• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زمانہ کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ کچھ ادوار اپنی آہٹ میں ایسی کربناک صدائیں سمیٹ لاتےہیں کہ انسان جن کےباعث افسردہ ہونےلگتاہے۔ وطن عزیز کی موجودہ معاشی فضا عام آدمی کےلیےگویا دل گرفتہ داستان رقم کر رہی ہے۔ایک ایسی حکایت جس میں محض اعداد و شمار کی بےجان سطورنہیں بلکہ انسانوں کی دھڑکتی ہوئی زندگیاں، بجھتے ہوئے چراغ اور امید کے لرزاں سائے شامل ہیں۔

بازاروں کی چہل پہل کے پس منظر میں ایک انجانا سا سناٹا سانس لیتا محسوس ہوتا ہے۔ دکانیں آباد ہیں، اشیاء وافر ہیں۔خریدار کی جیب میں وہ کشادگی باقی نہیں رہی جو کبھی اس کے چہرے پر اطمینان کی ایک نرم سی روشنی بن کر جھلکتی تھی۔ کسی مزدور کےلیےآٹے کی بوری اب صرف ایک ضرورت نہیں سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ چینی کی مٹھاس میں تلخی کا ذائقہ گھل گیا ہے اور گھی کی خوشبومیں سے وہ مانوس اپنائیت تحلیل ہو چکی ہے جو کبھی گھروں کے چولہوں سے اُٹھ کر فضا میں گھل جایا کرتی تھی۔

یہ مہنگائی کا معاملہ نہیں۔ انسانی وقار کی خاموش نیلامی کا منظرنامہ ہے۔ایک باپ اپنی استطاعت کے دائرے میں سمٹ کر بچوں کی خواہشات کے سامنے خاموش ہو جائےتو یہ معاشی تنگی نہیں رہتی۔ یہ تہذیب کے ماتھے پر ایک دھندلا سا داغ بن جاتی ہے۔ایوانِ اقتدار میں فیصلوں کی بساط بچھتی ہے، اعداد و شمار کے جال بُنے جاتے ہیں اور ہر نئی صبح عوام کے لیے ایک نئے بوجھ کی صورت طلوع ہوتی ہے۔

ٹیکسوں کا سلسلہ کبھی بجلی ،گیس ، واسااورصاف ستھرا پنجاب کے بلوں میں اپنا عکس دکھاتا ہے، کبھی پٹرول کی قیمتوں میں اور اب یہ اندیشہ بھی سر اٹھا رہا ہے کہ سورج کی بے لوث روشنی کو قید کرنے والے آلات یعنی سولر پینلز بھی اس مالیاتی شکنجے کی زد میں آ سکتے ہیں۔کیا ہی عجیب منظر ہے! وہ سورج، جو صدیوں سے بلا امتیاز روشنی اور حرارت بانٹتا آیا ہےاب اس کی کرنوں پر بھی محصول کی دبیز پرچھائیاں ڈالنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ لوگ اپنی جمع پونجی سے سولر سسٹم نصب کرتے ہیں۔اس امید کے ساتھ کہ وہ مہنگی بجلی کے عذاب سے کچھ نجات پا سکیں گے۔ اگر اس خود انحصاری کی کوشش کو بھی ٹیکس کے بوجھ تلے دبا دیا جائے تو یہ پالیسی نہیں رہتی۔ ایک ایسا رویہ بن جاتا ہے جو ہر مثبت اقدام کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔

دیہات ومضافات کا منظر اس سے بھی زیادہ دلگداز ہے۔ زمین جو کبھی زندگی کی علامت تھی اب تھکن کا استعارہ بنتی جا رہی ہے۔ کسان جو مٹی کے سینے سے رزق کشید کرتا ہےوہ خود رزق کی تنگی میں مبتلا ہے۔ کھاد کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے، بیج نایاب ہیں، پانی کم ہے اور بجلی بے رحم۔ یہ سب عوامل مل کر اس کے ہاتھوں کی لکیروں کو بھی مدھم کر دیتے ہیں۔ کسان کبھی فصلوں کی ہریالی میں اپنے خواب سجاتا تھا اب خشک زمین پر اپنے مقدر کی دراڑیں گننے پر مجبور ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ گویا ایسا خاموش طوفان ہے جو زندگی کے ہر گوشے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اشیائے خور و نوش کی ترسیل متاثر ہوتی ہے اور یوں مہنگائی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس کی کوئی واضح انتہا نظر نہیں آتی۔ عوام کے لبوں پر یہ جملہ بار بار آتا ہے کہ شاید جنگ زدہ علاقوں میں بھی حالات اس قدر سنگین نہ ہوں یہ صرف ایک تقابل نہیں بلکہ ایک اجتماعی بے بسی کی گونج ہے۔حکومتی مؤقف اپنی جگہ معتبر سہی، عالمی دباؤ اپنی جگہ ایک حقیقت ہےلیکن سوال پھر بھی قائم ہے کہ اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے ہمیشہ ایک ہی طبقہ کیوں منتخب کیا جاتا ہے؟اگر حکومت چاہے تو اپنے فیصلوں میں اعتدال لا سکتی ہے، ٹیکس کے نظام کو منصفانہ بنایاجاسکتا ہے۔اسی طرح غیر ضروری اخراجات کو کم کر کے عوام کو یہ باور کرایاجاسکتاہے کہ وہ اس نظام کا حصہ ہیں اورقطعی طورپراس کے بوجھ کا واحد ہدف نہیں۔

سولر توانائی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، اس پر قدغن لگانا نہیں۔ کسان کو سہارا دینا دراصل قومی معیشت کو استحکام دینا ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں توازن قائم رکھنا صرف ایک معاشی حکمتِ عملی نہیں ایک سماجی تقاضا ہے۔بلاشبہ یہ قوم آزمائشوں سے گزر کر سنورنے کا حوصلہ اوران اچھےدنوں کی امید بھی رکھتی ہے کہ جب سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ افق پر نمودار ہوگا تو اس کی کرنیں روشنی ہی نہیں بلکہ امید، سکون اور خوشحالی کا پیغام بھی ساتھ لائیں گی۔اسی طرح دشتِ معیشت میں پھر سے زندگی کی ہریالی لہلہانے لگے گی۔

تازہ ترین