اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کے لیے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس ہوا۔
اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 ججوں کے دیگر ہائی کورٹس میں تبادلے پر غور کیا کیا گیا، ٹرانسفر کے لیے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس ثمن رفعت امتیاز، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو کے نام زیرِ غور آئے۔
اجلاس میں جسٹس بابر ستار کے خط کا بھی جائزہ لیا لیا گیا، جسٹس بابر ستار نے آرٹیکل 200 کے تحت موقف سننے کے لیے خط لکھ رکھا ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ بھی اجلاس میں شریک تھے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ستائیسویں ترمیم کے بعد کمیٹی سے ہم نے استعفیٰ دیا تھا، تحریک انصاف نے ججز ٹرانسفر پر سنجیدگی سے بات کی، ججز کا ٹرانسفر مرضی کے بغیر گزشتہ 50 سال میں کبھی نہیں ہوا، ستائیسویں ترمیم میں جج کی مرضی کی شق نکال دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جج کی مرضی کے بغیر ٹرانسفر عدلیہ پر قدغن ہے، عدلیہ پر عوام ویسے ہی بھروسہ کھو بیٹھی ہے، اگر جج کے فیصلے سے اختلاف ہے تو جوڈیشل کونسل یا ریفرنس فائل کیا جاسکتا ہے، ججز ٹرانسفر کا فیصلہ واپس لے لینا چاہیے، سارے ججز پاکستان کے جج ہیں، کمیشن سے کہیں گے ججز کے تبادلے کا معاملہ منسوخ کیا جائے، اپنے تحفظات کمیشن کے سامنے رکھیں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 4 سالوں میں اداروں کی ساکھ بہت متاثر ہوچکی ہے، موجودہ حالات میں عدلیہ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، بھارت میں 25 ہائیکورٹ ہیں، 33 سپریم کورٹ کے ججز ہیں، بھارت میں 1100 سے زائد ہائیکورٹ کے ججز ہیں، ججز ٹرانسفر کرنا ہے تو 175اے موجود ہے، ججز کو ٹرانسفر کرنے سے بہتر ہے نئے ایڈیشنل ججز لے لیں۔
ممبر جوڈیشل کمیشن علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ججز ٹرانسفر سے قبل رولز بننے چاہیے تھے، جسٹس بابر ستار نے خط میں درست مطالبہ کیا ہے۔
صحافی نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی اور چیف جسٹس پاکستان ججز ٹرانسفر کی مخالفت کے بارے میں ایک پیج پر ہیں؟
علی ظفر نے کہا کہ جی بالکل ہم چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کے مؤقف کیساتھ ہیں، بغیر وجوہات کے ججز کا ٹرانسفر نہیں ہونا چاہیے، ججز کے ٹرانسفر کی ٹھوس وجوہات ہونی چاہیں۔