• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی تعلیمی تاریخ کا عمیق جائزہ لیا جائے تو ایک نہایت تلخ مگر سبق آموز حقیقت سامنے آتی ہے۔ وہی سرکاری اسکول، جہاں سے نکلنے والی نسلوں نے بیوروکریسی، عدلیہ، طب، انجینئرنگ اور دفاعی اداروں کی بنیادیں مضبوط کیں، آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ وہ نسل تھی جو اپنی مادری زبان میں سوچتی، سمجھتی اور اظہار کرتی تھی، جسکے باعث ان میں تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتیں پروان چڑھتی تھیں۔ مگر آج کا منظرنامہ ایک عجیب تضاد کا شکار ہےوسائل، ڈگریاں اور بجٹ موجود ہیں، مگر معیار، نتائج اور عوامی اعتماد ناپید ۔ یہ صرف تعلیمی بحران نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی المیہ بن چکا ہے۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ عمومی طور پر نجی شعبے کے اساتذہ سے زیادہ تعلیم یافتہ، تربیت یافتہ اور تجربہ کار ہوتے ہیں۔ ان کی بھرتی ایک سخت اور مسابقتی عمل سے گزرتی ہے، اور انہیں بہتر تنخواہیں اور مراعات بھی حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، بیشتر نجی ’انگریزی میڈیم‘ اسکولوں میں کم تعلیم یافتہ اور غیر تربیت یافتہ اساتذہ کم اجرت پر خدمات انجام دے رہے ہوتے ہیں۔اس کے باوجود والدین کی اکثریت نجی اسکولوں کا رخ کرتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کارکردگی پر مبنی احتساب کا فرق ہے۔ سرکاری نظام میں مستقل ملازمت کے بعد جوابدہی کمزور پڑ جاتی ہے، جبکہ نجی اداروں میں استاد کی بقا اس کی کارکردگی سے جڑی ہوتی ہے۔ یہی فرق ایک نظام کو جمود اور دوسرے کو حرکت دیتا ہے۔بدقسمتی سے تعلیم اب علم کے حصول کے بجائے ایک اسٹیٹس سمبل بن چکی ہے۔ متوسط اور نچلا طبقہ بھی اپنے محدود وسائل کے باوجود بچوں کو ایسےا سکولوں میں داخل کروانے پر مجبور ہے جہاں صرف ’انگریزی میڈیم‘ کا بورڈ لگا ہوتا ہے۔ یہ رجحان دراصل احساسِ کمتری اور سماجی دباؤ کا نتیجہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس دوڑ میں بچہ نہ اپنی مادری زبان میں مہارت حاصل کر پاتا ہے اور نہ ہی انگریزی پر عبور حاصل کر تا ہے۔ نتیجتاً ایک ایسی نسل سامنے آ رہی ہے جو رٹے پر انحصار کرتی ہے، مگر فکری گہرائی اور اظہار کی صلاحیت سے محروم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہنگے نجی اداروں اور او/اے لیول سسٹم نے معاشرے میں ایک واضح طبقاتی تقسیم پیدا کر دی ہےایک طبقہ جو فیصلے کرتا ہے اور دوسرا جو صرف ان پر عمل کرتا ہے۔

تعلیم کی بنیاد تین بنیادی صلاحیتوں پر ہوتی ہے: پڑھنا، لکھنا اور بولنا۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سرکاری سکولوں کے طلبہ پانچ پانچ سال گزارنے کے باوجود ان بنیادی مہارتوں سے محروم رہتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ مشق (Drill) کے کلچر کا ختم ہو جانا ہے۔ماضی میں تختی اور سلیٹ پر بار بار لکھنے کی مشق طلبہ کے ہاتھ اور ذہن دونوں کو جِلا بخشتی تھی۔ آج کا طالب علم بھاری بستہ تو اٹھا رہا ہے مگر اس کے ہاتھ میں روانی اور ذہن میں پختگی نہیں۔ نتیجتاً وہ نہ درست اردو لکھ پاتا ہے اور نہ سادہ انگریزی جملہ بنا سکتا ہے۔اعلیٰ ڈگریاں رکھنے کے باوجود کئی اساتذہ مؤثر ابلاغ کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ وہ طلبہ کے ساتھ وہ ذہنی اور جذباتی ربط قائم نہیں کر پاتے جو سیکھنے کے عمل کیلئے ناگزیر ہے۔ بعض جگہوں پر موبائل فون کا بے جا استعمال اور کلاس روم سے لاتعلقی نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔انتظامی سطح پر بھی صورتحال اطمینان بخش نہیں۔ ضلعی افسران (DEO/CEO) کا زیادہ وقت آن لائن میٹنگز اور ڈیٹا رپورٹنگ میں صرف ہوتا ہے، جبکہ کلاس روم کے اندر تعلیم کے معیار کی نگرانی نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب تک اسکول کا سربراہ ہر بچے کی روزانہ کارکردگی سے باخبر نہیں ہوگا، بہتری محض ایک خواب ہی رہے گی۔نجی اسکولوں کی کامیابی کا ایک اہم راز ان کا پری پرائمری اسکول نظام ہے۔ وہ بچوں کو براہ راست پہلی جماعت میں نہیں بٹھاتے بلکہ تین سال تک انہیں بنیادی زبان اور اعداد و شمار سے مانوس کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، سرکاری اسکولوں میں بچہ براہ راست پہلی جماعت میں داخل ہوتا ہے، جہاں وہ اس بوجھ کو برداشت نہیں کر پاتا اور جلد ہی تعلیم چھوڑ دیتا ہے۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اگر 200 بچے داخل ہوں تو بمشکل 40 اپنی تعلیم مکمل کر پاتے ہیں، جبکہ باقی ڈراپ آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک قومی سانحہ ہے جسکے دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اگر ریاست واقعی اس نظام کو بحال کرنا چاہتی ہے تو چند بنیادی اور انقلابی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اساتذہ کی ترقی اور مراعات کو طلبہ کے نتائج سے مشروط کیا جائے۔سرکاری سکولوں میں بھی تین سالہ ابتدائی تعلیمی ڈھانچہ متعارف کروایا جائے۔ ابتدائی جماعتوں میں صرف اردو، انگریزی اور ریاضی کی بنیادی مہارتوں پر توجہ دی جائے۔ 33فیصد کا معیار ختم کر کے کم از کم 90فیصد مہارت کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ کمزور بنیاد کے ساتھ کوئی بچہ آگے نہ بڑھے۔تعلیمی افسران کی تقرری میرٹ اور مسابقتی امتحانات (CSS/PMS) کے ذریعے کی جائے۔ اسکول کونسلز کو فعال بنا کر والدین کو نگرانی میں شامل کیا جائے۔بزمِ ادب، تقریری مقابلے اور تحریری سرگرمیوں کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔انگریزی کو ذریعۂ تعلیم کے بجائے ایک مہارت کے طور پر سکھایا جائے۔پاکستان کے سرکاری تعلیمی اداروں کے پاس عمارتیں، وسائل اور قابل اساتذہ موجود ہیں، مگر کمی نظم و ضبط، مؤثر احتساب اور سیاسی عزم کی ہے۔ تعلیمی طبقاتی تقسیم ایک خاموش خطرہ بن چکی ہے جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔اگر ہم نے بروقت اصلاح نہ کی تو ہم ایسی نسل تیار کریں گے جو ڈگریاں تو رکھتی ہوگی مگر علمی بصیرت، قومی شناخت اور خود اعتمادی سے محروم ہوگی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سرکاری اسکول کو دوبارہ معیار کی علامت بنایا جائے تاکہ ہر بچہ فخر سے کہہ سکے کہ وہ ایک باوقار سرکاری ادارے کا طالب علم ہے۔

تازہ ترین