کبھی کبھی تاریخ اپنے اوراق یوں پلٹتی ہے کہ انسان کو گمان ہوتا ہے جیسے وہ کسی حتمی نتیجےیاحقیقی منزل کے قریب پہنچ چکا ہے حالانکہ درحقیقت وہ ایک نئے آغاز کی دہلیز پر کھڑا ہوتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری یہ کشمکش بھی کچھ اسی نوع کی ہے۔ایک ایسی داستان جسے آخری مرحلہ کہا جا رہا ہے لیکن جسکی سانسوں میں ابھی بہت سا سفر باقی ہے۔
سمندر ہمیشہ سے انسان کے باطن کا آئینہ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی لہروں میں آج کل جو ارتعاش ہے وہ فقط پانی کی جنبش نہیں بلکہ طاقت، خوف اور امید کے باہمی تصادم کی خاموش کہانی ہے۔ کبھی یہ راستہ کھلتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے دنیا نے اپنے سینے پر رکھا ہوا بھاری پتھر لمحہ بھر کے لیے اتار دیا ہو۔ جب یہی گزرگاہ بند ہوتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ عالمی معیشت کی نبض کسی نادیدہ انگلی تلےدب گئی ہے۔
بلاشبہ یہ جنگ اب میدانوں کی گھن گرج سے نکل کر ذہنوں کی خاموشی میں اتر چکی ہے۔ امریکہ کی عسکری برتری اور ایران کی مزاحمتی حکمت عملی ایک ایسے توازن میں بندھ گئی ہے جہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جاتا ہے... چھوٹی کشتیوں کی بے نام سی حرکت، ڈرونز کی بے آواز پرواز اور سمندر کی تہہ میں چھپی ہوئی غیر مرئی حدیں یہ سب اس عہد کے نئے ہتھیار ہیں جن کی گونج توپوں سےاوربڑے ،بڑے بمبار طیاروں سے زیادہ بلند ہے۔
ان حالات میں جب فضا بارود کی مہک سے بوجھل ہو سفارت کاری گویا کسی نازک شمع کی مانند ہوتی ہے ۔یہ ہر لمحہ بجھنے اور جلنے کے درمیان معلق رہتی ہے۔ اسلام آباد کی میز پر ہونے والی گفتگو اسی شمع کی لرزش کا استعارہ ہے۔ یہاں الفاظ تولے جاتے ہیں، جملے تراشے جاتے ہیں اور خاموشیاں بھی معنی خیز ہو جاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔یہ پیش رفت بہرکیف اس قدر نازک ہے کہ اسے کامل کامیابی سے تعبیر کرنابھی شاید جلد بازی ہوگی کیونکہ امریکہ کے لہجے میں اب بھی وہی سختی موجود ہے جو طاقت کے یقین سے جنم لیتی ہے اور ایران کے رویے میں وہی انا جو مزاحمت کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ یہ دونوں رویے جب آمنے سامنے آتے ہیں تو ایک ایسا منظر تشکیل پاتا ہے جس میں تصادم بھی ہے اور احتیاط بھی۔ ایسےلگتاہےجیسے دونوں فریق ایک دوسرے کو آزما بھی رہے ہیں اور ٹال بھی رہے ہیں۔دنیا اس تمام منظر کو ایک تماشائی کی طرح نہیں دیکھ رہی بلکہ خود اس کا حصہ بن چکی ہے۔ تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ، منڈیوں کی بے چینی اور معیشتوں کی لرزتی ہوئی بنیادیں اس بات کی گواہی ہیں کہ یہ جنگ سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ ہر ملک، ہر شہر اور ہر گھر اس کی بازگشت سن رہا ہےچاہے وہ جنگ زدہ خطےسے کتنی ہی دور کیوں نہ ہو۔
یہ کہنا آسان ہے کہ جنگ اپنے آخری مرحلے میں ہے مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور تلخ ہے۔یہ معاہدہ کسی واضح برتری کے ساتھ نہیں سامنے آئے گا، نہ ہی کوئی فاتح اپنے پرچم لہراتا ہوا دکھائی دے گا۔ اسکے برعکس ایک خاموش معاہدہ، ایک نازک سی جنگ بندی اور ایک ادھورا سا اطمینان اس داستان کو وقتی طور پر تھام لے گا۔ اس توقف کے بعد جو زمانہ آئے گا وہ زیادہ طویل اور زیادہ پُراسرار ہوگا۔خدانخواستہ ایک ایسی سرد جنگ جس میں آگ دکھائی نہیں دے گی لیکن اس کی تپش ہر سو محسوس ہوگی۔بہرحال ان تمام ہنگاموں کے درمیان ایک خاموش سوال ابھرتا ہے جو نہ کسی قرارداد میں لکھا جاتا ہے اور نہ کسی تقریر میں سنائی دیتا ہے: اس جنگ کا اصل بوجھ کون اٹھا رہا ہے؟ وہ عام انسان جس کاکوئی جرم نہیں، جو نہ حکمت عملی جانتا ہے نہ سفارت کے پیچیدہ راستے،مگراس کی زندگی ہر بدلتی ہوئی خبر کے ساتھ بدل جاتی ہے۔ اس کے لیے جنگ کوئی عالمی تنازع نہیں بلکہ روزمرہ کی بے یقینی کا نام ہے۔ایک ایسا خوف جو اس کے کل پر سایہ فگن رہتا ہے۔
یوں لگتا ہے کہ یہ ساری کہانی اپنے انجام سے زیادہ اپنے تسلسل میں معنی رکھتی ہے۔ لہریں اب بھی بے قرار ہیں، ہوا میں بارود کی ہلکی سی مہک باقی ہےاور مذاکرات کی میز پر رکھی ہوئی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی۔جنگ اور امن اب الگ الگ منزلیں نہیں رہیں۔ ایک ہی راستے کے دو ایسے قدم بن چکے ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتے ۔انسان اسی راستے پر چلتے ہوئے بار بار یہ گمان کرتا ہے کہ شاید اب وہ منزل کے قریب پہنچ گیا ہے۔یہ ہمارے عہد کاکتنابڑاالمیہ ہے۔