پاکستان میں سماجی تحفظ کا نظام اگرچہ متعدد ترقی یافتہ ملکوں کی طرح مثالی نہیں مگر ایسے حالات میں کہ معیشت کی کمزوری سمیت مختلف چیلنجوں سے نبرد آزما ریاست اپنی سلامتی، قومی وقار کے تحفظ سمیت داخلی وخارجی مسائل سے نمٹنے میں مصروف رہی، شہریوں کو سماجی تحفظ دینے کا پہلو بہرطورنظر انداز نہیں ہوا۔ قدرت نے اس مملکت کو کئی بڑی کامیابیوں سے سرفراز کیا ہے اور جس خلوص، لگن اور توجہ سے ہر شعبے میں حالات بہتر بنانے کی کاوشیں کی جارہی ہیں، ان کے حوالے سے یہ کہنا قرین حقیقت ہے کہ ہم درست سمت میں گامزن ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ہر میدان میں کامیابی سے سرفراز کرے گا۔وطن عزیز میں سماجی تحفظ کا نظام مملکت کی سلامتی اورترقی کے تصور سے جڑاہوا ہےاور اپنے شہریوں کو روزگار سمیت زندگی کے مختلف مراحل میںایک حفاظتی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے جس کا مقصد یہ اعتماد قائم کرنا ہے کہ ریاست کسی مرحلے پر انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ اس ضمن میں کئی قوانین کے تحت مختلف ادارے سامنے آئے جو پوری طرح سرگرم ہیں۔ اس ضمن میں ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس کا1976کاقانون اور اس کے تحت قائم ادارہ اس اعتبار سے منفرد حیثیت کا حامل ہے کہ یہ ادارہ پاکستان میں نجی شعبے کے ملازمین کیلئے باقاعدہ پنشن اور سماجی تحفظ کا نظام فراہم کرنے کیساتھ اس بات کویقینی بناتا ہے کہ اس ضمن میں مطلوب سرمائے کی فراہمی کا ایک عملی نظام بھی سرگرم رہے۔ اس اسکیم کے پیچھے یہ بنیادی مقصد کارفرما ہے کہ صرف سرکاری ملازمین ہی نہیں، نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین بھی اپنے آجر کے ساتھ کام کرتے ہوئے صنعتوں سمیت معیشت کے پھیلاؤ اور ملکی ترقی میں موثر کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک لحاظ سے1976کا بڑھاپے کی پنشن کا قانون اور اس پر عملدآمد کا ادارہ(ای او بی آئی) ان آجروں کی خدمات کا بھی اعتراف ہے جن کی مہارت، صلاحیت اور سرمایہ کاری ملکی معیشت کو آگے بڑھانے اور لوگوں کی بڑی تعداد کوروزگار فراہم کرنے کا ذریعہ بنی ۔ ضعیف العمری میں مراعات کے ادارے کے قیام اور اس سے متعلق 1976ء کے قانون کے اطلاق کی صورت میں غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے والوں سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ جب وہ اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوں گے یا معذوری یا کسی اور مسئلے کا شکار ہوں گے تو ریاست انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہیں بھی سرکاری ملازموں کی طرح پنشن دے گی اور انکی موت کی صورت میں انکے اہل خانہ بے سہارا نہیں رہیں گے ۔ اس اسکیم کیلئے سرماے کی فراہمی اور اسے سودمند بنانے کے لیے ایسا نظام وضع کیا گیا ہے جس میں غیر سرکاری ادارے کا ملازم اپنی تنخواہ سے ایک مقررہ رقم کٹواکر ایسے وعدے، نظام، سمجھوتے کا حصہ بن جاتا ہے جس میں اجیر ،آجر اور ریاست تینوں شامل ہوجاتے ہیں۔ اس شراکتی ماڈل میں آجر اور ملازم دونوں باقاعدہ کنڑی بیوشن دیتے ہیں۔ یہ کنٹری بیوشن ایک مرکزی فنڈ میں جمع ہوتا ہے اور بعد میں پنشن کی صورت میں مستحق افراد کو واپس کیا جاتا ہے۔ اس طرح ای او بی آئی محض ایک امدادی اسکیم نہیں بلکہ قانونی حق پر مبنی نظام ہے جو ملازمت کے دوران کی گئی شراکت کا نتیجہ ہے۔
اس نظام کے عملی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو یہ مسئلہ سامنے آتا ہے کہ ای او بی آئی کے تحت پنشن کی صورت میں ملنے والی رقم مہنگائی کی صورت حال سے ہم آہنگ نہیں۔ روزمرہ اشیا اور خدمات کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مقررہ پنشن کی عملی قدر کم محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی وہ چیلنج ہے جو ای او بی آئی جیسے نظاموں کو مسلسل درپیش رہتا ہے اور اس وقت بھی درپیش ہے۔ ایک طرف ادارے کے پاس اربوں روپے کے وسائل موجود ہیں۔ اس بڑی رقم کا ایک مناسب حصہ ایسے کاروبار میں لگایا جاتا ہے جس میں نقصان کا امکان کم ہوتا ہے، اس طرح یہ رقم بڑھتی رہتی ہے مگر پنشن کی رقم محدود ہے۔جن لوگوں نے اپنی ملازمت کے دوران اپنی تنخواہوں میں سے حکومت کے مقرر کردہ قانون کے تحت رقم کٹوائی تھی، انکی یہ توقعات غیر حقیقی نہیں تھیں کہ اتنے برسوں تک رقم کی ادائیگی کے بعد انہیں ضعیف العمری میں ہر ماہ جو رقم ملے گی وہ انکی بنیادی ضروریات کیلئے کافی ہوگی اورافراط زر کے اثرات سے انہیں بچانے کا ذریعہ بنے گی مگر عملی صورت حال یہ ہے کہ حکومتی سطح پر ان کے لیے جو ماہانہ رقم مقرر کی جاتی ہے، وہ انکی بنیادی ضروریات کیلئے ہی ناکافی ہوتی ہے۔اب کارکنوںکی تنخواہوں سے کٹنے اور آجروں کی طرف سے دی گئی رقم ایک ادارے کے پاس امانت ہے تو یہ بات محسوس کی جانی چاہیے کہ یہ کارکنوں کی اپنی رقم ہے جو انہیں واپس مل رہی ہے۔ انکی پنشن کو عطیہ، امداد یا خیرات نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اگر یہ نظام اپنے مقصد کو پورا نہیں کررہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں اس میں کمزوری موجودہے۔ اس کمزوری کو دور کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں ایسی اصلاحات کی جانی چا ہئیں جن کے تحت ای او بی آئی پنشن مہنگائی کی صورت حال کا سامنا کرنے کے قابل ہو۔اچھا ہوکہ EOBI کارڈ ہولڈرز کو علاج معالجےکی سہولتیں دی جائیں۔ اس مقصد کیلئے نئے اسپتال نہیں بنائے جاسکتے تو پرانے سرکاری اسپتالوں میں الگ کاؤنٹرز کے ذریعے ان ضعیف العمر افراد کو ترجیحی سہولت دی جاسکتی ہے۔ بینکوں، ڈاک خانوں، سرکاری محکموں میں طویل انتظار کی کیفیت سے بچانے کی تدابیر کی جانی چاہئیں۔ سفر کی سہولتیں رعایت کے ساتھ دی جائیں اور یہ بات ہر دم پیش نظر رکھی جائے کہ EOBI محض ایک ادارہ نہیں، محنت کش طبقے سے کیا گیا ایک وعدہ ہے۔ اس طبقے کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔