• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

23 اپریل کو کتاب کا عالمی دن گزرا۔ ہم میں سے بیشتر افراد نے کتاب کا یہ عالمی دن سوشل میڈیا پر کتابوں کی تصویریں اپلوڈ کرنے اور ان پوسٹوں پر تبصرے کرنے میں گزارا ۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم اس روز سوشل میڈیا سے چھٹی لیکر کتابوں کی دنیا میں گم ہو جاتے ۔اور اگلے روز ہم پوسٹ لگاتے کہ 23 اپریل کتاب کا دن تھا اسلئے ہم نے سوشل میڈیا سے چھٹی لیکر کتابوں کیساتھ وقت گزارا۔مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ بیشتر لوگوں کو سوشل میڈیا پر ہر وقت موجود رہنا ایک نشے کی لت کی طرح لگ چکا ہےایسا لگتاہے سوشل میڈیا کے کھونٹے سے بندھے ہوئے ہم لوگوں کیلئے سب کچھ بھول بھال کر کتابوں کی دنیا میں گم ہو جانا اب شاید اگلے زمانوں کی بات ہے۔آج سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ ہم اسکرین کی رنگا رنگ گلیمرس اور ہر پل بدلتی ہوئی دنیا سے اپنے دامن کو چھڑا کر کس طرح کتاب کی دنیا میں کچھ وقت ایسے گزاریں کہ کتاب کو اپنے اندر جذب کرسکیں۔کتاب کی دنیا میں سکون ہے ٹھہراؤ ہے جب ہم کسی کتاب کو کھول کر اسکے اندر لکھے ہوئے حرفوں کو پڑھتے ہیں تو اس کیساتھ ہم ایک تعلق بناتے ہیں ۔ کتابیں آج بھی شائع ہو رہی ہیں اور فروخت بھی ہورہی ہیں بڑے بڑے کتاب میلے منعقد ہوتے ہیں ان میں لاکھوں روپے کی کتابیں فروخت ہوتی ہیں سینکڑوں لوگ کتاب میلے میں شرکت کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا خریدی جانیوالی کتابیں اسی شوق اور توجہ سے پڑھی بھی جا رہی ہیں ؟ ہمارے ہاں کتاب خریدی جا رہی ہے۔ کتابوں کیساتھ تصویریں بھی بن رہی ہیں۔کسی بھی تقریب میں چلے جائیں لوگ اپنی کتابیں ساتھ لاتے ہیں جہاں وہ کتابیں ایک دوسرے کو تحفے میں دیتے ہیں۔ کتابیں ایک دوسرے کو پیش کی جا رہی ہیں اور اسکی تصویریں بنا کر ہم فیس بک پر لگا رہے ہیں بس یہ لاحاصل سی سرگرمی ہے جو ہمیں اڑائے لیے جا رہی ہے۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ کتاب کو پڑھنے کیلئے جو ٹھہراؤ اورخالص توجہ درکار ہوتی ہے آج کا انسان سوشل میڈیا کے بھانت بھانت کے چینلوں میں گھرا ہوا اس ٹھہراؤ اور توجہ سے محروم ہو چکا ہے۔ کتاب پڑھنا آج کل کسی ریاضت سے کم نہیں ہےآپ چند منٹ کیلئےایک کتاب اٹھاتے ہیں تو فون بجنے لگتا ہے آپ فون سننے کیلئے موبائل اٹھاتے ہیں اور ساتھ ہی واٹس ایپ کا کوئی نوٹیفکیشن موصول ہوتا ہے ۔آپ اسے کھول کر دیکھتے ہیں تو فیس بک کا کوئی نوٹیفیکیشن آپ کو فیس بک کی جادو نگری میں لے جاتا ہے، جہاںایک تسلسل سے پوسٹوں کاگرتا ہوا آبشارآپ کو کچھ دیرکیلئے کہیں کا نہیں رہنے دیتا۔ آپ کتاب کی خاموش اور ٹھہراؤ والی دنیا سے نکل کر ایک چکا چوندمیں جذب ہو جاتے ہیں۔فیس بک یا سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموںپر وقت گزاری کرنا ہماری توجہ اور ہمارے ذہن کو منتشر کردیتا ہے ۔ انتشار کی اس کیفیت میں کتاب پر توجہ مرکوز کرنا تقریباً ناممکن ہے ۔

یہ بھی یاد رہے کہ فیس بک پر تحریری مواد پڑھنا مطالعہ نہیں۔ یہ بات کسی لطیفے سے کم نہیں کہ کچھ لوگ گیابک پوسٹیں پڑھنے کو بھی مطالعہ گردانتے ہیں۔جس سرگرمی کو ہم مطالعہ کہتے ہیں اس کے کچھ تقاضے ہیں جو فیس بک پر ان گنت پوسٹوں کے انبار میں پورے نہیں ہوتے ۔ہمارے بہت سےسینئر ادیب بھی ان دنوں سوشل میڈیا پر بہت متحرک ہیں کچھ تو یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ اب ان کا دل کتاب پڑھنے میں نہیں لگتا کیونکہ ایک تو نظر کمزور ہو گئی ہے دوسرا اسمارٹ فون پرطرح طرح کی سرگرمیوں میں دل لگا رہتا ہے اور کتابیں رَیک پر پڑی رہ جاتی ہیں لیکن یہ وہ ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں بہترین کتابیں پڑھنے میں گزاریں سوال تو یہ ہے کہ ہم اور ہمارے بعد آنیوالے لوگوں کی زندگیوں میں کتاب پڑھنے کی کتنی اہمیت باقی رہے گی ۔

کتاب پڑھنا باقاعدہ ایک تخلیقی سرگرمی ہے۔کتاب کی تحریر،کتاب پڑھنے والے کی زندگی کے تجربات کا سیاق وسباق اور تخیل کی طاقت کا ملاپ قاری کو ایک پرلطف حسی تجربے سے گزار کےاحساس کی ایک نئی دنیا میں لے جاتا ہے تو اس بات پر یقین آ جاتا ہے کہ There is creative reading as well as creative writing.کتاب خواندگی کے تخلیقی تجربے سے وہی گزرتے ہیں جنہیں پہلے تو پڑھنے کو ایک شاندار کتاب میسر ہو اور پھر وہ سوشل میڈیا سے رخصت لے فون کی ہرقسم کی گھنٹیاں بند کرکے کتاب کو توجہ کے پورےخالص پن کیساتھ میسر ہوں۔

تازہ ترین