• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج اکیسویں صدی کے جدید دور کی عالمی معیشت میں توانائی، خصوصاً تیل، بنیادی حیثیت رکھتا ہے، تیل کی قیمتوں میں معمولی ردوبدل بھی عالمی مالیاتی نظام، تجارت، صنعت اور عام آدمی کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے،ایک ایسے وقت میں جب دنیا کا ہر ملک ایران جنگ کی وجہ سے تیل کے بحران کا سامنا کررہا ہے، متحدہ عرب امارات نے پیٹرولیم ایکسپورٹ کرنے والے ممالک کے حکومتی اتحاد اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کرکے تیل کی عالمی منڈیوں میں ایک نیا بھونچال برپا کردیا ہے، حالیہ پیش رفت نے نہ صرف عالمی توانائی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اسکے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہونے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ تاریخی طور پرتیل ایکسپورٹ کرنے والے ممالک کے مابین اوپیک اتحاد 1960 میں قائم ہوا جسکابنیادی مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلئے تیل کی پیداوار کا کوٹہ مقرر کرنا تھا، اوپیک ممبران میں سعودی عرب، ایران، ونیزویلا، کویت اور متحدہ عرب امارات کا شمار اہم ترین ممبران میں کیا جاتا ہے ، تاہم 2016ء میں روس، آذربائیجان، قازقستان، میکسیکو، عمان، بحرین اور ملائشیا وغیرہ کی شمولیت سے اوپیک پلس کا پلیٹ فارم تیل کی عالمی سیاست کا مرکز بن گیا، مذکورہ اتحاد کے ممالک دنیا کا چالیس فیصد سے زیادہ تیل پیدا کرتے ہیں جبکہ اسی فیصد سے زیادہ تیل کے ذخائر پر بھی انہی اوپیک ممالک کا کنٹرول ہے۔ اوپیک کا ہیڈکوارٹر آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں قائم ہے، تاہم اسکی غیررسمی قیادت سعودی عرب کے پاس سمجھی جاتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جب متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی سے اس اہم فیصلے پر سعودی عرب یا دیگر اتحادی ممالک سے مشاورت کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ یہ مکمل طور پر یو اے ای کا اپنا فیصلہ ہے اور اس کیلئے کسی دوسرے ملک سے مشورہ نہیں کیا گیا۔اماراتی حکام کے مطابق لگ بھگ ساٹھ سال بعد اوپیک اتحاد سےعلیحدگی کا مقصد عالمی منڈی میں متحدہ عرب امارات کو ایک ذمہ دار، خودمختار اور قابلِ اعتماد تیل ایکسپورٹ کرنے والے ملک کے طورپر منوانا ہے، اوپیک اتحاد کی وجہ سے امارات کو دیگر ممبران ممالک کی مانند ایک مخصوص کوٹے کے تحت تیل پیدا کرنا پڑتا تھا تاکہ عالمی منڈی میں ڈیمانڈ اور سپلائی کا توازن برقراررہ سکے۔ عالمی میڈیا میں کچھ ایسی خبریں بھی منظرعام پر آئی ہیں کہ یو اے ای گزشتہ چند برسوں میں اپنی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے، اماراتی حکام کی خواہش ہے کہ زیادہ زرمبادلہ کمانے کیلئے زیادہ تیل ایکسپورٹ کیا جائے،اس حوالے سے یو اے ای نے آئندہ برس 2027 تک یومیہ پانچ ملین بیرل تیل پیدا کرنے کا ہدف پہلے ہی مقرر کررکھاہے،تاہم اوپیک کا طے شدہ کوٹہ سسٹم متحدہ عرب امارات کے عزائم میں حائل تھا، اوپیک سے علیحدگی کے بعد اب یو اے ای کسی قسم کےکوٹہ سسٹم کے تحت اپنی تیل کی پیداوار کو محدود کرنے کا پابند نہیں ہوگا۔اگرچہ یو اے ای کا سرکاری موقف یہی ہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اس سے اوپیک یا اوپیک پلس کے دیگر ممالک پر فوری طور پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ اسکے طویل مدتی اثرات نہ صرف عالمی تیل منڈی پرمرتب ہونگے بلکہ اب خطے میں نئی صف بندیوں میں تیزی آئے گی۔ یو اے ای کا شمار مشرق وسطیٰ کی مضبوط ترین معیشتوں میں ہوتا ہے ، یو اے ای کے اوپیک کو خیرباد کہہ دینے سے تیل کی قیمتوں میں غیریقینی حد تک اُتار چڑھاؤ متوقع ہے، اگر عالمی منڈی میں اماراتی تیل زیادہ مقدار میں آجاتا ہے تو قیمت میں کمی ہوسکتی ہے جبکہ جغرافیائی کشیدگی قیمتوں کو اُوپر لے جا سکتی ہے، اماراتی حکام اب اپنی مرضی سے اپنی شرائط پر ایشیائی اور دیگر ممالک کے ساتھ براہ راست معاہدے کر سکتے ہیں۔ تاہم یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ متحدہ عرب امارات کی عالمی تجارت کا بڑا دارومدار آبنائے ہُرمز پر ہے ، جسکی حالیہ بندش نےامارات کی سپلائی چین کو بھی شدیدمتاثر کیا ہے،انہی خطرات کے پیش نظر یو اے ای نےفجیرہ پورٹ کو ایک اہم متبادل بندرگاہ کے طور پر تیار کیا ہے، جو آبنائے ہرمز کی حدودسے باہر واقع ہے،ابوظہبی فجیرہ پائپ لائن خلیج فارس کے اندر سے تیل کو براہ راست فجیرہ تک پہنچاتی ہےجس سے ہرمز پر انحصار کم ضرور ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر ختم نہیں۔ ماضی میں یو اے ای کے سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات بہت زیادہ قریبی جبکہ قطر کے ساتھ کشیدگی کا شکار رہے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ کا علاقائی منظر نامہ اتنی تیزی سے تبدیل ہواہے کہ اب مشترکہ مفادات کا حصول امارات اور قطرکو ایک دوسرے کے قریب لے آیا ہے، قطر کی جغرافیائی حیثیت ایسی ہے کہ اسکی بحری تجارت بھی بڑی حد تک آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ قطر بھی امارات کے ساتھ تعاون بڑھاتے ہوئے سمندری گزرگاہوں کے تحفظ اور متبادل راستوں میں دلچسپی رکھتا ہے، دوسری طرف عالمی میڈیا میں ایسی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ آیا اوپیک سے علیحدگی کا اماراتی فیصلہ خطے میں جاری ایران کشیدگی کے تناظر میں اُٹھایا گیا ہے یا پھریہ اوپیک کے بااثر ترین ممبر سعودی عرب سےمبینہ ناراضی کا اظہارہے؟تاہم اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ یو اے ای کا اوپیک سے نکلنا عالمی توانائی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے، اس فیصلے سے جہاں امارات کو اپنی معیشت کے استحکام اور توانائی پالیسی کو خودمختارانہ انداز میں آگے بڑھانے میں مدد ملے گی، وہیں عالمی تیل منڈی میں غیر یقینی صورتحال میں بھی اضافہ ہوگا جبکہ ایران امریکہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش اور خلیجی سیاست میں اہم تبدیلیاں اس بحران کو مزید پیچیدہ کرسکتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے،ایسے میں توانائی کے معاملات مزید حساس ہو جائیں گے، امارات کے نقش قدم پر مزید ممالک بھی اوپیک کو خیرباد کہہ سکتے ہیں، تیل کی سپلائی کے نئے راستے اور نئے تجارتی معاہدے طے پاسکتے ہیں جس سے عالمی تجارت کا توازن یکسر بدل سکتا ہے۔پاکستان جیسے ممالک کیلئے یہ نازک صورتحال ایک چیلنج بھی ہے اور موقع بھی کہ ہم اپنی توانائی پالیسی کو جدید خطوط پر استوار کریں،اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیےتوہمارے خطے میں ہونے والی یہ تبدیلیاں ہماری معیشت کو کسی نئے بحران سے دوچار کرسکتی ہیں۔

تازہ ترین