• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسوڑھوں سے خون آنا گردوں کی جان لیوا بیماری کی علامت ہو سکتی ہے، تحقیق

ایک نئی تحقیق کےمطابق مسوڑھوں سے خون آنا گردوں کی جان لیوا بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بیماری کی علامات میں مسوڑھوں کا سوجنا، سرخ ہو جانا، یا دانت صاف کرتے وقت ان سے خون آنا شامل ہیں۔

یہ بیماری عموماً منہ کی صفائی کا مناسب خیال نہ رکھنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جب دانتوں پر جمنے والی میل (ڈینٹل پلاک) سخت ہو جاتی ہے تو وہ مسوڑھوں کو متاثر کرتی ہے، جس سے سوزش، جلن اور خون آنے جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ 

ماہرین اب یہ سمجھتے ہیں کہ مسوڑھوں کی بیماری کسی زیادہ سنگین صحت کے مسئلے کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

ہیمبرگ (جرمنی) میں 6,000 سے زائد افراد کے دندان سازی کی ہسٹری کا جائزہ لینے والے جرمن سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے شدید مسوڑھوں کی بیماری اور گردوں کی ابتدائی خرابی کی علامات کے درمیان تشویش ناک تعلق دریافت کیا۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن افراد کے گردے معمول کے مطابق کام کر رہے تھے، ان میں صرف 14 فیصد افراد شدید مسوڑھوں کی بیماری کا شکار تھے۔ اس کے برعکس، جن افراد کے گردوں کی کارکردگی درمیانے درجے تک متاثر ہو چکی تھی، ان میں شدید مسوڑھوں کی بیماری کی شرح بڑھ کر 35 فیصد سے بھی زیادہ ہو گئی۔ 

یہ نتائج اُن بڑھتے ہوئے سائنسی شواہد میں اضافہ کرتے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منہ اور دانتوں کی صحت مجموعی جسمانی صحت میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اس سے قبل کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری کی وجہ سے ہونے والی دائمی سوزش کئی سنگین بیماریوں سے منسلک ہو سکتی ہے، جن میں امراض قلب اور ذیابیطس بھی شامل ہیں۔

تازہ ترین تحقیق، جوطبی جریدے انٹرنیشنل جرنل آف اورل سائنس میں شائع ہوئی۔ اس میں ہیمبرگ سٹی ہیلتھ اسٹڈی کے 6,179 شرکاء کے گردوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے آغاز میں تمام شرکا کے دانتوں اور مسوڑھوں کا معائنہ کیا گیا تاکہ مسوڑھوں کی بیماری کی علامات کا پتہ چل سکے۔

اس کے بعد ان کے گردوں کے مختلف ٹیسٹ کے ذریعے تجزیہ کیا گیا، جن کا مقصد جسم میں دائمی سوزش اور گردوں کے افعال کا جائزہ لینا تھا۔ نتائج نہایت اہم تھے۔

محققین نے خراب مسوڑھوں کی صحت اور گردوں کی کارکردگی میں مسلسل کمی کے درمیان واضح تعلق پایا۔ جن افراد کے پیشاب میں البومن نامی پروٹین کی مقدار زیادہ تھی، جو اس بات کی علامت ہے کہ گردے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان میں مسوڑھوں کی بیماری زیادہ شدید پائی گئی۔ 

مزید یہ کہ منہ کی طویل مدتی خرابی کی دیگر علامات، جیسے دانتوں کا گر جانا اور دانتوں کو سہارا دینے والے بافتوں (ٹشوز) کا نقصان، گردوں کی صحت بگڑنے کے ساتھ ساتھ بتدریج زیادہ شدید ہوتے گئے۔

یونیورسٹی میڈیکل سینٹر ہیمبرگ کی پروفیسر ڈاکٹر غزال اعرابی نے کہا مسوڑھوں کی بیماری اور گردوں کی ابتدائی خرابی کے اشارے ان کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتے ہیں، اور یہ تحقیق اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ منہ کی صحت، گردوں کی صحت کو سمجھنے اور اس کا اندازہ لگانے کے لیے ایک ممکنہ ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔

صحت سے مزید