگر آنیوالے بجٹ میں بھی حکومت ماضی کی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے سیاسی دبائو اور سمجھوتے پر چند مخصوص شعبوں پر ٹیکس لگانے سے گریز کریگی تو عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے خاطر خواہ آمدنی حاصل کرنے کی حکومتی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔

تازہ ترین