• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منگل کی رات گئے جب پاکستان سمیت عالمی برادری امریکہ اور ایران کے مابین دو ہفتوں پر محیط سیزفائر کی مدت ختم ہونے پر سخت تشویش میں مبتلا تھی، امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے سیزفائر دورانیہ مزید بڑھانے کا اعلان منظرعام پر آیا،ایک مرتبہ پھر دنیابھر کے میڈیا میں پاکستان کا نام جگمگانے لگا، ٹرمپ کے مطابق پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی کو اس وقت تک برقرار رکھا جائے گاجب تک ایران کی جانب سے متفقہ تجویز پیش نہیں کر دی جاتی اور اس پر مذاکرات کسی ایک نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے۔ گزشتہ چند ددنوں سے راولپنڈی اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات میں امریکی اور ایرانی مہمانوں کااسلام آباد ٹاکس کے دوسرے راؤنڈ میں شرکت کیلئے انتظار کیا جارہا ہے، ہر گزرتے دن کا سورج یہی امید دِلا کر غروب ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میںپاکستان کی تاریخی ثالثی میںبہت جلد ایک امن معاہدہ طے پاجائے گا جس سے عالمی امن اور علاقائی استحکام کو فروغ حاصل ہوگا، گزشتہ چند دنوں سےامریکہ اور ایران دونوںکی طرف سے اسلام آباد کو ایسے اشارے موصول ہوئے کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بدھ سے شروع ہو سکتا ہے،امریکی صدر ٹرمپ کے حوالے سےبھی یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئیں کہ وہ اپنے ایرانی ہم منصب سے امن معاہدے پردستخط کرنے بذاتِ خود اسلام آباد آئیں گے جبکہ اس تاریخی موقع پر دیگر عالمی راہنماؤں کو بھی مدعو کیا جائے گا ،میرے جیسے محب وطن پاکستانیوں کوفخرہے کہ عالمی مغربی میڈیا جو کبھی ہمارے پیارے وطن کو دہشت گردی، لاقانونیت، کلاشنکوف کلچر،چائلڈ لیبر، خواتین اور اقلیتوں کے خلاف مظالم جیسے منفی ایشوزسے نتھی کیا کرتا تھا، آج وہ بھی وزیراعظم شہباز شریف ، وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عالمی ِ امن کیلئے مخلصانہ کوششوں کا اعتراف کرکےپاکستان کو سفارتی میدان کا شہسوارماننے پر مجبور ہوگیا ہے۔ بلاشبہ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہونے کے باوجوداسلام آباد ٹاکس کا بے نتیجہ ختم ہونا بہت سوں کیلئے مایوسی کا باعث بنا،اگرچہ دوسرے راؤنڈ کے اسلام آباد میں ممکنہ انعقاد سے پاکستان ایک مرتبہ پھرامن پسندوں کی امیدوں کا مرکز ضرور بننے میں کامیاب ہوگیالیکن اب ایرانیوں کی ہچکچاہٹ کے بعد امریکی حکومتی وفد کا دورہ اسلام آباد بھی فی الحال التوا کا شکار ہوگیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کی کوششوں کی بدولت پاکستانی سرزمین پر منعقدہ امریکہ ایران براہ راست مذاکرات نے ڈائیلاگ کے ایک ایسے زبردست عمل کی بنیاد رکھ دی ہےجسکی ماضی میںکوئی مثال نہیں ملتی۔ اہم ترین امر یہ ہے کہ لگ بھگ چار دہائیاں بعد امریکہ اور ایران پہلی بار مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بیٹھے، دنیا بھر کے میڈیا نے ماضی میں ناممکن سمجھے جانے والے اس اقدام کو تاریخی پیش رفت قرار دیا، پاکستان کے دارالحکومت میں بیس سے زائد گھنٹوں پر مشتمل مذاکراتی نشست سےدونوں فریقین کی سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ عالمی برادری کے سامنے پاکستان کاقائدانہ کردار پہلی مرتبہ بھرپور انداز میں اجاگر ہوا،پاکستان کی سول اورعسکری قیادت پہلے راؤنڈ کے بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد بھی ہر محاذ پرمتحرک نظر آئی، اگر ایک طرف وزیراعظم شہباز شریف اناطولیہ ڈپلومیسی فورم کے توسط سے ترکیہ اور خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری کو پاکستان کا ہمنوا بناتے نظر آئے تو فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دلیرانہ دورہ ایران کی بریکنگ نیوز نے پوری دنیا کو حیرت زدہ کردیا ،میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی اعلیٰ قیادت کے عالمی امن کیلئے اقدامات تاریخ کے صفحوں میں ہمیشہ کیلئے سنہری حروف سے تحریر ہوچکے ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران جنگ امریکہ اور اسرائیل کی توقعات سے بہت زیادہ آگے نکل چکی ہے اورامریکی عوام کاماضی کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ وہ کسی بھی جنگ کے طول پکڑنے سے اکتاجاتے ہیں اور اپنے حکمرانوں پر جنگ ختم کرنے کیلئےدباؤبڑھا دیتے ہیں، اگرچہ امریکی صدرکاپاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کا حالیہ اعلان بظاہر ایران پر دباؤ بڑھانے کاایک حربہ لگتا ہے لیکن میری نظر میں درحقیقت یہ سفارتکاری کی کامیابی کا اعتراف ہےکہ نئے عالمی منظر نامہ میں پاکستان مرکزی حیثیت اختیار کرنے میں کامیاب ہوگیا ہےاور اب عالمی طاقتیں اسلام آباد کوعالمی امن کا مرکز تسلیم کررہی ہیں، ٹرمپ کی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ وہ موجودہ جنگی صورتحال سے باوقار اخراج چاہتے ہیں۔دوسری طرف ایران بھی اپنی اعلیٰ قیادت گنوانے کے بعد شدید دباؤ میںمبتلا ہے اور عالمی پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ ایسےحالات میں دونوں ممالک کے مفادات کسی نہ کسی سطح پر یکساں ہیں جنکی وجہ سے وہ پاکستان کو اپنی امیدوں کا محور بنائے ہوئے ہیں۔میری نظر میں اسلام آباد ٹاکس کی اصل اہمیت پاکستان کی میزبانی میں ایک دوسرے کے مدمقابل طاقتوں کو ایک میز پر بٹھانا ہے، دونوں فریقین نے براہ راست ایک دوسرے کا موقف سنا اور سمجھا، میں ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں کہ ہر تنازع کا حل ڈائیلاگ ہے لیکن ضروری نہیں کہ دہائیوں پر محیط اختلافات ایک ہی نشست میں دور ہوجائیں، آنے والے دنوں میں چین کا کرداربھی نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے جو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے، اگر چین پاکستان کے شانہ بشانہ مذاکرات کے اگلے راؤنڈ میں عملی کردار ادا کرتا ہے تواسلام آباد مذاکرات کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔ ویدک علم نجوم کے مطابق اپریل کی دس تاریخ تک کا دورانیہ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے مناسب تھا،تاہم بیس اپریل گزرنے کے بعد اب امن معاہدے کا عمل پیچیدہ اور دشوار ہوگیا ہے،جوتشیوں کا کہنا ہے کہ اپریل کے اختتام تک ستارے مریخ اور زحل کے درمیان کشمکش جاری رہے گی،مریخ کےاثرات دھونس دھمکیوں، غلط فہمیوں ،دباؤاور تناؤکی صورت میں سامنے آئیں گے جبکہ زحل صبرو تحمل، برداشت اورجنگ بندی کی علامت بنے گا، جوتشیوں کا کہنا ہے کہ سیزفائر مکمل امن نہیں بلکہ ایک دوسرے پر دباؤڈالنے والا وقفہ ہوگا،پاکستان کی سہولت کاری سےپس پردہ مذاکرات جاری رہیں گے جبکہ رواں ماہ امریکہ اور ایران کے مابین سخت بیان بازی اور کشیدگی بھی برقرار رہےگی، جوتشی ستاروں کی چال دیکھتے ہوئے ایران کو پچیس اپریل کے دن کو بہت احتیاط برتنے سے خبردار کررہے ہیں، تاہم پاکستان کیلئے ستارے عطارد اور مشتری کی پوزیشن مضبوط ہے، پاکستان مزید سفارتی کامیابیاں اپنے نام کرے گا،پاکستان امریکہ اور ایران دونوں کو باور کراتا رہے گا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، اپریل کے اختتام تک سیزفائر برقرار رہے گامگر حالات نازک رہیں گے۔

تازہ ترین