خیبر پختونخوا کی موجودہ حکمرانی ایک ایسے موڑ پر کھڑی نظر آتی ہے جہاں دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان فاصلہ نہ صرف واضح ہے بلکہ تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ ایک عرصہ تک اس صوبے کو اصلاحات، شفافیت اور بہتر گورننس کے ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، مگر آج حالات اس کے برعکس تصویر دکھا رہے ہیں۔ موجودہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت کے فیصلے، ترجیحات اور طرزِ حکمرانی سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہے ہیں، جنہیں نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔حالیہ دنوں میں اسمبلی کا اجلاس کرکٹ گراؤنڈ میں منعقد کرنا بظاہر ایک غیر روایتی اور عوامی اقدام کے طور پر پیش کیا گیا، مگر درحقیقت یہ ایک سنجیدہ آئینی ادارے کی سنجیدگی کو مجروح کرنے کے مترادف محسوس ہوا۔ اسمبلی کسی بھی جمہوری نظام کا بنیادی ستون ہوتی ہے، جہاں قانون سازی، پالیسی سازی اور عوامی مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے۔ اسے ایک کھیل کے میدان میں منتقل کرنا محض ایک علامتی حرکت نہیں بلکہ ایک ایسا پیغام ہے جو حکمرانوں کی ترجیحات پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ جب صوبہ دہشت گردی کے خدشات، معاشی مسائل، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی بحرانوں سے دوچار ہو، تو ایسے اقدامات عوامی مسائل کے حل کے بجائے توجہ ہٹانے کی کوشش زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔
تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں اپنی سیاست کی بنیاد ہی تبدیلی اور گڈ گورننس کے نعروں پر رکھی تھی۔ ابتدا میں کچھ اقدامات ایسے ضرور تھے جنہوں نے امید کی ایک کرن پیدا کی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ بیانیہ کمزور پڑتا گیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ نہ تو وہ تسلسل نظر آتا ہے اور نہ ہی وہ سنجیدگی جو کسی بھی کامیاب حکمرانی کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ بیوروکریسی کا عدم استحکام اس کی واضح مثال ہے، جہاں افسران کے بار بار تبادلے، سیاسی مداخلت اور پالیسیوں کے عدم تسلسل نے انتظامی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔موجودہ حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ترقیاتی منصوبوں کی رفتار سست دکھائی دیتی ہے۔ کئی منصوبے یا تو تعطل کا شکار ہیں یا ان کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔ وسائل کی کمی ایک حقیقت ہو سکتی ہے، مگر اصل مسئلہ وسائل کے مؤثر استعمال کا ہے۔ جب ترجیحات واضح نہ ہوں اور فیصلے وقتی بنیادوں پر کیے جائیں، تو نتائج بھی اسی نوعیت کے سامنے آتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں ہسپتالوں کی حالت زار، ادویات کی قلت اور طبی عملے کی کمی جیسے مسائل اب بھی جوں کے توں موجود ہیں۔ تعلیم کے میدان میں سرکاری اسکولوں کی صورتحال بھی زیادہ حوصلہ افزا نہیں، جہاں بنیادی سہولیات تک کی کمی دیکھی جا سکتی ہے۔
امن و امان کی صورتحال بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ خیبر پختونخوا ماضی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مرکز رہا ہے، اور یہاں کے عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ایسے میں حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سیکورٹی کو اولین ترجیح دے، مگر موجودہ حالات میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ توجہ دیگر امور پر زیادہ مرکوز ہے۔ جب عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو کسی بھی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔
اسمبلی اجلاس کا کرکٹ گراؤنڈ میں انعقاد اسی غیر سنجیدہ طرزِ حکمرانی کی ایک جھلک معلوم ہوتا ہے۔ اگر مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا تھا تو اس کے لیے کئی مؤثر طریقے موجود تھے، جیسے کہ جامع پالیسی سازی، قانون سازی میں بہتری اور ادارہ جاتی اصلاحات۔ مگر اس کے بجائے ایک ایسا راستہ اختیار کیا گیا جس نے نہ صرف تنقید کو جنم دیا بلکہ حکومتی سنجیدگی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے۔
یہ بھی قابل غور ہے کہ حکمرانی محض سیاسی نعروں یا وقتی اقدامات کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل اور منظم عمل ہے جس میں وژن، حکمت عملی اور عمل درآمد تینوں عناصر کا ہونا ضروری ہے۔ موجودہ حکومت میں ان عناصر کا فقدان واضح طور پر محسوس ہوتا ہے۔ فیصلے اکثر وقتی سیاسی فائدے کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دیرپا بہتری کا کوئی واضح راستہ سامنے نہیں آتا۔سہیل آفریدی کی قیادت میں اگر حکومت واقعی عوامی مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے تو اسے نمائشی اقدامات کے بجائے ٹھوس اصلاحات کی طرف توجہ دینا ہوگی۔ بیوروکریسی کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنا، ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات کو واضح کرنا، اور صحت و تعلیم جیسے شعبوں میں فوری اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا بھی اولین ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ کسی بھی ترقی کا دارومدار بنیادی طور پر امن پر ہوتا ہے۔عوام اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں وہ محض دعوؤں اور بیانات سے مطمئن نہیں ہو سکتے۔ انہیں عملی نتائج درکار ہیں، ایسے اقدامات جو ان کی روزمرہ زندگی میں بہتری لائیں۔ جب حکومت کی ترجیحات اس کے برعکس نظر آئیں تو عوامی اعتماد کا متزلزل ہونا ایک فطری ردعمل ہے۔ یہی صورتحال آج خیبر پختونخوا میں دیکھنے کو مل رہی ہے، جہاں عوامی توقعات اور حکومتی کارکردگی کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ خیبر پختونخوا میں حکمرانی کا بحران صرف انتظامی نہیں بلکہ فکری بھی ہے۔ جب قیادت اپنی ترجیحات واضح نہ کر سکے، جب پالیسی سازی کے بجائے نمائشی اقدامات کو فوقیت دی جائے، تو نظام کا بکھرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اسمبلی کا کرکٹ گراؤنڈ میں اجلاس اسی طرز فکر کی عکاسی کرتا ہے، جو وقتی توجہ تو حاصل کر سکتا ہے مگر دیرپا بہتری کا ضامن نہیں بن سکتا۔اگر یہی روش برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ صوبے کے مسائل مزید گھمبیر ہو جائیں گے اور عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوگا۔ حکمرانی ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے، اسے سنجیدگی، مستقل مزاجی اور عملی اقدامات کے ساتھ ہی نبھایا جا سکتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام اب نعروں کے بجائے نتائج چاہتے ہیں، اور یہ ذمہ داری موجودہ قیادت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس اعتماد کو بحال کرےبصورت دیگر تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ کی طرح سخت ہوگا۔