کراچی پریس کلب میں ہانیہ نامی ایک کم عمر لڑکی کو چلتے چلتے سنا۔کم عمری میں لہجے کی مضبوطی بتارہی تھی کہ بڑے باپ کی بیٹی ہے۔کسی نے بتایا نام ہانیہ ہے اور واحد بلوچ کی بیٹی ہے۔ابا کو ڈھونڈنے نکلی ہوئی ہے۔اس سے ملنے کی خواہش جاگی۔مل کر معلوم ہوا کہ ابا جی ایک سرکاری اسپتال میں پچیس برس سے ٹیلیفون آپریٹر ہیں۔وہ روز پیدل اسپتال جاتے ہیں۔کرائے کے پیسے بچاتے ہیں۔اتوار والے دن ریگل چوک چلے جاتے ہیں جہاں فٹ پاتھ پر سستی کتابوں کا بازار لگتا ہے۔بچائے ہوئے پیسوں سےکتابیں خریدتے ہیں۔یہ کتابیں ان بچوں کو دیتے ہیں جنہیں ماں باپ پیدا کرکے گلیوں میں چھوڑ دیتے ہیں۔واحد ان بچوں کو ٹافی چاکلیٹ دیکر تعلیم کی طرف راغب کرتے ہیں۔کاپی پنسل اور واٹر کلرز کا بندوبست کرتے ہیں۔اردو، تاریخ اورلٹریچر خود پڑھاتے ہیں۔باقی مضامین کیلئے محلے کے دوسرے دوستوں سے گزارش کردیتے ہیں۔انکار کوئی نہیں کرتا۔
اسی دوران معلوم ہوا کہ واحد بلوچ کی ایک بیٹی اور بھی ہیں۔نام ماہین بلوچ ہے۔واحد بلوچ کی بیٹیوں نے کام تقسیم کرلیا ہے۔ہانی بلوچ ابا کے لیے کورٹ کچہری کرتی ہیں۔ماہین بلوچ اباجی کے ننھے شاگردوں کو پڑھاتی ہیں۔ابا کے جانے کے بعد ماہین نے بچوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے۔وہ اب دیکھتی ہیں کہ قدرت نے کس بچے کو کس خانے میں رکھا ہے۔جو آرٹسٹ ہے اسے رنگوں میں مبتلا کیا جائے۔جس میں ریاضی ہے اسکی جمع تفریق سدھاری جائے۔جس کے لچھن ادبی ہیں اسکے شین قاف برابر کیے جائیں۔جس میں پرفارمنگ آرٹ کے جراثیم ہوں اسے تھیٹر میں کھپایا جائے۔ماہین کے اس آئیڈیے سے چند ہی ہفتوں میں کچے پکے گلوکار، اداکار اور کھلاڑی پیدا ہوگئے۔ابھی یہ پھل کچے ہی تھے کہ گورنر سندھ نے اسکولوں کے بیچ انتہا پسندی کے خلاف آرٹ کے استعمال پرایک مقابلہ رکھا۔ماہین کے پاس اسکول تھا، کلاس تھی اور نہ نام تھا۔ٹوٹوپھوٹا سا بس کچھ کام تھا۔کسی طرح گورنرہائوس تک رسائی حاصل کرکے اپنی رجسٹریشن منوالی۔مقابلہ ہوا تو ماہین کے ممولے شہر کے سب شاہینوں پر بازی لے گئے۔
لیاری میں مجھے ایسے نوجوانوں سے ملنے کا اتفاق ہوا جو بلوچی اور براہوی زبان کے شاعر، ناول نگار، مترجم اور رسالوں کے مدیر تھے۔واحد بلوچ کی طرح ان لوگوں کے پاس بھی ڈگری تو کوئی نہیں تھی، علم بہت تھا۔علم بھی ایسا جو دائرے کے چکر نہیں کاٹتا۔انہوں نے بتایا،ہمیں واحد بلوچ نے وہ سامنے والے درخت کے نیچے بٹھاکر پڑھایا ہے۔ واحدبلوچ شہر کے اور ملک کے دانشوروں کو جانتے تھے۔انکے کہنے پروہ ہم سے بات چیت کرنے کیلئے آجایا کرتے تھے۔جیسے ڈاکٹر مہدی حسن ہوگئے۔ڈاکٹر مبارک علی تو کئی بار یہاں آئے۔سبین محمود کتنی بار آئیں۔یہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر ہم سے بات چیت کرتے تھے۔ہمیں خرد افروزی کی تاریخ بتاتے تھے۔یہ دانشور پڑھنے کیلئے کچھ کتابیں تجویز کرتے تو واحد بلوچ ریگل چوک سے ہمارے لیے وہ کتابیں لے آتے۔یہ سب نہ ہوتا تو ہم کہاں ہوتے، خود سوچو۔واحد کے گھر بندقچیوں نے دھاوابول دیا۔ہرچیز کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے پوچھا اسلحہ کہاں ہے۔واحد بلوچ کی چلبلی بیوی پان چباتے ہوئے انہیں اوپر والی منزل پر لے گئیں۔بے رنگ و روغن کمرے کا دروازہ کھول کر بیگم نے کہا، یہ ہے اسلحہ۔کمرہ کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔بیگم بولی، واحد بلوچ کے پاس یہی ہتھیار ہیں۔جو بندوقچی غصہ لیکر آئے تھے، ان میں دو عزت لیکر واپس گئے۔جیسے استنبول کے پولیس آفیسر نے اورہان پامک کے گھر چھاپہ مارکرجب ساری کتابیں ضبط کرلیں توجاتے ہوئے ان سے آٹو گراف مانگ لیا۔اورہان کوحیرت ہوئی۔افسر نے کہا، ڈیوٹی اپنی جگہ، فین مومنٹ اپنی جگہ۔
واحد بلوچ کے تنگ وتاریک گھر میں کتابیں ہی کتابیں ہوتی ہیں۔آپ ڈرائنگ روم میں بیٹھتے ہیں تو سامنے دیوار نظر نہیں آتی۔آپکو ٹیک بھی پرانی کتابوں پرلگانی پڑتی ہے۔صباحسن دشتیاری نے ملیر میں لائبریری بنائی تو واحد بلوچ نے لگ بھگ پانچ ہزار کتابیں دان کیں۔دشتیاری نہیں رہے تو لائبریری اجڑ گئی۔کتابیں بکھر گئیں۔فٹ پاتھوں سے خرید کر جو کتابیں واحد نے دان کی تھیں وہ پھر سے بسم اللہ ہوٹل اور ریگل چوک کے فٹ پاتھ پر پہنچ گئیں۔واحد بلوچ نے پھر خرید لیں۔میں ایک بار لیاری گیا تو واحد بلوچ گھر کے باہر چبوترے کے پاس بیٹھے تھے۔گھر بجلی نہیں تھی۔اوراق بکھرے پڑے تھے اور واحد ان پر جھکے کچھ کام کررہے تھے۔یہ بلوچستان کے ایک بڑے دانشور یوسف عزیز مگسی کے ہاتھ کے لکھے ہوئے کچھ پھٹے ہوئے اوراق تھے۔یہ اوراق انہیں ایک کباڑیے کے پاس ملے تھے۔واحد بلوچ ٹکڑا ٹکڑا جوڑ کر اسے کتابی شکل دے رہے تھے۔