مجھے حیرت ہے کہ رشید صاحب ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ہم دونوں اکثر صبح واک کرتے ہوئے مل جاتے ہیں۔ پچھلے چند دنوں سے وہ ہر بات میں ’پیزے‘ کا ذکر ضرور لاتے تھے۔مثلاً ایک دن مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ کو کون سا پیزا پسند ہے؟ میں نے جلدی سے کہا’لارج‘۔ انہوں نے گھور کر دیکھا اور دانت پیس کر بولے’میں ذائقے کی بات کر رہا ہوں‘۔ میں نے فوراً ان سے معذرت کی اور بتایا کہ مجھے سارے ہی پیزے پسند ہیں۔ اسی طرح ایک دن انہوں نے بلاوجہ یہ ذکر چھیڑ دیا کہ ہمارے بچوں کا بس چلے تو وہ تینوں وقت پیزا کھائیں۔ ابھی دو دن پہلے بات پٹرول مہنگا ہونے کی ہورہی تھی اور انہوں نے یکدم کہہ دیاکہ ’ہاں اسی وجہ سے پیزا بھی مہنگا ہوگیا ہے‘۔ ان کے منہ سے بار بار پیزے کا ذکر سن کر مجھے بہت عجیب سا لگا۔رشید صاحب لوئر مڈل کلاس کے بندے ہیں۔ 2004ماڈل کی ایک موٹر سائیکل ہے جو اکثر خراب رہتی ہے۔ ان کا گھر پارک سے دو گلیاں دور ہے لہٰذا مین سڑک سے جانے کے لیے میں اسی گلی سے گزرتاہوں۔ صبح جب ہر گھر کے باہر کچرے والی باسکٹ پڑی ہوتی ہے تو رشید صاحب کے گیٹ کے پاس باسکٹ میں روز لارج پیزے کا خالی پیکٹ پڑا ہوانظر آتاہے۔ ایسا لگتا ہے یہ لوگ پیزے کے بہت شوقین ہیں لیکن سمجھ نہیں آتی کہ مالی حالات مخدوش ہونے کے باوجود وہ روزانہ لارج پیزا کیسے افورڈ کررہے ہیں۔ گھر میں وہ واحد کمانے والے ہیں۔تین بیٹیوں کے باپ ہیں لیکن پیزے کے معاملے میں کوئی کمپرومائز نہیں۔ کل شام مجھے بھی گھر سے فون آگیا کہ واپسی پر ایک اسمال پیزا تو لیتے آئیں۔ میرے دفتر کے راستے میں چھ سات پیزا شاپس آتی ہیں۔میں نے ایک پر گاڑی روکی اور پیزے کا آرڈر دیا۔ اچانک میری نظر سڑک کی دوسری طرف پڑی جہاں رشید صاحب دس پیزے پیک کروا کے موٹر سائیکل کی سیٹ پر باند ھ رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے سارے پیزے ایک چادر سے ڈھک دیے او رموٹرسائیکل کو کک ماری۔ اسی دوران ان کا توازن تھوڑا سا خراب ہوگیا اورسارے پیزے سڑک پر گر گئے۔ ایک دم سے جیسے میراوجود سُن ہوگیا...سارے ڈبے خالی تھے۔
٭ ٭ ٭
بظاہریوں لگتا ہے جیسے ہمارے ملک میں ہر کوئی بس اپنے ہی حال میں مست ہے اور کسی کی کوئی پروا نہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ہر جگہ کچھ ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو اس تاثر کی نفی کرنے لگتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ شہر کی سڑک پر اکثر کوئی چھوٹا موٹا ایکسیڈنٹ ہوجاتاہے۔ آن کی آن میں لوگ اپنا کام چھوڑ کر حادثے کا شکار ہونے والوں کی طرف بھاگتے ہیں اور حتی الامکان مدد فراہم کرتے ہیں۔ کسی موٹرسائیکل والے کا پٹرول ختم ہوجائے تو کوئی اور موٹرسائیکل والا اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ پٹرول پمپ تک چھوڑ دیتاہے۔خواتین آج بھی کسی بس میں سوار ہوں تو کوئی نہ کوئی ان کے لیے اپنی سیٹ ضرور خالی کر دیتاہے۔بہت سے گھروں کے باہر آپ کو پانی کی سبیل لگی نظر آتی ہے۔آپ کسی ایسی جگہ بیٹھیں جہاں دو لوگ کھانا کھا رہے ہوں تو عموماً آپ کو بھی صلح کی آفر کرتے ہیں۔کوئی بچہ رش میں کھوجائے تو اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو پوری محبت سے بچے کو نہ صرف سنبھالتے ہیں بلکہ اس کے والدین کو تلاش کرنے میں مدد بھی دیتے ہیں۔میڈیکل اسٹورپر اگر کسی گاہک کے پاس پیسے پورے نہ ہوں تو دیکھئے گا کوئی نہ کوئی دوسرا ضرور پیسے ادا کرکے دعائیں لیتا نظر آئے گا۔گھروں کا دروازہ کھٹکھٹا کرکوئی پیسے مانگے تو شاید نہ ملیں لیکن روٹی مانگے تو آج بھی مل جاتی ہے۔گھریلوملازموں کی چھٹیوں کے پیسے آج بھی زیادہ تر گھروں میں نہیں کاٹے جاتے۔بچوں کو آج بھی نصیحت کی جاتی ہے کہ کسی سے لڑنا نہیں چاہئے۔خوبصورتی، رحم دلی اور احساس کے جذبات ہر جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن چونکہ ٹوٹاہوا گلاس فوری توجہ حاصل کرلیتا ہے اس لیے مجبوری ہے۔
٭ ٭ ٭
ایک ماہ پہلے میں مارکیٹ سے کچھ سامان لے رہا تھا کہ اچانک ایک میڈیکل اسٹورکے باہر لگے بینر پر نظر پڑی جس پر تحریر تھا کہ ’ہڈیوں کا پانچ ہزار والا ٹیسٹ مفت کروائیں۔‘ مجھے ہڈیوں کی اتنی فکر نہیں تھی جتنی خوشی پانچ ہزار بچنے کی تھی سو میڈیکل اسٹورمیں داخل ہوگیا۔ سامنے تین چار کرسیوں پر کچھ ڈاکٹر نما لوگ بیٹھے تھے اور اِن کے آس پاس ٹیسٹ کروانے والوں کی لائن لگی ہوئی تھی۔ میری باری آئی تو میرےبائیں پاؤں پر ایک محلول سا ملا گیا، پھر پاؤ ں ایک مشین پر رکھوایا گیا۔تھوڑی دیر بعد مشین سے ایک چٹ نکلی اور ٹیسٹ مکمل ہوگیا۔مجھے کہا گیا کہ فلاں کرسی پر ڈاکٹر صاحب بیٹھے ہیں چٹ لے کروہاں تشریف لے جائیں۔میں ڈاکٹر صاحب کے پاس پہنچا تو وہ بڑی خوشدلی سے پیش آئے۔چٹ دیکھی اور تفکر سے بتایا کہ میرے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہے۔ میں نے جلدی سے ایک برینڈ کا نام لیا کہ میں تو فلاں وٹامن ڈی کی گولیاں کھاتا رہتا ہوں۔انہوں نے تبسم فرمایا اور کہنے لگے’جو گولیاں آپ استعمال کر رہے ہیں وہ بالکل ناکارہ ہیں‘۔میں نے سہم کر پوچھا کہ اب کیا کرنا ہوگا؟ انہوں نے تسلی دی اور ایک میڈیسن لکھ کر کہا کہ یہ اِسی میڈیکل اسٹور پر دستیاب ہے اسے ایک ماہ روزانہ استعمال کریں مسئلہ حل ہوجائیگا۔ میں نے اسی وقت تیس گولیوں والی ایک ڈبی خرید لی جس کی قیمت اڑھائی ہزار تھی۔ آج مہینے بعد شہر کے دوسرے کونے پر ایک میڈیکل اسٹور پر ویسا ہی بینر تحریر دیکھا۔ کچھ سوچ کراندر گیا تو وہاں بھی لگ بھگ پہلے والا سین تھا البتہ ڈاکٹر اور باقی ٹیم مختلف تھی۔ وہی عمل دہرایا گیا۔اور وہی جواب ملا کہ آپ کے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہے۔میں نے انہیں بتایا کہ میں تو فلاں کمپنی کی گولیاں ریگولر کھارہا ہوں۔انہوں نے گہری سانس لی اور طنزیہ لہجے میں بولے’وہ بالکل ناکارہ ہیں.....“