صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ نے حکومت پاکستان سے مغویوں کی بازیابی میں پیش رفت سامنے نہ آنے کا شکوہ کرتے ہوئے فوکل پرسن مقرر کرنے کا مطالبہ کردیا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان افراد کا کہنا تھا کہ مغویوں سے 21 اپریل کے بعد سے باقاعدہ رابطہ نہیں ہو رہا۔ مغوی سیکنڈ افسر کاشف اور کچھ لوگوں سے رابطہ ہوا ہے۔
اہل خانہ کے مطابق حکومتی اقدامات سے اہلخانہ کو باقاعدہ آگاہ نہیں کیا جارہا، یہ کسی ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ سب کی زندگیوں کا مسئلہ ہے۔
ایک مغوی حسن یوسف کے بھانجے نے کہا کہ میرے ماموں یرغمال ہیں، حکومت نے اقدامات نہیں کیے، یرغمالیوں کو واپس لانے کے لیے کمیٹی یا کمیشن بنایا جائے۔
مغویوں کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر بارہا رابطہ کرنے کے باوجود کوئی جواب یا پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ وفاقی حکومت اس معاملے پر فوکل پرسن مقرر کرے جو متاثرہ خاندان کے ساتھ رابطے میں رہے۔
یر غمال پاکستانیوں میں کاشف عمر، حسین یوسف، انجینئر محمود احمد، عثمان غنی فورتھ انجینئر، عقیل خان، محمد یسین، عمران علی، رفیع اللّٰہ خان، یاسر خان اور امین بن شمس شامل ہیں۔