امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے بات چیت ہورہی ہے مگر آگے نہیں بڑھ رہی، ایران کی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں، نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں۔
صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ وہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہبازشریف کی بہت عزت کرتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران ہم سے ڈیل کرنا چاہتا ہے، ایران کی قیادت تقسیم ہوچکی ہے، میں نہیں چاہتا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو دنیا کوآج زیادہ خطرہ ہوتا، ایران کی قیادت میں کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ، ایران کی موجودہ قیادت الجھن کا شکار ہے، ایران کی نیوی، فضائیہ سب کچھ تباہ ہوچکا ہے، ایرانیوں کو یہ بھی آئیڈیا نہیں کہ ان کی قیادت کس کے پاس ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں ہم نے کامیابی حاصل کی ، ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں ہم نے کامیابی حاصل کی، ایران سے مذاکرات جاری ہیں، یقین نہیں کسی نتیجے پر پہنچ سکیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں، انہیں تباہ کر دیں یا معاہدہ کر لیں، ایران کے ساتھ ٹیلی فون کے ذریعے مذاکرات کر رہے ہیں، ایران ایسی چیزیں مانگ رہا ہے جن سے میں اتفاق نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اٹلی اور اسپین سے خوش نہیں ہوں، جنگ ختم ہوگی تو تیل، گیس کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ جائیں گی، ممکنہ طور پر فرانس میں جی 7 سربراہی اجلاس میں شرکت کر سکتا ہوں۔