• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کمبوڈیا میں پاکستانی قیدیوں کے معاملے پر اجلاس، بریفنگ میں اہم انکشافات

کمبوڈیا میں قید پاکستانیوں کے حوالے سے اجلاس ہوا ہے جس میں پاکستانیوں کے بیرون ملک جانے اور ان کے ساتھ اپنوں کی جانب سے ہی دھوکہ دہی جیسے سنگین واقعات سے متعلق انکشاف ہوا ہے۔ 

اجلاس کے دوران وزارت داخلہ حکام نے بتایا کہ ایک سال میں قیدیوں کے تبادلے کے تحت دنیا سے 20 پاکستانی واپس بلوائے ہیں۔

حکام وزارت داخلہ نے بتایا کہ تھائی لینڈ سے 6 پاکستانی قیدی تبادلے کے تحت واپس آرہے ہیں۔

امیگریشن حکام کا کہنا تھا کہ جو پاکستانی جاتے ہیں، ان میں زیادہ تر کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ غیرقانونی کام کیلئے جارہے ہیں۔

اجلاس کے دوران صبا صادق کا کہنا تھا کہ میں کمبوڈیا کا دورہ کرنا چاہ رہی ہوں، وہاں قید پاکستانیوں سے ملنا چاہوں گی۔ یوکے میں بہت زیادہ غیرقانونی کیسز کا معاملہ ہے۔ سعودی عرب میں پاکستانی بزرگ دھوکہ دہی کے باعث منشیات کیس میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔

کمبوڈیا میں پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ کمبوڈیا حکومت کا 2025 سے آن لائن اسکیم کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ انہوں نے دو تین صوبے بالکل صاف کردیے ہیں، ابھی مزید کریک ڈاؤن ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ایسے مزید واقعات پھر سامنے آئیں گے، کچھ لوگ ایسے تھے جنہوں نے کمپنیاں تبدیل کیں۔ وہ ایک اسکیم کمپنی سے نکل کر دوسری اسکیم کمپنی میں اپنی مرضی سے گئے۔

پاکستانی سفیر کا کہنا تاھ کہ ان سے بات کریں تو وہ کہتے ہیں ہم سارے وکٹم ہیں، یہاں اب بھی سوشل میڈیا پر ایسی مہم چلتی ہیں کہ نوکری کے لیے آجاؤ۔ ہمارے لوگوں نے اپنوں کو بیچا ہے۔ اسے واقعات ہیں کہ کزنز نے کزنز کو بیچا۔ دوست نے دوست کو بیچا۔

صبا صادق نے پوچھا کہ اب کیا ان کیسز میں کمی آئی ہے؟ جس پر سفیر پاکستان نے جواب دیا کہ جی اب ان واقعات میں بہت کمی آئی ہے۔

صبا صادق کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس ٹکٹ کے پیسے نہیں تو مجھے آگاہ کریں، میں اس کے پیسے ارینج کروں گی۔ بیرون ملک اسکیم میں ملوث ہوجانے والے افراد کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ والدین بچوں کو بیرون ملک بھیجنے سے قبل تحقیق کریں۔

وزارت داخلہ حکام نے کہا کہ تعداد بڑھتی جارہی ہے، ایک کو ٹکٹ دیں تو پھر باقی بھی مانگ لیتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید